الخميس، 01 صَفر 1448| 2026/07/16
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

امریکہ-مراکش دفاعی روڈ میپ 2026-2036

اس کا مقصد مراکش کو امریکی استعمار کے تحفظ کے لیے ایک اڈے میں تبدیل کرنا ہے!

 

تحریر:استاد مناجی محمد

 

(ترجمہ)

 

 

ایک نئے امریکی بل (نمبر S.4784) کے مندرجات، جو کہ مالی سال 2027کے دفاعی بجٹ کے قانون کا حصہ ہے، واشنگٹن کے اس ارادے کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ 2026سے 2036کے دوران رباط کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک بنانا چاہتا ہے۔ قانونی متن میں اسے "دفاعی تعاون کے لیے امریکہ-مراکش روڈ میپ" کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے 16اپریل 2026کو واشنگٹن میں مراکش کے ساتھ ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جسے "فوجی تعاون کا روڈ میپ" کہا گیا تھا اور یہ 2036تک محیط ہے۔ اپریل کے اس معاہدے نے مراکش کے حوالے سے امریکہ کے اسٹریٹجک سیکیورٹی وژن کا ایک خاکہ پیش کر دیا تھا، جبکہ موجودہ بل کا مقصد اس وژن کو امریکہ کے لیے ایک طویل مدتی قانونی سیکیورٹی عہد میں تبدیل کرنا ہے۔ مزید برآں، یہ ان حقائق کو بھی بے نقاب کرتا ہے جن کا اپریل کے معاہدے میں مکمل طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بل عملی اقدامات کے ذریعے مراکش کو مغربی بحیرہ روم، ساحل کے خطے اور افریقہ کی گہرائی میں امریکی غلبے اور استعمار کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانے کی بنیاد رکھ رہا ہے، جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

 

  • علاقائی استحکام کو بڑھانے اور بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تیاری کو بہتر بنانے کی آڑ میں مراکش کے اندر حفاظتی مراکز (Security Sites) کا قیام۔
  • دہشت گردی (اسلام) کے خلاف جنگ میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور امریکہ، مراکش اور خطے کو لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک روڈ میپ کی تیاری۔
  • ان اسٹریٹجک فضائی رن ویز (Air Strips) کی بحالی کے لیے اخراجات کی تقسیم کے فارمولے کی منظوری جو امریکہ ماضی میں استعمال کر چکا ہے (یعنی 1950کی دہائی کے فضائی اڈوں کی دوبارہ بحالی؛ سیدی سلیمان، بن جریر اور النواصر)۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی دفاعی ساز و سامان کی خریداری اور کثیر الجہتی تربیتی و آزمائشی مرکز کے قیام کے ذریعے مراکشی مسلح افواج کی جدید کاری میں تعاون کرنا۔
  • دوطرفہ اور کثیر جہتی فوجی مشقوں، جیسے کہ "افریقی شیر" (African Lion) کے دائرہ کار اور حجم میں اضافہ کرنا، تاکہ اس میں سائبر سیکیورٹی، ڈرون طیاروں کے آپریشنز اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت، زیرِ آب ٹیکنالوجیز، ہائبرڈ جنگوں کا توڑ، اور اہم بنیادی ڈھانچے، رسد کی فراہمی (سپلائی چین) اور فوجی نقل و حرکت کے تحفظ جیسے شعبوں کو شامل کیا جا سکے۔

دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے تعاون میں مصنوعی ذہانت (AI) اور فوجی شعبے میں خودکار صلاحیتوں (Autonomous capabilities) کے استعمال سے متعلق پیش رفت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، جو کہ جدید جنگی طریقوں میں آنے والی تبدیلیوں اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے تناظر میں ہے۔ لہٰذا، یہ قانونی مسودہ اور معاہدہ محض گزشتہ معاہدوں کی محض کوئی تکنیکی توسیع نہیں ہے، بلکہ یہ امریکی بالادستی کے لیے ایک نازک اسٹریٹجک مرحلے پر ایک نیا امریکی اسٹریٹجک سیکیورٹی فریم ورک ہے، جس کا مقصد مراکش کو اس کے غیر معمولی جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے مغربی بحیرہ روم میں امریکہ کے اسٹریٹجک سیکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بنانا ہے (کیونکہ مراکش تین بڑے اور اہم اسٹریٹجک حلقوں یعنی بحرِ اوقیانوس، بحیرہ روم اور افریقہ کا سنگم ہے، اور آبنائے جبرالٹر کے جنوبی داخلی راستے پر کنٹرول رکھتا ہے جو کہ لاجسٹک، فوجی نقل و حرکت، تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے)۔

 

لیکن مراکش کا سیکیورٹی فریم ورک اور اس کی اسٹریٹجک حیثیت صرف جغرافیائی محلِ وقوع تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ اسے "مغربِ اسلامی" (شمالی افریقہ) پر اپنا تسلط جمانے اور وہاں کے اسلامی منصوبے کا راستہ روکنے کے لیے ایک اڈے اور لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، تاکہ اسے آبنائے جبرالٹر کے ذریعے شمالی بحیرہ روم (یورپ) پر اثر و رسوخ اور کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک دروازے کے طور پر استعمال کیا جا سکے، اور ساتھ ہی ساتھ ساحل اور افریقہ کی گہرائی میں اپنے استعماری اثر و رسوخ کو بھی منظم کیا جا سکے۔

عراق اور افغانستان میں ہونے والی مہنگی ناکامیوں نے امریکہ کو اپنی اسٹریٹجک عقیدے (Doctrine) پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے؛ اب براہِ راست قبضے اور بڑے فوجی اڈوں کے ذریعے تسلط قائم کرنے کے بجائے، وہ تسلط کے ایک ایسے نئے انداز کی طرف منتقل ہو گیا ہے جو علاقائی مراکز اور ایسی مقامی آلہ کار حکومتوں  پر منحصر ہے جو اس کے سیکیورٹی، اسٹریٹجک اور انٹیلی جنس اثر و رسوخ کا پھیلاؤ بنیں، جبکہ امریکی تسلط کے تمام اخراجات اور بوجھ بھی یہی حکومتیں خود اٹھائیں۔

 

ایران کے ساتھ کشیدگی اور امریکہ کی مشکلات کی وجہ سے امریکہ کا سیکیورٹی مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے اور اسے اپنے امریکی معاونت اور دفاعی نظام  کے لیے علاقائی ستونوں کی شدید اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ مراکش اور اس کا آلہ کار نظام اپنی غیر معمولی جغرافیہ اور اسٹریٹجک وسائل کی وجہ سے امریکہ کی اس ضرورت کو پورا کرتا ہے (مثلاً ساحل اور افریقہ میں اس کی تہذیبی و تاریخی جڑیں، یورپ کی طرف کھلنے والی کھڑکی، اسلام کے خلاف جنگ میں مکمل شمولیت، ایک منظم اور جنگی تجربہ رکھنے والی فوج، انٹیلی جنس ادارے اور تجربہ، واشنگٹن کے ساتھ گہرا سیکیورٹی تعاون، اسٹریٹجک معدنیات اور کانیں، سیکیورٹی مراکز اور پوائنٹس، بندرگاہیں، ہوائی اڈے اور متنوع جغرافیہ وغیرہ)۔ یہ سب امریکہ کو تین براعظموں کے درمیان تجارت، توانائی، فوجی نقل و حرکت، لاجسٹک سپلائی، اور انٹیلی جنس و سائبر میدان میں کنٹرول اور بالادستی فراہم کرتا ہے، جس میں عالمِ اسلام کا وہ جغرافیہ بھی شامل ہے جو کہ انتہائی اہم اور حساس ہے۔

 

پس "امریکہ-مراکش دفاعی تعاون کا روڈ میپ" کا قانونی مسودہ دراصل مراکش کو مغربی بحیرہ روم میں اپنا حفاظتی پلیٹ فارم اور اسٹریٹجک اڈہ بنانے کا امریکی منصوبہ ہے، تاکہ مسلسل بحرانوں کے بعد وہ اپنی بالادستی کو سہارا دے سکے اور اپنی اسٹریٹجک گہرائی میں اضافہ کر سکے، اور اس سلسلے میں (مراکش کے زیرِ انتظام) صحارا پر مراکش کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کا جال اور مراکش میں حکمرانی کی کمزوری اور خلا مددگار عوامل ثابت ہوئے۔ یہ دراصل سیاسی غلامی کے پیش خیمہ کے طور پر اسٹریٹجک تابعداری اور انحصار کے بیج بونے کا امریکی منصوبہ ہے؛ امریکہ کا یہ منصوبہ نہ صرف مراکش میں اقتدار کی بنیاد یعنی فوج میں نفوذ کرنا چاہتا ہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اس کے فوجی نظریے، تنظیمی ڈھانچے، اسٹریٹجک منصوبہ بندی، اسلحہ، وسائل اور حفاظتی اداروں کو اپنے سیکیورٹی ڈھانچے میں ضم کر کے ان پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔

 

یہ سب امریکی کمانڈ سسٹم کے ذریعے رابطوں اور ہم آہنگی کو وسیع اور تیز کر کے، اور خود امریکی فوجی نظریے اور سیکیورٹی فلسفے کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے، جس میں امریکی ٹیکنالوجی اور اسلحہ پر بڑھتا ہوا انحصار بھی شامل ہے (مراکش افریقہ میں امریکی اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک میں سرِ فہرست ہے، جس میں فالکن اور ایف-16طیارے اور ان کے اسپیئر پارٹس، گولہ بارود اور اپ گریڈیشن شامل ہیں)۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ امریکہ کے پاس ان کے آپریٹنگ سسٹمز اور تکنیکی و اسٹریٹجک ڈیٹا کا کنٹرول ہے، مزید یہ کہ جدید امریکی آلات اور ٹیکنالوجی (جیسے ریڈار، مختلف جنگی نیٹ ورکس کو جوڑنے والا "لنک-16" سسٹم اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی) کے ساتھ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کا گہرا تعلق ہے، جس کی نگرانی خصوصی طور پر امریکی کمانڈ آپریشنل کنٹرول پروٹوکول کے ذریعے کرتی ہے۔

 

اس کے بعد امریکی ڈرون طیارے اور ان کے کنٹرول پلیٹ فارمز آتے ہیں، اور پھر امریکی کمانڈ کی نگرانی میں ہونے والی شدید تربیتی مشقیں اور متواتر وسیع فوجی مشقیں آتی ہیں، جو نشانہ بنائے گئے ملک کی فوج کے فوجی نظریے کی ازسرِ نو تشکیل کرتی ہیں، جس میں سیکیورٹی کے فلسفے، مقصد اور غایت کا ازسرِ نو تعین کیا جاتا ہے، اور خطرے، خطرات، دشمن اور دوست کی نئی تعریفیں کی جاتی ہیں۔ یہیں سے فوجی نظریے پر قبضہ اور اس کی جگہ متبادل نظریہ لانے کا عمل مکمل ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں اقتدار کی بنیاد (فوج) اپنے نظریے، آلات، اسلحہ، منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لحاظ سے امریکی کمانڈ کے زیرِ انتظام آ جاتی ہے۔ یوں امن و جنگ کا فیصلہ امریکہ کا یرغمال بن جاتا ہے، فوج امریکہ کی یرغمال بن جاتی ہے، اور یہ صورتحال اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک کہ یہ اپنے حتمی مقصد یعنی امریکی استعمار کی سیاسی غلامی تک نہ پہنچ جائے۔ یہ وہ صلہ ہے جو ان غدار اور شرمناک حکومتوں نے ہمیں دیا ہے۔ انہوں نے ہمارے ملک، ہماری دولت، ہمارے غیر معمولی جغرافیائی مقامات اور ہماری عظیم فوجوں کو کافر مغرب کی خدمت کا آلہ کار اور ہمارے اور ہمارے ملک کے لیے ایک عذاب بنا دیا ہے!

 

 

 

Last modified onبدھ, 15 جولائی 2026 16:57

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک