الخميس، 25 جمادى الأولى 1448| 2026/11/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

پریس ریلیز ایک ناکام حکومت کے پاس ٹریژری بل ، سرمایہ کاری کے سرٹیفیکٹ جاری کرنے اور  لوگوں کا مال ہڑپ کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں

مصر کے مرکزی بنک نے جمعرات11دسمبر2014 کو وزارت مالیات کی جانب سے 7 ارب مصری پونڈ کی قیمت کے ٹریژری بل پیش کیے تا کہ 789 ارب جنیہ( مصری پونڈ) کے عمومی قو می بجٹ میں سے 240 ارب کے بڑے خسارے کو پورا کیا جاسکے۔ پروگرام کے مطابق مرکزی بنک 3 ارب کے ٹریژری بل 182 دنوں کے لیے جب مزید 4 ارب 364 دنوں کے لئےکی جاری کرے گا جن کی تاریخ اجراء 11دسمبر2014 ہو گی۔

بات یہاں ہی ختم نہیں ہو گی جو بلاشبہ ایک بڑےمعاشی بحران کا پیش خیمہ ہے بلکہ وزارت مالیات رواں مالیاتی سال کے دوسرے چوتھائی میں214.5 ارب جنیہ کی قیمت کے ٹریژری بل اور بانڈ جاری کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ نئے سال کے دوران ٹریژری بلوں پر سودی منافع 61 ارب جنیہ تک پہنچنے کی توقع کی جارہی ہے جبکہ ٹریژری بانڈز کے منافع61.6 ارب جنیہ تک ہو سکتے ہیں. سوئس کنال سرمایہ کاری سرٹیفکیٹ کو ہم ابھی تک نہیں بھولے جس کے ذریعے 12 فیصد کے منافع کے حساب سے 60 ارب جنیہ جمع کیا گیا جن کے منافع کی پہلے قسط کو بھی جو کہ 1.9 ارب جنیہ ہے آج تک ادا نہیں کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سود ہے اور سوئس کنال کے پروجیکٹ سے منافع آنے سے پہلے ریاست اس کو ادا کرنے کی ذمہ دار ہے کیونکہ سوئس کنال کے معاشی اثرات مرتب ہونے میں ابھی دوسال لگیں گے۔

حکومت نے پراپرٹی ٹیکس لگانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس سے حاصل ہونے والی رقم آنے والے جنوری سے شروع ہوں گی،جس سے بجٹ خسارے میں مذید کمی کی توقع کی جارہی ہے۔ اس کے باوجود کہ اس ٹیکس کے قانون کے مطابق جن لوگوں کو ان کی رہائشی مکانات میں ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے یعنی دو ملین سے کم قیمت کے مکانات پر مگر ہوا یہ کہ صوبوں میں ٹیکس وصولی کے ذمہ داروں نے بہت سے ایسے لوگوں کو ٹیکس کے لیے چالان تھما دیئے جن کے مکانات کی قیمت اس سے کم ہے جس پر ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حکومت لوگوں کا مال ہڑپ کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے چاہے اس کے نتیجے میں لوگوں کی غربت میں اضافہ ہو۔ یعنی وہ ان کے انتہائی کم املاک جو چار دیواروں اور ایک چھت سے زیادہ نہیں جہاں وہ سر چھپاتے ہیں پر فیس لگاتی ہے جبکہ اس قانون کی رو سے پولیس اور فوج کے ہوٹل اور کلب ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں ۔

سب سے پہلے: جہاں تک ٹریژری بل کا تعلق ہے تو یہ قطعی حرام ہے کیونکہ دو میں سے کسی بھی ایک صورت سے خالی نہیں:

1-یہ سود پر مبنی قرض ہے ۔ قرض وہ ہے جو خریدار (قرضہ لینے والا )بل کی قیمت کے طور پر ادا کرتا ہے اور سود وہ فرق ہے جو خریدار ایک مقررہ وقت پر بل کی قیمت کے طور پر ادا کرتا ہے۔ یہ صفت درحقیقت قرض کی ان صورتوں میں سے ہی ایک صورت ہے جو بفع کو کھینچتا ہےاوریہ شرعی قاعدے کے صریح خلاف ہے کہ "ہر وہ قرض جو نفع کو (اپنی طرف)کھینچے وہ حرام ہے"۔

2-یہ موجل (قرض)کیش کو موجودہ کیش کے بدلے اس سے کم پر بیچنا ہے ۔موجل کیش یہاں وہ ہے جو بل کے برائے نام قیمت میں سے مقرر تاریخ پر حکومت دے گی ۔ موجودہ کیش وہ ہے جوسودے کے وقت خریدار بل کی قیمت کے طور پر ادا کر تا ہے،یوں یہ ایک کیش(کرنسی) کو دوسرے کیش کے بدلے بیچنا ہے۔ اس لیے یہ فروخت اسی بل کی نہیں کیونکہ اس کی کوئی قیمت نہیں یہ اس کیش کی قیمت ہے جس کی نمائندگی بل کر تا ہے ۔اس صورت کے معنی یہ ہوے کہ بل دونوں ہی قسموں میں سود پر مشتمل ہے :زیادتی کا سود کیونکہ مماثلت نہیں قرض کا سود کیونکہ یہ قرض ہے اور مجلس عقد میں دونوں نے اس پر قبضہ نہیں کیا ۔

دوسرا: ٹیکس کے بارے میں

لوگوں پر اندھا دند ٹیکس لگانا ناقابل قبول ہے ۔ ٹیکس لگانے کے لیے اسلام نے شرائط رکھی ہیں جو شرعی شرائط ہیں۔ نبوت کے طرز پر قائم ہونے والی خلافت راشدہ جس کے قیام کے لیےحزب التحریر جدو جہد کر رہی ہے میں ریاست کے لیے مسلمانوں پر ایسے بے سرو پا ٹیکس نہیں لگائے جائیں گے،جیسے پراپٹی ٹیکس،انکم ٹیکس ،ویلیو ایڈیڈ ٹیکس ،وراثتی ٹیکس وغیرہ جن کو ریاست فنکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئے روز لوگوں کے مال باطل طریقے سے کھانے کے لیے متعارف کراتی ہے۔

یہ جاننے کے باوجود کہ یہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح معاملات میں حلال اور حرام میں تمیز نہیں کرتی اور اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی بلکہ اس نے تو اپنے ہر کاروں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اسلام پر حملے کے لیے بے لگام کر دیا ہے بلکہ اس نے لوگوں کا خون بہایا اور حرمتیں پامال کی اور مخالفت کر نے والوں کو قید و بند اور جیلوں میں ڈالا ۔ اس نے جامع الاظہر کے بعض مشائخ اور علماء سے حرام کو حلال کرنے کے فتوے بھی لیے۔ یہ فتاویٰ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق نہیں تھے۔ یہ سب جاننے کے باوجود ہم اس حکومت کے ہر معاملے کے بارے میں حکم شرعی کو بیان کر نے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تا کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس حکومت کے بارے میں خاموش رہنا ممکن نہیں،اللہ تعالی فرماتا ہے :

﴿وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا قَالُوا مَعْذِرَةً إِلَى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ﴾ "جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ایسی قوم کو نصیحت کیوں کرتے ہو جس کو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا اس کو شدید عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے۔ کہا کہ تمہارے رب کے پاس ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رکھنے کے لیے یا پھر شاید وہ ڈر بھی جائیں " (الأعراف: 165)۔

اسلامی اقتصادی نظام کو مکمل طور پر اور مکمل اسلامی نظاموں کے ساتھ نفاذ کیے بغیر ملک کا اقتصاد تر قی کرنا ممکن ہی نہیں ہےاور یہ نبوت کے طرز پر قائم ہو نے والی ریاست خلافت راشدہ میں ہی ہو سکتا ہے،یہی اللہ نے فرض قرار دیا ہےاوراسی کے لیے ہمیں کام کرنا چاہیے۔ ہمیں عالم اسلام میں نافذ بدبودار سرمایہ دارانہ نظام کو اکھاڑ دینا چاہیے جس نے ہمیں ذلت اور مغرب کی غلامی کے سوا کچھ نہ دیا۔ یہ نظام ہی لوگوں کا خون چوستا ہے اور اور ان کو شرعی طور پر حرام ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کرتا ہے ،ریاست کے باشندوں کو ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے محنت پر مجبور کر تا ہے جن میں سے 25 فیصد سے زیادہ حکمرانوں کے اخرجات ہیں۔ مزید یہ نظام ملک کے دروازے مغربی سیاسی اور اقتصادی استعمار کے لیے کھول دیتا ہے۔

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِن الرِّبَا إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾

"اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود چھوڑ دو اگر واقعی تم مومن ہو اگر ایسا نہیں کرتے ہو تو یہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلان جنگ ہے"(البقرہ:279)

شریف زید

سربراہ مرکزی میڈیاآفس

حزب التحریر ولایہ مصر

Read more...

نوید بٹ کو رہا کرو مہم حزب التحریر ولایہ پاکستان نے نوید بٹ کا مضمون " امریکہ پاکستان میں جگہ جگہ آگ لگانے میں کیسے کامیاب ہوا؟" جاری کردیا

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے، حزب التحریر کے پاکستان میں ترجمان نوید بٹ، کا مضمون "امریکہ پاکستان میں جگہ جگہ آگ لگانے میں کیسے کامیاب ہوا؟" جاری کردیا ہے۔ سانحہ پشاور کو راحیل-نواز حکومت نے پاکستان میں جہاد کے تصور کو ختم کرنے، امریکی جنگ کو پاکستان کی جنگ ثابت کرنے،افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف جہاد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینے اور پاکستان میں امریکی راج کو مستحکم کرنے کے لئے استعمال کررہی ہے۔جب سے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے امریکی جنگ کو پاکستان کی جنگ ثابت کرنے کی کوشش شروع کی ہے پاکستان کی اہم ترین دفاعی تنصیبات اور شہری علاقے بم دھماکوں اور حملوں کی زد میں رہنے لگے ہیں۔ اس مضمون میں نوید بٹ نے تفصیلی دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ درحقیقیت پاکستان میں بدامنی اور عدم استحکام کے وجہ امریکہ کی موجودگی اور بم دھماکوں اور حملوں کے ماسٹر مائینڈ امریکی سی۔ آئی۔آے، اوربلیک واٹر ہیں جنہیں پاکستان بھر میں آزادانہ جاسوسی کرنے، رہائش اختیار کرنے، حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ان حملوں کو عملی شکل دینے کے لئے لوگوں کو بھرتی کرنے کی اجازت سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے دے رکھی ہے۔

یہ مضمون عوام میں موجود اس کنفیوژن اورسوال کا تسلی بخش جواب دیتا ہے کہ آیا یہ جنگ امریکہ کی ہے یا ہماری ؟ یہ مضمون پاکستان کے خلاف امریکی منصوبوں اور سیاسی و فوجی قیادت میں موجود امریکی ایجنٹوں کی غداری کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ مضمون اس بات پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ کیوں افغانستان پر قبضے کے بعد امریکہ پاکستان سے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کا مطالبہ کرنا شروع کردیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مضمون میں امریکی جنگ میں شمولیت کی حکمرانوں کے بزدلانہ اور غلامانہ جواز کو بھی چیلنج کیا گیا ہے کہ امریکی امداد کے بغیر ہم اپنی معیشت نہیں چلا سکتے اور نہ ہی پاکستان امریکہ کو خطے سے نکال سکتا ہے۔ مضمون کے اختتام میں پاکستان کے قبائلی مسلمانوں اور افواج پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود غداروں کو نکال دیں اور اس خطے سے امریکہ کو نکال باہر کرنے کے لئے ایک ہو جائیں اور ایسا کرنا کچھ مشکل نہیں کیونکہ اس سے قبل بھی یہ دونوں مل کر روس کو افغانستان سے نکال چکے ہیں۔

نوٹ: نوید بٹ نے یہ مضمون اپنے اغواسے قبل لکھا تھا۔ 11 مئی 2012 کو حکومتی ایجنسیوں نے انہیں ان کے گھر کے دروازے سے اس وقت اغوا کرلیا تھا جب وہ اپنے بچوں کو اسکول سے لے کر گھر پہنچے ہی تھے۔ آج کے دن تک نہ تو نوید بٹ کو رہا کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کا واحد جرم پاکستان سے امریکی راج کے خاتمے اور خلافت کے قیام کی سیاسی و فکری جدوجہد کرنا ہے۔

اس مضمون کو اس لنک پر دیکھا اور ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے:

http://pk.tl/1i3z

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے میڈیا آفس

Read more...

لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر بھارتی جارحیت راحیل_نواز حکومت کا بزدلانہ جواب بھارت کو مضبوط کررہا ہے

پچھلےدو دنوں میں بھارت نے لائن آف کنٹرول اور بین لااقوامی سرحد پر چار پاکستانی فوجیوں کو شہید کردیا ہے۔ پچھلے سال جولائی سے شروع ہونے والی بھارتی جارحیت میں اب تک کئی پاکستانی فوجی اور شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں لیکن راحیل-نواز حکومت وزارت خارجہ کے ذریعے مزمتی اور آئی۔ایس۔پی۔آر کے ذریعے "بھارتی بندوقوں کو خاموش "کرنے کے بیانات دینے پر ہی اکتفا کررہی ہے۔ راحیل-نواز حکومت کے کمزور بلکہ بزدلانہ بیانات اور عمل نے بھارت کو یہ ہمت فراہم کی ہے کہ بدھ 31 دسمبر 2014 کو لاہور کے قریب بین الاقوامی سرحد پر پنجاب رینجرز کے دو جوانوں کو دھوکے سے شہید کرنے کے بعد پاکستان کو یہ دھمکی دے رہا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو دوگنی طاقت سے جواب دے گا۔

راحیل-نوازحکومت بھارت کے خلاف جہاد کرنے کے بجائے نیشنل ایکشن پلان، جو درحقیقیت امریکی ایکشن پلان ہے، کے تحت قبائلی علاقوں سمیت ملک بھر میں موجود اُن مجاہدین کو ختم کرنے میں مصروف عمل ہے جو افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد کررہے ہیں۔ اس حکومت کے پاس اس وقت صرف امریکی حکم پر اُس کے خلاف لڑنے والوں کو ختم کرنے کی ہی دہن سوار ہے۔ حکومت نہ تو اس امریکی نیٹ ورک کو ختم کرتی ہے جو ملک میں فوجی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل کرواتا ہے اور نہ ہی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ ایک طرف دن رات ہمارے ٹینک، توپیں اور طیارے اپنے ہی ملک میں بمباری کررہے ہیں لیکن بھارت کو سبق سیکھانے کے لئے ایک بھی ٹینک، توپ یا طیارہ جیسے دستیاب ہی نہیں ہے۔

راحیل-نواز حکومت امریکی منصوبے کے تحت بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب نہیں دے رہی ہے۔ امریکہ خطے میں پاکستان کو کمزور اور بھارت کو مضبوط کرنا چاہتا ہے تا کہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرسکے۔ نیشنل ایکشن پلان (امریکی ایکشن پلان) کا یہی مقصد ہے کہ پاکستان اورافواج پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے فوج اور جہادی قوتوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آراء کردیا جائے۔
حزب التحریر افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں سے سوال کرتی ہے کہ آپ کس طرح بھارتی جارحیت پر خاموشی اختیار کرسکتے ہو؟ بزدل ہندوستان کبھی آپ پر حملے کی ہمت نہیں کرسکتا جب تک اس کو سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار اس بات کا یقین نہ دلا دیں کہ ان کے خلاف افواج پاکستان کے شیروں کو حرکت میں نہیں لایا جائے گا۔ کیا آپ کیپٹن کرنل شیر خان کو بھول گئے ہیں کہ کارگل میں جس کی بہادری اور جواں مردی نے بھارتی فوج کو اس قدر خوفزدہ کردیا تھا کہ اس کی شہادت کے بعد بھی اس کی لاش کو اٹھانے سے ڈر رہے تھے؟ یہ آپ کی دینی اور ملی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنے ہتھیاروں کا رخ ہندو مشرکین کی جانب کردیں اور انہیں ان کی اوقات یاد دلا دیں۔ رسول اللہ ﷺنےفرمایاہے،


جَاهِدُواالْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ
"مشرکین سے اپنے مال، جانوں اور زبان کے ذریعے لڑو" (ابوداود)۔

سیاسی وفوجی قیادت میں موجود غدار کبھی بھی ہماری افواج کو ان کے دینی فریضے کی ادائیگی کے لئے کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لہٰذا پاکستان کے مسلمانوں اور افواج میں موجود مخلص افسران پر لازم ہے کہ وہ سیاسی وفوجی قیادت میں موجود غداروں سے نجات حاصل کرنے اور خلافت کے قیام کے لئے حزب التحریر کے ساتھ کام کریں۔ پھر خلیفہ افواج کو دشمن کے خلاف حرکت میں لائے گا اور بھارت کو اس کی اوقات یاد لائے گا اور مسلمانوں اور ان کی افواج کو عزت حاصل ہوگی۔

شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

لاہور میں حزب التحریر کے شباب کی گرفتاری راحیل-نواز حکومت اسلام کے داعیوں پر سخت اور کفار کے خلاف نرم ہے

کل 5 دسمبر بروز جمعہ حکومت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پولیس کی مدد سے گلبرگ لاہور میں حزب التحریر کے ایک اسلامی درس سے کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔ حزب التحریر ولایہ پاکستان اس گھٹیا حرکت کی شدید مذمت کرتی ہے اور حکومت سے سوال کرتی ہے کہ آخر انہیں اسلام کی تعلیمات کی ترویج سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ کیوں حکومت اس قسم کا ظلم کر کے اللہ سبحانہ و تعالٰی کے غضب کو دعوت دیتی ہے جبکہ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس اور امریکی پرائیوٹ فوجی تنظیموں کو اسی گلبرگ سمیت کئی دیگر علاقوں میں رہنےاور افواج پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی اجازت دیتے ہیں تا کہ قبائلی علاقوں میں فتنے کی جنگ میں افواج پاکستان کو ملوث رکھا جائے؟

اس کا جواب با لکل واضح ہے کہ راحیل-نواز حکومت اپنے مغربی آقاوں خصوصاً امریکہ کے سامنے جھک چکی ہے اور ان کی ہر ہدایت پر بغیر کسی چوں چراں کہ مکمل عمل کرتے ہیں جبکہ اسلام کےان داعیوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کرتی ہے جو اسلام کو ایک قانون اور ریاست کی شکل میں قائم کرنے کی سیاسی و فکری جدوجہد کرتے ہیں ۔

حزب التحریر نہ پہلے اس قسم کی کاروائیوں سے خوفزدہ ہوئی تھی اور نہ اب ہو گی اور انشاء اللہ خلافت کے قیام کی جدوجہد کو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق جاری و ساری رکھے گی جس کا قیام اب عنقریب ہے۔ حزب جانتی ہے واشنگٹن اور مسلم دنیا میں ان کے ایجنٹ حکمران، اپنی تمام تر سازشوں، ظلم و جبر اور قتل و غارتگری کے باوجودخلافت کے قیام کوقریب آتا دیکھ کر سخت غصے کا شکار ہیں لیکن اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ اپنے وعدے کو ضرور پورا کرے گا۔

يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُواْ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَىٰ ٱللَّهُ إِلاَّ أَن يُتِمَّ نُورَهُ

"یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو پورا کیے بغیر ماننےوالا نہیں"

(التوبۃ:32)

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کا میڈیا آفس

Read more...

راحیل-نواز حکومت کی حزب التحریر کے خلاف جھوٹی میڈیا مہم میڈیا کو جھوٹ کی نہیں بلکہ صرف سچ کی اشاعت کرنی چاہیے

5 دسمبر 2014 کو راحیل-نواز حکومت کی ایجنسیوں نے مقامی پولیس کی مددسے گلبرگ لاہور  میں ہونے والے حزب التحریر کے ایک درس کو روک دیا اور کئی شباب کو گرفتار کرلیا۔  ملک بھر کے کئی شہروں میں حزب  کی جانب سے اس قسم کے درس کرنا ایک معمول  ہے جس میں خلافت کا مطلب،  اس کی اہمیت اور امت کو زوال سے نکالنے میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔  جابر حکمرانوں کی جانب سے اس قسم کی بزدلانہ کاروائیاں اور شباب کی گرفتاریاں  حزب کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے  لیکن جو بات اس دفع مختلف ہے وہ حکومت کی جانب سے گرفتار شباب پر چادر ڈال کر میڈیا کے سامنے پیش کرنا  اور ان کا تعلق ایک عسکری تنظیم داعش سے جوڑنا  ہے۔  حکمران یہ دیکھ چکے  ہیں کہ محض گرفتاریاں، تشدد اور شباب کا اغوا نہ تو حزب کو اپنی جدوجہد سے روک سکا ہے اور نہ ہی امت اور افواج پاکستان میں اس کی محبت میں کوئی کمی لاسکا ہے لہٰذا حکمرانوں نے اب ایک جھوٹی میڈیا مہم شروع کردی ہے  جس میں  حزب التحریر کا تعلق  عسکری تنظیم داعش سے ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حزب التحریر کبھی بھی اس جھوٹی مہم کا جواب بھی دینا گوارا نہیں کرتی کیونکہ یہ بات ہر با خبر شخص جانتا ہے کہ حزب ایک اسلامی سیاسی جماعت ہے جو خلافت کے قیام کے لئے رسول اللہﷺ کے طریقہ کار پر سختی سے عمل کرتے ہوئے صرف  سیاسی و فکری جدوجہد کرتی ہے اوراس راہ میں عسکری جدوجہد کو حرام سمجھتی ہے۔ حزب اپنے قیام کے دن سے لے کر آج تک  اس طریقہ کار پر سختی سے کاربند ہے اور کسی قسم کی سختیاں یہاں تک کہ  سیکڑوں شباب کی  شہادتیں بھی حزب کو خلافت کے قیام کے شرعی طریقہ کار سے ہٹا نہیں سکیں۔  لیکن ہم  یہ جواب اس لیے دینے پر مجبور ہوئے  کیو نکہ جس طرح میڈیا نے حکمرانوں کے اس جھوٹ کو  حزب التحریر سے اس کا موقف جانے بغیر نشر اور شائع کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔

ہم میڈیا سے کہتے ہیں کہ حکومت کا جھوٹ جانے کے لئے صرف اس ایف۔آئی۔آر کو  ہی پڑھ لیں جس میں  یہ الزام ہی نہیں لگایا گیا کہ ان ملزمان کا تعلق داعش سے ہے جبکہ میڈیا کے سامنے حزب کے شباب کا یہ جرم  بیان کیا جارہا ہے کہ وہ داعش کے حق میں وال چاکنگ اور لیفلٹ بانٹتے ہیں۔  ظالم حکمران حزب کی سیاسی و فکری جدوجہد کا جواب دینے سے قطعی معزور  اور فکری دیوالیہ پن کا شکار ہیں  لیکن بحثیت مسلمان میڈیا کے لوگوں سے ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ وہ اسلام ، خلافت اور اس کے داعیوں کے خلاف حکمرانوں کے جھوٹ میں ان کا ساتھ دیں گے۔  حکمرانوں کا موجودہ طرز عمل  کفار قریش کی نقل ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا  جواب دینے سے قاصر ہوگئے تو نعوذ بااللہ انہیں جادوگر کہنا شروع کردیا۔ حکمران بھی حزب کی سیاسی و فکری جدوجہد کی پاکستان کے عوام اور افواج پاکستان میں بڑھتی مقبولیت سے گھبرا کر اب اسی قسم کی گھٹیا حرکتوں پر اُتر آئیں ہیں اور اسے ایک عسکری تنظیم ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ہمیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ حکومت اور اس کے چیلے زبردستی حزب کا داعش سے تعلق جوڑ کر حزب التحریر اور خلافت کے تصور کو  دھندلا سکتے ہیں اور نہ ہی ہمیں اس بات کی کوئی پروا ہے کہ اس قسم کا پروپیگنڈہ امت  اور افواج پاکستان کو حزب التحریر سے دور کردے گا کیونکہ اگر اس قسم کی کاروائیاں حزب کو کوئی نقصان پہنچا سکتی تو حزب التحریر پاکستان میں اپنے کام کی ابتداء میں ہی ختم ہو چکی ہوتی ۔  ہم حکمرانوں اور ان کے چیلوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اللہ کے حکم سے خلافت کا قیام قریب ہے اور اس کے قیام کے بعد تمھارے دل خوف سے ہی پھٹ جائیں گے اور یوم آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ شدید ہوگا۔  ہم میڈیا میں موجود بھائیوں کو بھی خبردار کرتے ہیں کہ انہیں بھی اللہ کو منہ دیکھانا ہے  اور روز قیامت صرف ان کے صالح اعمال ہی ان کی نجات کا باعث بنیں گے  لہٰذا کسی صورت حکمرانوں کی جھوٹ میں ان کا ساتھ غلطی سے بھی نہ دیں۔

 

فَلْيَحْذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

"جو اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنہ یا دردناک عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں"

(النور:63)

شہزاد شیخ

ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾ "مؤمنوں میں ایسے (لوگ) بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالٰی سے کیا تھا اسے سچا کردیکھایا، بعض نے

پریس ریلیز

بغدادی کی تنظیم نے اس منگل، محرم کے آخری دس دنوں کے درمیان، معصوم اور متقی انسان ابو بکر مصطفی خیال کے خاندان کو پیغام بھیجا۔ ۔۔ انہیں داعش نے اطلاع دی کہ انہوں نے اسے کے بیٹے کو قتل کردیا ہے لہٰذا وہ آکر اس کا سامان لے جائیں۔۔۔۔ داعش نے ایک معصوم کو صرف اس لئے قتل کردیا کیونکہ اس نے  حق (سچ) بات کہی، لیکن داعش کو نہ اللہ ، اس کے پیغمبرﷺ اور نہ ہی ایمان والوں سے کوئی سے شرم آئی بلکہ شاید اس بات سے شرم آئی کے لوگ اُن کے پاس سے مصطفی خیال کی چیزیں نہ دیکھ لیں لہٰذا اُن چیزوں کو اس کے خاندان کے حوالے کردیا۔ انہیں معصوم کا خون بہاتے ہوئے اللہ سے شرم محسوس نہیں ہوئی جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے،  لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ "دنیا کی تباہی اللہ کےلئے کم اہمیت کی حامل ہے بجائے اس کے کہ ایک مسلمان قتل ہوجائے"۔ انہیں صرف اللہ کا خوف اس کی چیزوں کے حوالے سے تھا اسی لئے اس کو قتل کرنے کے بعد انہیں اس کے گھر والوں کو فوراً حوالے کردیا! رسول اللہﷺ نے سچ کہا ہے کہ  إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ " اگر تم کوئی شرم محسوس نہیں کرتے تو پھر جو چاہے کرو"(البخاری)۔

اس گروہ نے مصطفی کو شہید کردیا کیونکہ وہ ان کے سامنے حق کی بات کرتا تھا اور انہیں یہ کہتا تھا کہ وہ ہدایت کی راہ پر نہیں چل رہے اور انہیں نصیحت کرتا تھا کہ وہ اپنے گناہوں کا کفارہ مسلمانوں کے خلاف جرائم روک کر ادا کریں۔ حق کی بات ان کے لئے بہت بھاری  اور تلوار سے زیادہ تیز تھی لہٰذا انہوں نے اسے قتل کردیا اوراب ان پر   اللہ سبحانہ و تعالٰی، اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں کا غیض وغضب  ہے۔۔۔ انہوں نے اسے قتل کردیا، اور انہوں نے اس سے قبل بھی کئی لوگوں کو قتل کیا تھا اور وہ اب بھی پاک روحوں کو قتل کررہے ہیں جیسے ظالم و جابر حکمران اسلام کے داعیوں کو سیکولر ازم کے نام پر قتل کیا کرتے تھے اور یہ خلافت کا نام استعمال کر کےاسلام کے داعیوں کو قتل کررہے ہیں تا کہ اس کےمتعلق اچھے تصور کو خراب کردیا جائے۔۔۔۔ لہذا مغرب نے خوشیاں منائیں جن کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے جب انہوں نے یہ دیکھا کہ یہ وہ  ہیں  جو خلافت کے خوبصورت تصور کو بدصورتی میں بدل سکتے ہیں اور اس کے داعیوں کو قتل کرسکتے ہیں اور وہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر کریں گے جو کہ درحقیقت اسلام پر حملہ ہے: ﴿قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ﴾ "اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے حق سے پلٹائے جاتے ہیں"(التوبۃ:30)۔

ہم نے اپنی پہلے جاری ہونے والی اشاعتوں واضح کیا ہے کہ کس طرح یہ گرو ہ معصوموں کو قتل  اور حرمات کو پامال کررہا ہے یہاں تک کہ ان کے جرائم  سے انسان تو انسان ہجر و شجر بھی محفوظ نہ رہے۔ اور ہم نے انہیں ان کے جرائم کے حوالے سے خبردار کیا جو ان کے لئے اس دنیا میں رسوائی اور آخرت میں جہنم کے سخت عذاب کا باعث بنے گا۔۔﴿سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ﴾ "عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیا ہے اللہ کے پاس پہنچ کر ذلت پہنچے گی اور ان کی شرارتوں کے مقابلے میں سزائے سخت"(الانعام:124)۔

حزب التحریر کواپنے شہید کا غم  ہے جو راہ حق میں شہید کردیا گیا۔۔۔۔ مبارک باد ہو،  جنت میں شہیدوں کے سردار کے رتبے  اور اللہ کا قرب پاؤ۔۔۔۔ تمہیں مبارک ہو کہ تم ان لوگوں میں سے ہو جنہیں حق بات کہنے پر شہید کردیا گیا  اورتم  جابروں کی جیلوں میں رہے۔۔۔۔ تمہیں مبارک ہو کہ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے تمہیں شام کے جابر کی قید میں رہنے کے بعد اس رتبے سے نوازا جس کے جرائم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔مبارک ہو تمہیں کہ تم جابروں کے ہاتھوں شہید کیے گئے ہو اور اس عمل نے ان کے جرائم میں اضافہ کیا ہے۔۔۔۔ مبارک ہو تمہیں  کہ تمھارا معصوم و پاک خون اس گروہ کو خوفزدہ کیے رکھے گا بالکل ویسے ہی جیسے سعید بن جبیر کے خون کے خوف نے ظالموں کو خوفزدہ کیے رکھا اس وقت تک کہ وہ تباہ برباد ہوگئے۔۔۔ اور شاید سعید بن جبیر کے الفاظ بھی وہی تھے جب انہیں قتل کیے جانے کا حکم دیا گیا جو ہمارے شہید مصطفی کے تھے: "میں ہنستا ہوں کہ کس طرح تم اللہ کے صبر سے  لاپرواں ہو، اور کس طرح تم اللہ سے خوفزدہ نہیں ہو۔۔۔اے اللہ! اس ظالم کو میرے بعد کسی اور پر ظلم کرنے کا موقع نہ دینا!"۔ اللہ نے اُن کی دعا کا جواب دیا، اور اُس ظالم کے لئے معاملات خراب ہوتے چلے گئے جو پھر سعید بن جبیر کی شہادت کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہ رہا۔

اے مصطفی شہید! حزب التحریر تمھاری شہادت کا غم مناتی ہے، ہم تمہیں اللہ کے حوالے کرتے ہیں  اور ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں کہتے جو اللہ سبحانہ و تعالٰی کے لئے خوشی کا باعث ہو۔ اے مصطفی ، ہم تمھارے جانے پر افسردہ ہیں۔ یقیناً ہم اللہ کی امانت ہیں اور ہمیں اسی کی جانب لوٹ کر جانا ہے۔

﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ﴾

"جنہوں نے ظلم کیا ہے وہ بھی ابھی جان لیں کہ کس کروٹ الٹتے ہیں"(الشعرا:227)

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک