الخميس، 25 جمادى الأولى 1448| 2026/11/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

سی آئی اے نے گروہوں اور رضاکاروں میں نئے ایجنٹوں کی تربیت اور ان کو مسلح کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے۔ "صدر باراک اوباما کی انتظامیہ شام کے معتدل جنگجوؤں کو مسلح کرنے اور تربیتی آپریشن سی آئی اے کے سپرد کرنے کے عمل کو حتمی شکل دے رہی ہے"۔ شام میں معتدل مسلح اپوزیشن کے ذریعے سی آئی اے کو بڑا کردار ادا کروانے کے در پردہ امریکی محرک ہے، جیسا کہ سی آئی آے اس وقت لگ بھگ 400 شامی جنگجوؤں کو تربیت دے رہی ہے اور اس سے بھی زیادہ کی تاک میں ہے۔ مزید برآں امریکی وزارتِ دفاع بھی معتدل شامیوں کی تربیت کے لئے الگ سے ایک مخصوص پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

بالکل اسی طرح، پُر تکبر انداز میں اور کسی شرم و حیاء یا نتائج کو مدِّ نظر رکھے بغیر، یہ شائع کیا گیا کہ سی آئی اے معتدل شامی جنگجوؤں کو مسلح کرنے اور ان کے تربیتی آپریشن میں ملوث ہے۔ یہ ایجنسی ایجنٹ اور غدار تخلیق کرنے اور قتل کروانے کے حوالے سے شر انگیز ساکھ رکھتی ہے۔ یہ امریکہ کی کمزوری اور قابلِ اعتماد ایجنٹوں کو ڈھونڈنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے جو اس نے یہ مشن سی آئی اے کے سپرد کر دیا ہے۔ اور اس کے ذریعے ان گروہوں کی اپنے ساتھ وفاداریوں کو یقینی بنا رہا ہے۔ جہاں تک مسلح کرنے کا تعلق ہے، تو یہ مجرم حکومت کو ہٹانے کے لئے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کی آڑ میں اسلام سے لڑنے اور شام کی مبارک سر زمین پر امت کے پروجیکٹ اور خلافت راشدہ علیٰ منہاج النبوہ کے قیام کی امید کو ختم کرنے کے لئے ہے جس کی قیادت امریکہ مسلم ممالک کے بدترین حکمرانوں کے تعاون سے کر رہا ہے۔ اور ساتھ ہی وہ مسلمانوں کی آپس کی لڑائی کی آگ کو بھڑکا رہا ہے۔ اور اس وقت تک وہ ان جنگجو ایجنٹ گروہوں کو تیار کر چکا ہو گا جو خطے میں اس کے اس منصوبے کے حصول کے لئے کام کریں گے جس کا مقصد دین کو زندگی سے جدا کرنے والی سول جمہوری ریاست کا قیام ہے۔ اور یہ ان ہتھیاروں سے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لئے ہے جو منصوبہ بندی کے تحت خفیہ گروہوں کو دیے گئے تھے کہ کہیں یہ ان مخلص ہاتھوں میں نہ چلے جائیں جو اس کے ایجنٹ قاتل بشار کو ہٹا کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم قائم کر دیں۔ یہ وہ مجرم ہے جو شام کی سر زمین میں مسلمانوں کی چھاتیوں پر اس قاتل کے بوجھ کو برقرار رکھنے کے لئے اس کو وہ حمایتی بازو فراہم کئے ہوئے ہے جو زمین پرتباہی برپا کئے ہوئے ہیں اور خطے میں امریکہ کے لئے اس کے مفادات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اے شام کی سر زمین کے مسلمانو! اس واضح بیان اور ظاہر ہو جانے والے منصوبے کے بعد ہم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی توفیق سے بیان کرتے ہیں کہ: خطے میں امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کی طرف سے تیار کیے گئے ٹریننگ کیمپوں میں شمولیت کو قبول کرنا ایک عظیم خیانت اور بھاری جرم ہے۔ یہ ان شہداء کا خون ضائع کرنے کے مترادف ہےجنہوں نے صرف اور صرف كلمة الله کی سربلندی کے لئے یہ خون پیش کیا۔ اور یہ امت کی اُن قربانیوں کو ضائع کرنا ہے جو اس نے اس مبارک انقلاب کے لئے پیش کیں۔ (الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا) "جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں تو کیا یہ لوگ کافروں کے ہاں عزت چاہتے ہیں حالانکہ عزت تو سب اللہ ہی کے لیے ہے" لہٰذا اس شرانگیز نرغے سے محتاط رہو۔ اور ان تمام سانحوں کے منبع، امریکہ کی وہ رسیاں کاٹ ڈالو جو غیر محسوس انداز میں تمہاری گردنوں کا پھندہ بن رہی ہے۔ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مضبوط رسی کو تھام لو کیونکہ یہی تمہیں دنیا اور آخرت میں نجات بخشے گی۔

(هَذَا بَلَاغٌ لِلنَّاسِ وَلِيُنْذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ)

"یہ (قرآن) لوگوں تک پہنچانے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعہ انھیں ڈرایا جائے اور اس لئے بھی کہ وہ جان لیں کہ اللہ صرف وہ ایک ہی ہے اور اس لئے بھی کہ دانشمند لوگ اس سے سبق حاصل کریں"۔

 

احمد عبدالوہاب

ولایہ شام میں حزب التحریرکے میڈیا آفس کے سربراہ

Read more...

حکومت کی طرف سے حزب التحریر کو بھیجے گئے "عجیب" خط پر ابتدائی رد عمل

ہمارے پاس وزیر اعظم کا خط آیا جس پر اس کی نیابت میں کونسل کے ڈائریکٹر کے دستخط بھی ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب خط ہے، اور اس کی بیہودگی اور شرمناک تضادات سے ہمیں صدمہ پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مصدر کے بارے میں ہم شش وپنج میں رہے اور سوچا کہ یہ کسی گمنام اور جھوٹے کی طرف سے تہمت ہو سکتی ہے لیکن یہ معلوم کر کے ہم ششدر رہ گئے کہ یہ واقعی وزیر اعظم کا ہی خط ہے تب ہمیں یقین ہو گیا کہ ملک اس ناگفتہ بہ صورت حال سے کیوں دوچار ہے؟ اور اس قدر گری ہوئی حکمرانی کیوں ہے؟

یہ خط قانونی یا انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک سیاسی بیان ہے جو کسی ایسی جماعت کی طرف سے ہو سکتا ہے جس کو حزب التحریر ایک آنکھ نہیں بھاتی اور حزب التحریر کا نظریاتی ہونا اور جدوجہد کرنا اس کے لیے ناقابل برداشت ہے، ورنہ وزیر اعظم اور اس کی حکومت پر تنقید کرنے پر ہمارا محاسبہ کرتے ہوئے وہ یہ کیوں کہتے کہ "کامیاب حکومت کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش" ...۔ہاں ہم نے یہ کہا ہے۔

کیا وزیر اعظم یہ چاہتا ہے کہ پارٹیاں حکومت کی ہاں میں ہاں ملائیں اور واہ واہ کرتی پھریں؟؟

کیا قومی مذاکرات کے شرکاء میں سے ایک نے یہ نہیں کہا تھا کہ وزیر اعظم کا تقرر مغرب کے ایماء پر ہوا ہے اور اس سے مراد تم ہی تھے؟ کیا سیاسی پارٹیوں نے تسلسل سے جھوٹے الزامات، تمسخر اڑانا اور اشتعال دلانے جیسے کام کر کے حکومتوں کوتماشا نہیں بنایا جن کی پاکی کا تم اپنے بیان میں تقدس کی حد تک گن گاتے ہو؟؟ اس کے ثبوت کے طور پر تم سینکڑوں گھنٹوں پر مشتمل ٹی وی کی ریکارڈنگ دیکھ سکتے ہو۔

ایک ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم کی جانب سے اس بات پر ہمارا محاسبہ کرنے کے کیا معنی ہیں کہ ہم "بیشتر پارٹیوں پر پسپائی اور مغربی احکامات کے سامنے سر جھکانے کا الزام لگاتے ہیں ..."؟ کیا یہ ان پارٹیوں کی پاکدامنی کو بیان کرنے کے لیے ہے یا سرپرست اور نصیحت کرنے والے مغرب کے لیے وفاداری کا مظاہرہ کرنے کے لیے؟؟ پھر یہ بھی بتائیں کہ حزب التحریر کب کسی پارٹی کو اپنا دشمن سمجھتی ہے؟ حزب التحریر صرف حکومت کا محاسبہ کرتی ہے اور کبھی بھی اپنے راستے اور منزل سے انحراف نہیں کرتی۔

وزیر اعظم کی جانب سے اس بات پر ہمارا محاسبہ کرنے کے کیا معنی ہیں کہ ہم نے "دستور میں شریعت کو ماخذ نہ بنانے والوں پر تنقید کی"...کان کھول کر سن لو اسلامی شریعت گویا تہمت بن گئی ہے...ہم کوئی یہودی قائدین کے پرٹوکول، تلمود یا خفیہ زائنزم کے فرامین کی طرف دعوت نہیں دے رہے ہیں ...تمہاری نظروں کے سامنے ہے کہ کون صدارتی انتخابی مہم میں "اسلامی شریعت" کو منھج بنانے کی دعوت دیتا ہے غور کرو اور رد عمل کا اظہار کرو...جہاں تک اس عظیم رسوائی کا تعلق ہے کہ تم حزب التحریرکی طرف سے اپوزیشن جماعت کا کردار ادا کرنے کو اسلامی بیداری کی اس لہر کے لیے رکاوٹ سمجھتے ہو یہ تمام حدود کو پار کرنے والی اور خطرناک بات ہے...یہ کونسی آمرانہ رسوائی ہے؟ تم نےہمارے اس کام کو سیاسی نتیجے، فلسفیانہ استدلال، منطقی بنیاد، چھٹی حس، توقعات، نگرانی اور لوگوں کی خواہشات پر کنٹرول کے ذریعے انصار شریعہ کا دفاع اور انقلاب کی حفاظت کے لیے ایسوسی ایشن قرار دیا...کیا ہی تخلیق اور ذہانت ہے۔ تمہارا ارادہ اگر کچھ کرنے کا ہے اور کسی خاص صورت حال کے لیے تمہید باندھنا چاہتے ہو تو سمجھو کہ تمہاری امیدوں پر پانی پِھر چکا ہے کیونکہ ہم تمہیں پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور وہ سارے دروازے بند کر چکے ہیں۔ دہشت گرد کی مذمت میں ہمارے بیانات، اس کو جرم اور حرام قرار دینا اور ایسی مجرمانہ کاروائیوں کی مکمل تحقیقات کے مطالبے کے بارے میں ہمارے بیانات سے تمہاری فائلیں اور الماریاں بھری ہیں۔ ہر کس وناکس ہمارے موقف سے آگاہ ہے۔ سب یہ جانتے ہیں کہ ہمارا موقف ہی سب سے سچا، سب سے صحیح اور درست ترین ہے...جس نے بھی اس بارے میں تمہارے کان بھر دئیے ہیں یا یہ چال چلنے کی کوشش کی ہے وہ سیاست میں اناڑی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ تم ان کے آلہ کار نہیں بنو گے جن کی خباثت اور ناموں کو بھی ہم جانتے ہیں ﴿ومكر أولئك هو يبور﴾ "اور انہی کا مکر ہی تباہ ہونے والا ہے" (فاطر:10)۔

ہم سوچ رہے تھے کہ تم ان لوگوں کے بارے میں رپورٹ، تنبیہ اور دھمکی تیار کر رہے ہو گے جو صبح و شام غیر ملکی سفارت خانوں اور انٹلیجنس ایجنسیوں سے رابطے کرتے ہیں جو ان سے بیش بہا اور قیمتی تحائف اور جدید ترین کاریں وصول کرتے ہیں۔

ہم یہ انتظار کر رہے تھے کہ تم اس اربوں کے کالے دھن کو بے نقاب کرنے کے لیے کمر کس رہے ہو گے جو بعض پارٹیوں کے پاس ہے۔

یہ کیسی بات ہے کہ ریاست کے سربراہ پر تنقید کرنے پر تم ہمارا محاسبہ نہیں کرتے بلکہ صرف اس حکومت پر تنقید کرنے پر تم سیخ پا ہوگئے جس کےنمائندہ تم خود ہو؟؟؟

ہم نے دونوں پر برابر تنقید کی اور ہمیں اس سیاسی جدوجہد کا شرف حاصل ہے کہ ہم نے لوگوں کے مفاد میں یہ کیا اور ان پر ہونے والے ظلم و زیادتی کو بےنقاب کیا۔

ہمارا یہ خیال تھا کہ تم کامیاب حکومت یا انقلاب کی ضرورت کے لیے یہ سمجھ جاؤ گے کہ حکومت اور حکمرانوں پر تنقید سیاسی جماعتوں کا پہلا کام ہے، اسی میں مقابلہ ہونا چاہیے اور اسی سے سنجیدگی اور سچائی کو جانچا جاسکتا ہے، اس سے بھی بڑھ کر یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہے...نبیﷺ نے فرمایا : «والله لتأمرنّ بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتأخذنّ على يد الظالم ولتأطّرنّه على الحق أطرا ولتقصرنّه على الحقّ قصرا أو ليضربنّ الله بقلوب بعضكم على بعض ثمّ ليلعنكم كما لعنهم...» "اللہ کی قسم تمہیں ضرور بالضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہے تمہیں ظالم کا ہاتھ ہر حال میں روکنا ہے اور اس کو حق کے سامنے لازماً سرنگوں کرنا ہے اور حق تک ہی اس کو محدود رکھنا ہے ورنہ تمہارے دلوں میں ایک دوسرے سے نفرت ڈال دے گا پھر پہلے والوں کی طرح تم پر بھی لعنت کرے گا..."۔

یا پھر تم راز داری سے تنقید چاہتے ہو جو تنہائی میں تمہارے کان میں کی جائے جیسا کہ بعض خلیجی ممالک کے مشائخ فتوے دے رہے ہیں؟؟

تم ٹھیک ٹھاک ہوشیار آدمی ہو...اللہ سے ڈرو اس قسم کے رسوا کن، مفلسانہ اور مایوسی کے کام کر کے اپنے آپ پر ظلم مت کرو۔

اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِين﴾ " جو لوگ بلاوجہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچاتے ہیں تو وہ بہتان اور بہت بڑے گناہ کا بوجھ سر لیتے ہیں" (الاحزاب:58)۔

تیونس میں حزب التحریر  کا میڈیا آفس

Read more...

حزب التحریر لاہور میں دو ساتھیوں کی گرفتاری کی پرزور تردید کرتی ہے راحیل-نواز حکومت حزب التحریر کو زبردستی عسکریت پسند جماعت ثابت کرناچاہتی ہے

27نومبر 2014 کو لاہور کے کئی اخبارات نے یہ خبر شائع کی کہ "داعش کے لئے وال چاکنگ کرنے والوں کا تعلق کالعدم حزب التحریر سے نکلا"۔ حزب التحریر ولایہ پاکستان اس خبر کی پرزور تردید کرتی ہے کہ گرفتار ہونے والوں کا تعلق حزب التحریر سے ہے اور نہ ہی حزب التحریر داعش کے حق میں وال چاکنگ یا کسی بھی قسم کی کوئی مہم چلا رہی ہے۔ اس حوالے سے حزب التحریر ولایہ پاکستان مندرجہ ذیل باتوں کی جانب توجہ مبزول کرانا چاہتی ہے:
1۔ حزب التحریر ایک اسلامی سیاسی جماعت ہےجو خلافت راشدہ کے قیام کے لئے منہج نبوت کے مطابق یعنی سیاسی و فکری جدوجہد کرتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے عسکری جدوجہد کو اسلام کی رو سے حرام سمجھتی ہے۔
2۔ اس وقت ہمارے دو اراکین حکومت کی تحویل میں ہیں ۔ ایک پاکستان میں حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ جنہیں 11 مئی 2012 میں لاہور سے اور دوسرے ڈاکٹر اسماعیل شیخ جنہیں 18 اپریل 2014 کو کراچی سے حکومتی ایجنسیوں نے اغوا کیا تھا۔ راحیل-نواز حکومت کو آج کے دن تک نہ تو ان کی گرفتاری قبول کرنے کی ہمت ہوئی ہے اور نہ ہی انہیں کسی مقدمے کے حوالے سے عدالت میں پیش کیا ہے جن کا  حزب التحریر سے تعلق نہ صرف لوگ جانتے ہیں بلکہ ان کی سیاسی و فکری جدوجہد سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔
3۔ یہ الزام اس لحاظ سے انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ حزب التحریر کے شباب داعش کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ کیا پاکستان میں کوئی بھی جماعت کسی دوسری جماعت کے حق میں وال چاکنگ، پوسٹرنک یا لیفلٹ تقسیم کرتی ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ جب حزب التحریر کے شباب حزب کے نام سے جاری ہونے والے پوسٹر، اسٹیکر یا لیفلٹ بانٹتے ہیں تو اس کی تو میڈیا میں اس طرح تشہیر نہیں کی جاتی لیکن داعش کی وال چاکنگ میں حزب التحریر کو زبردستی ملوث کیا جاتا ہے اور اس کی  تشہیر بھی کی جاتی ہے۔
4۔ یہ الزام اس لحاظ سے مزید مضحکہ خیز ہو جاتا ہے کہ داعش نے شام کے شہر عدلیب میں اسی مہینے حزب التحریر کے ایک رکن مصطفیٰ خیال کو چھ مہینے اپنی قید میں رکھنے کے بعد گولی مار کر شہید  کردیا ہے۔
الحمدللہ جیسے جیسے پاکستان میں حزب التحریر کی دعوت پھیلتی جارہی ہے اسی قدر سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کی دماغی حالت بھی بگڑتی جارہی ہے ورنہ وہ حزب التحریر کو زبردستی ایک عسکریت پسند جماعت ثابت کرنے کے لئے اس قسم کا انتہائی لغو اور بیہودہ الزام نہ لگاتے۔ راحیل-نواز حکومت حزب التحریر کی سیاسی وفکری جدوجہد کا سیاسی و فکری جواب دینے سے قاصر ہے اور اب عوام اور افواج پاکستان کو حزب التحریر سے متنفر کرنے کے لئے اس قسم کے بچکانہ الزامات لگا رہی ہے۔ حزب التحریر راحیل-نواز حکومت پر واضح کردینا چاہتی ہے کہ تمھارا خاتمہ اور خلافت کا قیام اللہ کے حکم سےعنقریب ہے اور تمھاری کوئی بھی کوشش حزب کو اس کی جدوجہد سے نہ تو روک سکتی اور نہ ہی عوام اور افواج پاکستان کو اس سے متنفر کرسکتی ہے۔
حزب التحریر میڈیا سے بھی یہ بات کہتی ہے کہ وہ حزب کی جدوجہد سے واقف ہیں لہٰذا اس قسم کے لغو الزامات کو تو انہیں خود سے ہی مسترد کردینا چاہیے اور اگر یہ نہیں کرسکتے تو تم از کم حزب کے شباب سے ہی پوچھ لیا کریں جو آپ سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ حزب اس بات کی امید رکھتی ہے کہ جس جس نے اس بیہودہ خبر کو شائع اور نشر کیا ہے وہ صحافتی اخلاقیات کے مطابق اب اسی طرح حزب کی تردید کو بھی شائع اور نشر کریں گے۔

شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

حکومت کی طرف سے حزب التحریر  کو بھیجے گئے "عجیب" خط پر ابتدائی رد عمل

ہمارے پاس وزیر اعظم کا خط آیا جس پر اس کی نیابت میں کونسل کے ڈائریکٹر کے دستخط بھی ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب خط ہے، اور اس کی بیہودگی اور شرمناک تضادات سے ہمیں صدمہ پہنچا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مصدر کے بارے میں ہم شش وپنج میں رہے اور سوچا کہ یہ کسی گمنام اور جھوٹے  کی طرف سے تہمت ہو سکتی ہے لیکن یہ معلوم کر کے ہم ششدر رہ گئے کہ یہ واقعی وزیر اعظم کا ہی خط ہے تب ہمیں یقین ہو گیا کہ ملک اس ناگفتہ بہ صورت حال سے کیوں دوچار ہے؟ اور اس قدر گری ہوئی حکمرانی کیوں ہے؟

یہ خط قانونی یا انتظامی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک سیاسی بیان ہے جو کسی ایسی جماعت کی طرف سے ہو سکتا ہے جس کو حزب التحریر ایک آنکھ نہیں بھاتی اور حزب التحریر کا نظریاتی ہونا اور جدوجہد کرنا اس کے لیے ناقابل برداشت ہے، ورنہ وزیر اعظم اور اس کی حکومت پر تنقید کرنے پر  ہمارا محاسبہ کرتے ہوئے وہ یہ کیوں کہتے کہ "کامیاب حکومت کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش" ...۔ہاں ہم نے یہ کہا ہے۔

کیا وزیر اعظم یہ چاہتا ہے کہ پارٹیاں حکومت کی ہاں میں ہاں ملائیں اور واہ واہ کرتی پھریں؟؟

کیا قومی مذاکرات کے شرکاء میں سے ایک نے یہ نہیں کہا تھا کہ وزیر اعظم کا تقرر مغرب کے ایماء پر ہوا ہے اور اس سے مراد تم ہی تھے؟ کیا سیاسی پارٹیوں نے تسلسل سے جھوٹے الزامات، تمسخر اڑانا اور اشتعال دلانے جیسے کام کر کے حکومتوں کوتماشا نہیں بنایا جن کی پاکی کا تم اپنے بیان میں تقدس کی حد تک گن گاتے ہو؟؟ اس کے ثبوت کے طور پر تم سینکڑوں گھنٹوں پر مشتمل ٹی وی کی ریکارڈنگ دیکھ سکتے ہو۔

ایک ٹیکنوکریٹ وزیر اعظم کی جانب سے اس بات پر ہمارا محاسبہ کرنے کے کیا معنی ہیں کہ ہم "بیشتر پارٹیوں پر پسپائی اور مغربی احکامات کے سامنے سر جھکانے کا الزام لگاتے ہیں ..."؟ کیا یہ ان پارٹیوں کی پاکدامنی کو بیان کرنے کے لیے ہے یا سرپرست اور نصیحت کرنے والے مغرب کے لیے وفاداری کا مظاہرہ کرنے کے لیے؟؟ پھر یہ بھی بتائیں کہ حزب التحریر کب کسی پارٹی کو اپنا دشمن سمجھتی ہے؟ حزب التحریر صرف حکومت کا محاسبہ کرتی ہے اور کبھی بھی اپنے راستے اور منزل سے انحراف نہیں کرتی۔

وزیر اعظم کی جانب سے اس بات پر ہمارا محاسبہ کرنے کے کیا معنی ہیں کہ ہم نے "دستور میں شریعت کو ماخذ نہ بنانے والوں پر تنقید کی"...کان کھول کر سن لو اسلامی شریعت گویا تہمت بن گئی ہے...ہم کوئی یہودی قائدین کے پرٹوکول، تلمود یا خفیہ زائنزم کے فرامین کی طرف دعوت نہیں دے رہے ہیں ...تمہاری نظروں کے سامنے ہے کہ کون صدارتی انتخابی مہم میں "اسلامی شریعت" کو منھج بنانے کی دعوت دیتا ہے غور کرو اور رد عمل کا اظہار کرو...جہاں تک اس عظیم رسوائی کا تعلق ہے کہ تم حزب التحریرکی طرف سے اپوزیشن جماعت کا کردار ادا کرنے کو اسلامی بیداری کی اس لہر کے لیے رکاوٹ سمجھتے ہو یہ تمام حدود کو پار کرنے والی اور خطرناک بات ہے...یہ کونسی آمرانہ رسوائی ہے؟ تم نےہمارے اس کام کو سیاسی نتیجے، فلسفیانہ استدلال، منطقی بنیاد، چھٹی حس، توقعات، نگرانی اور لوگوں کی خواہشات پر کنٹرول کے ذریعے انصار شریعہ کا دفاع اور انقلاب کی حفاظت کے لیے ایسوسی ایشن قرار دیا...کیا ہی تخلیق اور ذہانت ہے۔ تمہارا ارادہ اگر کچھ کرنے کا ہے اور کسی خاص صورت حال کے لیے تمہید  باندھنا چاہتے ہو تو سمجھو کہ تمہاری امیدوں پر پانی پِھر چکا ہے کیونکہ ہم تمہیں پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور وہ سارے دروازے بند کر چکے ہیں۔ دہشت گرد کی مذمت میں ہمارے بیانات، اس کو جرم اور حرام قرار دینا اور ایسی مجرمانہ کاروائیوں کی مکمل تحقیقات کے مطالبے کے بارے میں ہمارے بیانات سے تمہاری فائلیں اور الماریاں بھری ہیں۔ ہر کس وناکس ہمارے موقف سے آگاہ ہے۔ سب یہ جانتے ہیں کہ ہمارا موقف ہی سب سے سچا، سب سے صحیح اور درست ترین ہے...جس نے بھی اس بارے میں تمہارے کان بھر دئیے ہیں یا یہ چال چلنے کی کوشش کی ہے وہ سیاست میں اناڑی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ تم ان کے آلہ کار نہیں بنو گے جن کی خباثت اور ناموں کو بھی ہم جانتے ہیں ﴿ومكر أولئك هو يبور﴾ "اور انہی کا مکر ہی تباہ ہونے والا ہے" (فاطر:10)۔

ہم سوچ رہے تھے کہ تم ان لوگوں کے بارے میں رپورٹ، تنبیہ اور دھمکی تیار کر رہے ہو گے جو صبح و شام غیر ملکی سفارت خانوں اور انٹلیجنس ایجنسیوں سے رابطے کرتے ہیں جو ان سے بیش بہا اور قیمتی تحائف اور جدید ترین کاریں وصول کرتے ہیں۔

ہم یہ انتظار کر رہے تھے کہ تم اس اربوں کے کالے دھن کو بے نقاب کرنے کے لیے کمر کس رہے ہو گے جو بعض پارٹیوں کے پاس ہے۔

یہ کیسی بات ہے کہ ریاست کے سربراہ پر تنقید کرنے پر تم ہمارا محاسبہ نہیں کرتے بلکہ صرف اس حکومت پر تنقید کرنے پر تم سیخ پا ہوگئے جس کےنمائندہ تم خود ہو؟؟؟

ہم نے دونوں پر برابر تنقید کی اور ہمیں اس سیاسی جدوجہد کا شرف حاصل ہے کہ ہم نے لوگوں کے مفاد میں یہ کیا اور ان پر ہونے والے ظلم و زیادتی کو بےنقاب کیا۔

ہمارا یہ خیال تھا کہ تم کامیاب حکومت یا انقلاب کی ضرورت کے لیے یہ سمجھ جاؤ گے کہ حکومت اور حکمرانوں پر تنقید سیاسی جماعتوں کا پہلا کام ہے، اسی میں مقابلہ ہونا چاہیے اور اسی سے سنجیدگی اور سچائی کو جانچا جاسکتا ہے، اس سے بھی بڑھ کر یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہے...نبیﷺ نے فرمایا : «والله لتأمرنّ بالمعروف ولتنهون عن المنكر ولتأخذنّ على يد الظالم ولتأطّرنّه على الحق أطرا ولتقصرنّه على الحقّ قصرا أو ليضربنّ الله بقلوب بعضكم على بعض ثمّ ليلعنكم كما لعنهم...» "اللہ کی قسم تمہیں ضرور بالضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہے تمہیں ظالم کا ہاتھ ہر حال میں روکنا ہے اور اس کو حق کے سامنے لازماً سرنگوں کرنا ہے اور حق تک ہی اس کو محدود رکھنا ہے ورنہ تمہارے دلوں میں ایک دوسرے سے نفرت ڈال دے گا پھر پہلے والوں کی طرح تم پر بھی لعنت کرے گا..."۔

یا پھر تم راز داری سے تنقید چاہتے ہو جو تنہائی میں  تمہارے کان میں کی جائے جیسا کہ بعض خلیجی ممالک کے مشائخ فتوے دے رہے ہیں؟؟

تم ٹھیک ٹھاک ہوشیار آدمی ہو...اللہ سے ڈرو اس قسم کے رسوا کن، مفلسانہ اور مایوسی کے کام کر کے اپنے آپ پر ظلم مت کرو۔

اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِين﴾ " جو لوگ بلاوجہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت پہنچاتے ہیں تو وہ بہتان اور بہت بڑے گناہ کا بوجھ سر لیتے ہیں" (الاحزاب:58)۔

ملائیشیا میں حزب التحریر  کا میڈیا آفس

Read more...

2014 کے بعد بھی امریکی فوجی افغانستان میں لڑتے رہیں گے امریکہ نے افغانستان سے محدود انخلاء کے منصوبے کو خود ہی بے نقاب کردیا

21 نومبر 2014، جمعہ کی رات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے یہ خبر دی کہ امریکی صدر اوبامہ نے 2014 کے بعد بھی مزید ایک سال تک امریکی فوجیوں کی افغانستان میں جنگی مہمات میں حصہ لیتے رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا پاکستان اور افغان حکومتوں نے خیر مقدم کیا اور افغانستان میں امن کے قیام اور ایک مستحکم حکومت کے تسلسل کے لئے امریکہ کی موجودگی کو لازمی قرار دیا۔
حزب التحریر کے لیے امریکہ کا یہ فیصلہ قطعاً حیرت کا باعث نہیں ہے کیونکہ حزب امریکہ کی جانب سے 2014 میں افغانستان سے محدود انخلاء کے اعلان کے بعد سے یہ کہتی آرہی ہے کہ امریکہ افغانستان سے جا نہیں رہا بلکہ محدود انخلاء کا دھوکہ دے کر امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو مستقل کرنے اور اسے قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ لہٰذا نئی افغان حکومت کی جانب سے دو طرفہ سکیورٹی کے معاہدے پر دستخط کرنےکے بعد امریکہ نے اس دھوکے سے خود ہی پردہ اٹھا دیا ہے۔ اب امریکہ ہر سال افغانستان میں قیام امن اور افغان حکومت کی مدد کے نام پر اس فیصلے میں توسیع کرتا رہے گا اور پاکستان و افغانستان کے غدار حکمران امریکہ کے فیصلے کا اسی طرح ہی خیر مقدم کرتے رہیں گے۔
امریکہ کا یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ تیرہ سال افغان مزاحمت سے جنگ لڑنے کے باوجود افغانستان میں امن قائم کرنے سے آج تک قاصر ہے اور افغان نیشنل آرمی اور پولیس کابل میں اس کی قائم کی ہوئی حکومت کا دفاع نہیں کرسکتی۔ ہزاروں مجاہدین نے صبر و استقامت سے جہاد کرتے ہوئے امریکہ کو اس کے مقصد میں ناکام کردیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت اور افغانستان کے چند غداروں پر مکمل انحصار کررہا ہے۔ اگر آج افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران اپنی قیادت میں موجود غداروں کو ہٹا کر خلافت کا قیام عمل میں لائیں تو خلافت ڈیورنڈ لائن کو مٹا کر اس خطے میں بسنے والے قبائلی مسلمانوں کو ساتھ ملا کر امریکہ کو اس خطے سے با آسانی نکال اور خطے کے مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا امن و سکون واپس لوٹا سکتی ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ خطے میں امن امریکہ کی موجودگی سے نہیں بلکہ اس کو نکال کر ہی قائم ہوگا۔ لہٰذا افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران آگے بڑھیں اور خلافت کے قیام کے لئے حزب التحریر کا نصرۃ فراہم کریں۔
وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ
"تم نہ سستی کرو اور نہ ہی غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر ایمان دار ہو"(آل عمران:139)

شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...

افغانستان کو فوجی امداد کی پیشکش امریکی اہداف کو یقینی بنائے گا

6 نومبر 2014 کو جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کیا اور راحیل-شریف حکومت کی جانب سے افغانستان کی فوج کو مضبوط بنانے کے لئے فوجی تعاون کی پیشکش کی۔ یہ دورہ اس وقت کیا گیا ہے جب امریکہ افغانستان سے 2014 کے اختتام کے بعدمحدود انخلاء کے منصوبے کے دھوکے میں افغانستان میں اپنی اور بھارت کی مستقل موجودگی کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکہ یہ جانتا ہے کہ محدودو انخلاء کے بعدافغانستان میں اس کی اور بھارتی اہلکاروں کی موجودگی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اس کی 10 ہزار افواج ناکافی ہوں گی اور افغانستان کے بہادر مسلم مجاہدین کا سامنا کرنا اس کے لئے انتہائی مشکل ثابت ہوگا۔

اس کمزوری کو دور کرنے کے لئے امریکہ دو جہتوں پر کام کررہا ہے۔ ایک طرف افغانستان میں مزاحمت کو کمزور کرنے کے لئے راحیل-نواز حکومت کے ذریعے امریکہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کروا رہا ہے اور دوسری جانب پاکستان کے ہی ذریعے افغان نیشنل آرمی کو مضبوط کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کی افادیت کو واضح کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل جوزف انڈریسن نے کہا کہ "آپریشن ضرب عضب نے افغان سرزمین پر حملے کرنے کی حقانی نیٹ ورک کی اہلیت کو کمزور کیا ہے"۔ جبکہ راحیل-نواز حکومت نے نئی کٹھ پتلی افغان حکومت کو اِس بات کی پیشکش کی ہے کہ پاکستان افغان سکیورٹی فورسز کو نہ صرف اسلحہ دینے کا خواہش مند ہے بلکہ وہ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے فوجی ٹرینر بھیجنے پر تیار ہے۔ امریکہ کو اپنی بزدل افواج کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے باڈی گارڈز کی اشد ضرورت ہے اور یہ باڈی گارڈز امریکیوں کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھارتی اہلکاروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں گے۔
پاکستان پہلے ہی اپنی مشرقی سرحدوں پر بھارت جیسے شاطر دشمن کا سامنا کررہا ہے اور پچھلے چند ماہ سے اس کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر شہریوں کو مسلسل نشانہ بنا نا، انہیں قتل کرنا اور ان کی املاک کو تباہ کرنا روز کا معمول بن گیا ہے اور اب راحیل-نواز حکومت کا اپنی مغربی سرحد پر امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی جگہ فراہم کرنے اور ان کی موجودگی کو مستحکم کرنے میں بھر پور کردار ادا کرنا خود اپنے پیر پر کلہاڑی مارنا بلکہ کھلی غداری ہے۔ راحیل-نواز حکومت کی غداری بالکل واضح ہے ۔ یہ حکومت پاکستان کو چکی کے دو پاٹوں میں پیسنے کے لئے دشمنوں کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر مستحکم کرنے کے لئے بھر پور معاونت فراہم کررہی ہے۔ لہٰذا افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران اور مسلمانوں کو اس غدار حکومت کو اکھاڑ پھینکنا چاہیے اور خلافت کا قیام عمل میں لانا چاہیے۔ خلافت افغانستان میں امریکی قبضے کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کے خلاف فوجی آپریشن کا خاتمہ کرے گی ، انہیں مسلح کرے گی، پاکستان اور افغانستان کے درمیان استعمار کی قائم کی ہوئی ڈیورنڈ لائن کو مٹا کر مسلمانوں کی قوت کو یکجا کرے گی اور افغانستان سے امریکی صلیبی اور نجس بھارتی وجود کا خاتمہ کرے گی۔ وَلاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ "تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر ایمان دار ہو" (آل عمران:139)
شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

pakis

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک