الخميس، 25 جمادى الأولى 1448| 2026/11/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

روس میں احادیث کی کتاب کی ممانعت

جمہوریہ تاتارستان کے اپاسٹو فیسک ریجن کی عدالت نے 9 اکتوبر کو یہ کہہ کر احادیث کی کتاب صحیح البخاری جس کی ایک حدیث ایک سائٹ پر پوسٹ کی گئی تھی پر پابندی لگا دی ہے کہ اس میں انتہا پسندانہ مواد ہے۔
جمہوریہ تاتارستان کے اپاسٹوفیسک ریجن کے اٹارنی جنرل کے مطابق کتاب کا مواد "دنیا کے کسی ایک دین کی انفرادیت" کو اجاگر کرتا ہے یا "متشدد اسلام" کو جس سے "مذہبی اور نسلی تعصب" پھیل جا تا ہے، جیسا کہ جمہوریہ تاتارستان اٹارنی جنرل کے بڑے معاون رسلان جا لییف نے کہا ہے۔
قرآن کریم کے ایک ترجمے پر پابندی کی کوشش کے سامنے مسلمانوں کے ڈٹ جانے کے بعد حکمرانوں کی جانب سے بنیادی اسلامی کتابوں پر دست درازی کی یہ ایک اور کوشش ہے اوراس بار نشانہ حدیث کی کتاب "صحیح البخاری" ہے۔ ان اقدامات کے ذریعے روسی اتھارٹی نے ایک بار پھر روسی مسلمانوں کے جذبات کو کھلے عام ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے گویا وہ مسلمانوں کی قوت برداشت اور صبر کا امتحان لینا چاہتے ہیں۔
ظاہری بات ہے کہ نام نہاد "انتہاپسندانہ مواد کی فہرست" مسلمانوں کو اسلامی ثقافت سے محروم رکھنے کے لیے تیار کی گئی ہے چنانچہ ہر سال ان کے قانون کے مطابق ممنوعہ مواد کی فہرست طویل ہوتی جارہی ہےجس میں کئی تحریر شدہ اور ریکارڈ شدہ مواد کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ پھر اس عرصے میں حکمران مسلمانوں کے رد عمل کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ درحقیقت مسلمانوں کی جانب سے ناکافی رد عمل ہی نے جون 2012 کو اورنبرگ کے "لنینسک ریجن کی عدالت " کو 60 سے زائد کتابوں کتابچوں اور اسلامی مقالات کو انتہاپسندانہ مواد کی فہرست میں شامل کرنے کا موقع دیا۔ممنوعہ کتابوں میں حدیث کی کتاب "ریاض الصالحین"، "امام نووی کی الاربعین" اور مسلم علماء کی کئی اور کتابیں تھیں۔ اس سے مسلمان سخت ناراض ہو گئے تھے مگر عدالت کے فیصلے کو کالعدم نہیں کیا گیا اور بالآخر یہ پابندی لازم کردی گئی ۔ستمبر 2013 میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ حکمران مزید پیش رفت کرنا چاہتے ہیں چنانچہ حکومت نے قرآن کے روسی زبان میں موجود مشہور ترجمے پر پابندی لگانے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں کی جانب سے متحدہ احتجاج پر اپنے منصوبے سے پسپائی اختیار کر لی جس کا جواب امت مسلمہ کے ان فرزندوں کو قید کرنے کی صورت میں دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم کے دفاع کے لیے ڈٹ گئے تھے۔
آج پھر روس میں اسلام کی بنیادی کتابوں پر پابندی لگائی جارہی ہےجس سے یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کس سوچی سمجھی سازش کے تحت اسلام کو نشانہ بناتے ہیں ورنہ روس میں موجود 20 ملین مسلمانوں کے سامنے اسلام کی بنیادی کتابوں پر پابندی لگانے کا جواز پیش نہیں کر سکے۔ ایسا لگتا ہے کہ داخلی اور خارجی مشکلات کی وجہ سے حکمران مکمل بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور وہ کسی بھی طرح مسلمانوں کو دینی احکامات سیکھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
"صحیح البخاری" حدیث کی صحیح ترین کتابوں میں سے ہے جس کو قابل اعتماد راویوں کے تسلسل کے ذریعے اما م بخاری نے آٹھویں صدی میں نبیﷺ سے روایت کی ہے اور تب سے ہی یہ اسلامی احکامات کے لیے مرجع ہے۔
آج امت مسلمہ کی یہ انمول میراث پابندی کے خطرے سے دوچار ہے ۔ ان کا ہدف واضح ہے کہ وہ امت کو اس کی طاقت سے محروم کرنا چاہتے ہیں، وہ اس چیز کو روکنا چاہتے ہیں جو امت کی فکر کی آبیاری کرتی ہے جو قرآن کریم کے بعد اسلامی ثقافت کا دوسرا منبع ہے۔
اس حوالے سے حزب التحریر روس کے مسلمانوں کو اپنی ثقافت کے مصدر سے محروم کرنے کی ان بار بار کی جانے والی کو ششوں پر شدید احتجاج کرتی ہے اور سب کو خصوصاً دینی اور معاشرے کی بااثر شخصیات کو دعوت دیتی ہے "صحیح بخاری" کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ یہ مسلمانوں کا صرف اس بات پر امتحان نہیں کہ وہ حدیث کی کتاب کا دفاع کر سکتے ہیں یا نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی وحدت اور اپنے دین کے دفاع کا امتحان ہے۔

Read more...

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بھارتی جارحیت کے خلاف حزب التحریر کا مظاہرہ صرف خلافت ہی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہے

حزب التحریر ولایہ پاکستان نے راولپنڈی اسلام آباد میں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر بھارتی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ: "بھارتی جارحیت امریکی شہ پر ہے صرف خلافت ہی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیگی"، "بھارتی جارحیت پر مجرمانہ خاموشی پاکستان کے عوام اور ان کے دین سے غداری ہے"۔
مظاہرین کا یہ کہنا تھا کہ راحیل-نواز حکومت امریکی پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب نہیں دے رہی جس کی وجہ سے بھارت پاکستان کے خلاف مسلسل جارحیت کا ارتکاب کررہا ہے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ خطے میں امریکی پولیس مین کا کردار ادا کرنے کے لئے بھارت کو مضبوط اور پاکستان کو کمزور کیا جارہا ہے اور اس امریکی منصوبے میں پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار پوری طرح ملوث ہیں۔ مظاہرین نے افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کے اس مجرمانہ فعل پر خاموشی اختیار کرنے کی روش کو ترک کرتے ہوئے ان غداروں کو اکھاڑ پھینکیں۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ افواج پاکستان کے مخلص افسران حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں اور خلافت کے قیام کو عمل میں لائیں اور پھر خلافت اسلام کے حکم اور ان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا ایسا منہ توڑ جواب دے گی کہ وہ پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنا تک بھول جائے گا۔

Read more...

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ترک عوام ڈالر کے ساتھ ترک معیشت کوجوڑنے کی قیمت ادا کر رہے ہیں

سیکرٹری آف یورپین کنونشن فار انرجی اینڈ منرلز اربن رسناک اوروزیر توانائی وقدرتی وسائل طانر یلدز نے اپنے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی جس میں طانر یلدز نے صحافیوں کی طرف سے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھنے کے حوالے سے اُٹھائے گئے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا "ہم 9فیصدکی نسبت سے گیس اور بجلی کی قیمتیں بڑھانے جارہے ہیں"۔ موصوف نے اس اضافے کی وجہ، ڈالر کی قیمت2.28 ترکی لیرا تک پہنچ جانے،پانی کے نظام میں موجود مشکلات اور بارشوں کے تناسب میں کمی کو قرار دیا۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں یہ اضافہ اکتوبر کے آغا ز سے لاگو کیا جاچکا ہے جبکہ ان سے ملتی جلتی وجوہات کی بنا پر ہی پچھلے تین سالوں میں مجموعی طور پر بجلی کی قیمتوں میں 39 فیصد اور گیس کی قیمتوں میںٖ 57.9 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آ چکا ہے۔ یلدز نے اپنی پریس کانفرنس میں گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اس اضافے کے پیچھے جن وجوہات کا ذکر کیا درحقیقت ان کا تعلق "محدود وسائلٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍاور لا محدود ضروریات " یا "نسبتی کم یابی (relative scarcity)" کے نظریے سے ہےجس پر ترکی میں قائم سرمایہ دارانہ معیشت کی بنیا د رکھی گئی ہے۔ حقیقت میں اللہ تعالی ٰ نے انسانی ضروریات محدود اور وسائل زیادہ پیدا کئے ہیں مگر سرمایہ دار انہ معیشت ان وسائل کی تقسیم کے وقت اپنی عوام کا کوئی خیال نہیں رکھتی بلکہ ان وسائل کو سرمایہ دار افراد اور کمپنیاں آپس میں اپنی مملوکہ اشیاء کی طرح بانٹ لیتے ہیں۔
ترکی جیسے ملک کا ایسی معاشی پالیسیوں پر مسلسل قائم رہنا جنہیں امریکی مالیاتی یونٹ ڈالر کے ساتھ نتھی کیا گیا ہے، اگر ایک طرف رسوائی کا ایک اَورمنبع (source) ہے تو دوسری طرف اس تضا د کا کیا کہئے کہ اس ریاست کی آمدنی کے بڑے حصے کا انحصار آج تک عوام کے جیبوں پر رہا ہے جس کے لئے ہزارہا مختلف نام تراش لئے گئے ہیں ، جبکہ یہ اپنے تئیں بڑی ریاست ہونے کا بھی دعویدار ہے۔ وہ کس منہ سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں 9فیصد کے اضافے کی وضاحتیں دیتی ہے جبکہ غربت، محرومیوں، ملازمین اور مزدوروں کی تنخواہوں میں بے وقعت قسم کے اضافے اور کم اُجرتوں کے اعداد و شمار خستہ حالی کی صورتحال کو نمایاں کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ایسے ملک میں جہاں چاروں طرف نہریں ہی نہریں بہتی ہوں، پانی کی کمی کی کوئی وجہ نہیں بنتی ۔
یہ بہت بڑی ناانصافی ہے کہ لو گوں کو ان کی ناگزیر ضروریات اور خدمات، جیسے بجلی اور گیس مہنگے داموں فروخت کئے جائیں کیونکہ ریاست پر فرض ہے کہ وہ زندگی کی بنیادی ضررویات کو ان کی پیداواری اور ترسیلی لاگت پر فراہم کرنے کی ضمانت دے۔ ملحوظ رہے کہ قدرتی وسائل جیسے پانی، گیس اور بجلی امت کی عمومی ملکیت ہے جبکہ ریاست صرف اس کو تقسیم کرنے اور لوگوں تک ترسیل کی ذمہ دارہے، نیز یہ کہ ان وسائل کا معاوضہ اس کی تیاری و ترسیل پر آنے والی لاگت کی حد تک ہو اس سے بالکل زیادہ نہ ہو، آپﷺ نے یہی فرمایا ہے کہ المسلمون شرکاء فی ثلٰثٍ الماءِ والکلاءِ والنارِ "مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں، پانی چراگاہ اور آگ"۔
اے مسلمانو! وہ ریاست جو پرائیویٹ سرمایہ دارانہ کمپنیوں کو اُن قدرتی وسائل کی مارکیٹینگ کرتی ہے جو امت کی ملکیت ہیں، مگر اُمت کو اس کے اپنی ملکیتی وسائل کوناقابل برداشت قیمتوں پر فروخت کرتی ہے، ایسی ریاست جو اپنے تفریحی اخراجات کو اپنے شہریوں کی جیبوں سے پورا کرتی ہے کبھی بھی بڑی ریاست نہی بن سکتی بلکہ ایسی ریاست ظالم ریاست کہلاتی ہے۔ جب تک ترک جمہوریت کرپٹ سرمایہ دارانہ نظاموں سے اپنی جان نہیں چھڑاتی، ظلم بدعنوانی جو زندگی کے تمام پہلوؤں میں سرایت کرگئی ہے، معیشت میں بھی برابر موجود رہے گی۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ آپ خلافت ِ راشدہ کے قیام کے لئے کام کریں جو تمہارے وسائل اور قدرتی اثاثوں کو آپ اور آپ کے مفادات پر نچھاور کردے گی نہ کہ سرمایہ دار کمپنیوں اور ممالک کو اس کی مارکیٹنگ کرے۔ ان کرپٹ نظاموں کو گرانے کے لئے کام کرو جو جھوٹ بول کر وسائل اور قدرتی اثاثوں کی کمیابی کا دھوکہ دیتے ہیں، یوں امت اپنی سابقہ شان وشوکت اور عظمت ِ رفتہ کو بحال کرسکےگی۔

Read more...

اقصیٰ کو روندا جارہا ہے جبکہ اردنی حکومت مذمت کر کے پھر سازش بھی کرتی ہے حالانکہ اس کی فوج اقصیٰ کو آزاد کرانے کی اہلیت رکھتی ہے!!

کل بدھ کے دن یہودیوں کے ایک گروہ ِغاصب نے یہودی فوجیوں کی اشیر باد سے مسجد اقصیٰ مبارک کی حرمت کو پامال کیا۔ یہود فوجیوں نے مسجد کے اندر نماز پڑھنے والوں اور بیٹھے ہوئے لوگوں پر فائر کھول دیا اور دستی بم پھنک دیا جس سے کئی نمازی زخمی ہو گئے جس پر اردنی حکومت کے ترجمان محمد المؤمنی نے بزدلانہ انداز سے ناگواری اور مذمت کا اظہار کیا۔ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ مبارک کے خلاف اس قسم کے گھٹیا اقدامات اس کے نمازیوں اور اس میں ٹھہرے ہوئے لوگوں کے خلاف خطے میں بدترین مذہبی تشدد کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اے مسلمانو ! کیا جائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چئیرمین جنرل الزبن نے عجلون (الغز) میں کھدائی کے حوالے سے وزیر اعظم اور وزیر دفاع کی موجودگی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فوج کی یہود حکومت کے ساتھ رابطے اور عسکری ماہرین علاقے میں پہنچانے پر بات کرتے ہوئے نہیں کہا تھا کہ ہماری مسلح افواج مشرق وسطیٰ میں کسی بھی جگہ تک رسائی کی اہلیت رکھتی ہیں!!
کیا مسجد اقصیٰ اس بات کی مستحق نہیں کہ حکومت اس کے لیے فوج کو متحرک کرے جبکہ جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چئیرمین کے بقول وہ ایسا کرنے کے قابل ہے ، خاص کر جب یہ حکمران مسلسل یہ راگ الاپتے ہیں کہ یہ مسجد اقصیٰ کے وصی اور متولی ہیں!!
کیا مسجد اقصیٰ کا یہ حق نہیں کہ اس کو آزاد کرنے کے لیے فوج کو حرکت میں لایا جائے ۔ مسجد اقصیٰ اردنی حکومت کے نگرانی میں ہوتے ہوئے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل چکی ہے۔ کیا بے شرمی پر مبنی وادی عربہ معاہدے کی شقوں کی پابندی اور یہودی وجود کے ساتھ گرم جوش تعلقات کی پاسداری اللہ کے اوامر اور اسلام کے ان احکامات پر مقدم ہیں جن میں غاصب یہودیوں سے لڑنے، فلسطین کی سرزمین سے ان کی جڑ اکھاڑنے اور مبارک مسجد اقصیٰ کو آزاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے!! کیا اردنی فوج پر مسجد اقصیٰ کا یہ حق نہیں کہ وہ حکمرانوں کو مجبور کریں جو مسلمانوں، ان کے خون اور ان کے مقدسات کی قیمت پر یہود کے ساتھ تعلقات کی مالا جپتے ہیں اور ان کو پختہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ وہ یہودی وجود کے خلاف اعلان جنگ کر دیں!! کیا مسجد اقصیٰ، اس کی پامالی، اس کے آس پاس کے مسلمانوں کے مصائب اور اس میں نماز پڑھنے والوں اور ٹھہرے ہوئے لوگوں کا یہ حق نہیں جن کو یہودی پولیس، یہودی فوج اور یہودی ہجوم کی جانب سے ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے کہ اردنی فوج متحرک ہو!! کیوں نہیں ان کا یہ حق ہے یہ حق ہے یہ حق ہے۔ لیکن غیرت، مردانگی اور بہادری کا چرچا صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کفر اور شر کے سرغنہ امریکہ کے حکم کو بجا لانے کی ضرورت ہو اور خطے میں اس کے منصوبوں کو کامیاب کرنا ہو ۔فوج کو حرکت میں آنے کا حق حاصل ہے حاصل ہے حاصل ہے لیکن امریکہ کا حکم سب سے بالا ہے جیسے امریکہ کی اطاعت سب سے بڑا فرض ہے!!
اے مسلمانو! ہم تمہیں یاد دلاتے ہیں کہ خلافت کو گرانے کے بعد ہی اسلامی سرزمین کو تقسیم کیا گیا اوریہود فلسطین کو غصب کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اب عنقریب انشاء اللہ خلافت کے دوبارہ قیام سے اسلامی سرزمین کو اسلام کی عظیم الشان حکومت کے سائے میں وحدت بخشی جائے گی ، اقصیٰ اورپورے فلسطین کو آزاد کیا جائے گا ، ہر سازشی، غدار، جھوٹے اور ایجنٹ کو احتساب کے کٹھرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ ہم حزب التحریر تمہیں دعوت دیتے ہیں کہ خلافت علٰی منہاج النبوۃ کے فریضے کی ادائیگی کے لیے ہمارے ساتھ مل کر جد وجہد کرو تاکہ ہم سب کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مدد اور رضا حاصل ہو اور سب مل کر اس کی جنت کی نعمتوں کی امید رکھیں۔
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾
"اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکارپر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہارے لیے زندگی ہے یا د رکھو اللہ بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے"۔

Read more...

نیلوفر رحیم جاناف بہن کی "زنغیوتا" قید خا نے میں شہادت

﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ "بے شک مسلمان ہی آپس میں بھائی بھائی ہیں" (الحجرات:10)
ریڈیو "اوزدلیک " نے خبر دی ہے کہ "بہن نیلوفر رحیم جاناف ازبکستان کے شہر تاشقند کے "زنغیوتا" کے عقوبت خانے میں 14 ستمبر 2014 کو شہادت سے سرفراز ہوگئی ہیں"۔ ان کی عمر 37 سال تھی اور وہ چار بچوں کی ماں تھی۔
نیلوفر کو 2012 میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں دہشت گردی کے قانون کے تحت اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ازبکستان میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے گئی تھیں پھر ان کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ مرحومہ کے شوہر ایڈوکیٹ ستار افشی جو کہ معروف اپوزیشن لیڈر ہیں نے کہا ہے کہ "حکام بالا کے حکم پر ان کو تاشقند کے قبرستان میں وفات کے چھ گھنٹوں کے اندر دفنا دیا گیا اور جیل کے ملازمین نے ان کی موت کی کیفیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا"۔
ازبکستان جو کہ ایک مسلم ملک ہے جس کی آبادی24.5 ملین افراد پر مشتمل ہے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق یہاں مسلمان 88 فیصد ہیں جبکہ آرتھوڈکس عیسائی 9 فیصد اوردوسرے ادیان کے پیروکار 3 فیصد ہیں ۔
سوویت یونین کے انہدام کے بعد ابتدائی سالوں میں لوگ، خاص طور پر نوجوان، اسلام کو اس کے اصل مصادر یعنی قرآن وسنت سے سیکھنے کی جانب راغب ہوئے، کئی سالوں کے کمیونسٹ حکمرانی کے بعد ان کے دل اسلام کی طرف مائل ہو گئے، تاہم اس ظالم حکومت نے، جس نے ظلم کو گرتی ہوئی اشتراکی ریاست سے میراث میں پایا تھا، اس تبدیلی کو منفی انداز سے لیا ، اس لیے دین کے خلاف تشدد پر مبنی پالیسی اپنائی اور مسلمانوں کے خلاف ایسا طاغوتی اور جابرانہ رویہ اپنایا جس میں کسی رشتے یا قرابت کا لحاظ رکھا اور نہ مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق کیا ۔ کئی دعوت کی علمبرادر خواتین اور عام متقی اور پاک دامن خواتین صرف مسلمان ہو نے کی وجہ سے گرفتار کی گئیں اور ان کو بیہودہ وجوہات بتا کر انتہائی مشکل صورت حال میں ایسے عقوبت خانوں میں دھکیل دیا گیا جن میں زندگی گزارنے کی کم سے کم ضروریات بھی دستیاب نہیں تھیں، جس سے ان کی صحت تباہ ہوگئی اور ہوا اور سورج سے محروم ہو نے کی وجہ سے بھی وہ کئی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو گئیں ۔ ساتھ ہی ان کو اس قدر تشدد اور بدسلوکی کا سامنا رہا جس سے کئی ایک شہید ہو گئیں جیسا کہ نیلوفر بہن کے ساتھ ہوا۔
ہم حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کی خواتین شاخ، اپنی اسلامی بہن نیلوفر کے لئےاللہ سے رحمت اور مغفرت کے طلبگار ہیں۔ ہم سرکش کریموف اور اس کی مجرم حکومت سے کہتی ہیں کہ " انتظار کرو اللہ کے اذن سے تمہارا یوم حساب قریب ہے، ظلم کی ریاست کچھ دیر کی ہو تی ہے اور حق تاقیامت باقی رہے گا۔ اللہ ہر گز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا ۔ ہم تمہارے جرائم کو خاص کر حزب التحریر کی مسلمان اور دعوت کی علمبردار بہنوں پر بدترین تشدد، گرفتاری اور ایذا رسانی کو نہیں بھولیں گے۔ہم اپنی بہن کے خاوند اور ان کے بچوں سے کہتے ہیں کہ اگرچہ ہر جگہ ظالموں نے اسلام پر عمل کرنے کی وجہ سے مردوں اور خواتین میں تفریق کیے بغیر مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کر رکھا ہے مگر اللہ کی مدد بھی قریب ہے، اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن ان مجرموں سے تمہارا بدلہ لیا جائے گا"۔۔۔ امت مسلمہ سے ہم کہتے ہیں کہ " تم کب تک خاموش رہوگے! تمہیں نظر نہیں آتا! حق کا راستہ تو واضح ہے جو کہ نبوت کی طرز پر خلافت راشدہ کا دوبارہ قیام ہے جس کی قیادت وہ امام کرے گا جو ڈھال ہے جس پیچھے امت لڑے گی اور جس کے ذریعے امت کی حفاظت ہو گی۔ یاد رکھو تب ہی تم دنیا اور آخرت کی عزت کو پاسکتے ہو۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ کریموف اور اس جیسوں کے بارے وہ ہمیں وہ کچھ دکھائے جس سے مؤمنوں کے دل ٹھنڈے ہوں اور نیلوفر کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کو اعلٰی علیین میں جگہ دے ، آمین یا رب العالمین" ۔
﴿ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا﴾
" پھر متقیوں کو ہم نجاد دیں گے اور ظلموں کے اس کے بیچوں بیچ چھوڑ دیں گے"(مریم:72)
مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر شعبہ خواتین

Read more...

کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت راحیل-نواز حکومت کا کمزور ردِّعمل بھارت کو جارحیت کی ہمت فراہم کررہا ہے

اکتوبر کے پہلے ہفتے سے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے عیدالاضحٰی کے تینوں دن جاری رہی جس میں سینکڑوں مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ بھارت کو اس کھلم کھلا جارحیت کا موقع اور ہمت پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت میں موجود غداروں نے فراہم کی ہے جو امریکی ہدایت پر بھارت کے خلاف کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرتے چلے آرہے ہیں جس سے بھارت کو اس کی اوقات یاد دلائی جائے۔
بھارت کی جانب سے حالیہ جارحیت پر راحیل-نواز حکومت کا بھارت کو صبرو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی نصیحت دراصل مسلمانوں کی سب سے بڑی اور طاقتور فوج کو یہ پیغام دینا تھا کہ حکومت کی پالیسی بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی نہیں ہے لہٰذا وہ اپنے جذبہ ایمانی پر بھاری پتھر رکھ دیں اور خاموشی سے مسلمانوں کا خون بہتا دیکھتے رہیں۔ اس انتہائی کمزور بیان نے بھارت کو ہمت فراہم کی اور اس نے یہ کہا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال بگڑنے پر قطعاً پریشان نہیں بلکہ بھارتی وزیر دفاع نے کاروائی کی دھمکی بھی دی۔ بھارت نےیہ بیان اس طرح دیا جیسے وہ کسی ایٹمی پاکستان سے نہیں بلکہ کسی چھوٹی سی انتہائی کمزور ریاست سے مخاطب ہے۔
سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار امریکی ہدایت پر بھارت کو اس خطے میں طاقتور مقام دینے کے لئے پاکستان کو کمزور کرتے جارہے ہیں۔ بھارت کو امریکہ نے افغانستان میں قدم جمانے کا موقع فراہم کردیا یہ غدار خاموش رہے، بھارت کو پاکستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی راستہ فراہم کرنے کی بات ہو یا وہاں سے گیس کی بھارت تک فراہمی کی بات ہو ان غداروں نے اس کی حوصلہ افزائی ہی کی اور پھر پاکستان کی افواج کو قبائلی علاقوں میں بالخصوص اور پورے ملک میں بالعموم امریکی جنگ میں ملوث کر کے افواج پاکستان کی بھارت کے خلاف روائتی جنگ لڑنے کی صلاحیت پر بھی کاری ضرب لگائی ہے جس کی وجہ سے 12 اگست 2014 کو بھارتی افواج سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ کہا کہ "پاکستان کی افواج روایتی جنگ لڑنے کی صلاحیت کھو چکی ہے"۔
اے افواج پاکستان ! سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار تمھاری شان و شوکت کو ختم کرتے جارہے ہیں ۔ کیا تم یہ گوارا کرسکتے ہو کہ اس پورے خطے پر بھارت کی بالادستی ہو اور تمھاری طاقت کو نہ صرف کم کردیا جائے بلکہ اس کو بھی امریکی مفاد میں ان مجاہدین کے خلاف استعمال کیا جائے جو افغانستان و کشمیر میں امریکہ و بھارت کے خلاف جہاد کررہے ہیں؟ کیا تم یہ برداشت کرسکتے ہو کہ تمھاری آنکھوں کے سامنے ان لوگوں کو کافر بھارت قتل کرتا جائے جن کی حفاظت کی قسم تم نے کھائی ہے؟ اور کیا تم یہ برداشت کرسکتے ہو کہ جب تم اپنے رب اللہ سبحانہ و تعالٰی کے سامنے پیش ہو تو ندامت سے تمھاری گرنیں جھکی ہوں؟ افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران! آگے بڑھو اور خود کو اوراپنی قوم کو بھارت اور امریکہ کے سامنے ذلیل رسوا ہونے سے بچاؤ اور خلافت کے قیام کے لئے نصرۃ فراہم کرو جس کے قیام میں ہی تمھاری اور پوری امت کی بھلائی ہے اور پھر مسلمانوں کا خلیفہ مسلمانوں کی عظیم الشان افواج کو حرکت میں لائے گا اور کشمیر و افغانستان کو کفار کے ناپاک وجود سے پاک کردے گا۔
فَلاَ تَهِنُواْ وَتَدْعُوۤاْ إِلَى ٱلسَّلْمِ وَأَنتُمُ ٱلأَعْلَوْنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ
"سو تم ہمت مت ہارواور (دشمنوں کو ) صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہو گےاور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ تمھارے اعمال میں ہرگز کمی نہیں کرے گا" (محمد:35)
شہزاد شیخ
ولایہ پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک