×

خبردار

JUser: :_load: نہیں کرسکتا to load user with id: 586

الخميس، 16 رمضان 1447| 2026/03/05
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

سوال کا جواب: کیا تدرج کے قائل لوگوں کے پاس کوئی دلیل یا شبہ دلیل ہے؟

کیا تدرج کے قائل لوگوں کے پاس کوئی دلیل یا شبہ دلیل ہے۔  تدرج کے قائل لوگ کہتے ہیں کہ: یہ اختلافی مسئلہ ہے اس لیے ایک دوسرے کو غلط قرار دینا درست نہیں، لہٰذا  ہم تمہیں برا نہ کہیں اور تم ہمیں برا مت کہو۔ یہ لوگ بعض دلائل سے استدلال کرتے ہیں جیسا کہ : شراب کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنھا کا قول، عمر بن عبد العزیز کا قول اپنے بیٹے سے، عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں قحط پر چوری کی حد معطل کرنا،

Read more...

یورپی ریاستوں میں نئے سیکیورٹی اقدامات اس بات کا علان ہے کہ وہ پولیس سٹیٹ میں تبدیل ہورہے ہیں

آج کل تمام یورپی ریاستیں سیکیورٹی اقدامات کی باتیں کررہی ہیں اور  جسے وہ "دہشت گردی" کہتے ہیں اس سےلڑنے کے لئےنئے منصوبے رکھے جارہے ہیں۔ یہ ریاستیں نئے سیکیورٹی اقدامات متعارف کرائیں گی جس میں   بڑی تعداد میں مسلمانوں اور ان کے اداروں کی زبردست نگرانی، جاسوسی اور گرفتار کرنے کے لئے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی حدود اور اختیارات میں اضافے  شامل ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ  یہ سب اقدامات، جنہیں نیا کہا جارہا ہے

Read more...

ڈاکٹر افتخار کوفوری رہا کرو

خلافت کے داعی ڈاکٹر افتخار کے خلاف حکومت کا غیر انسانی سلوک

اسلام سے نفرت کا اظہار ہے

حکومت پاکستان نے اپنے آقا امریکہ کے احکامات پر نام نہاد “دہشت گردی کے خلاف جنگ” میں اپنی کوششوں کو تیز تر کر دیا ہے۔ اگرچہ حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ یہ جنگ ان عسکریت پسندوں کے خلاف ہے جو ریاست کے خلاف اسلحہ اٹھاتے ہیں لیکن نیشنل ایکشن پلان کے پردے میں حکومت کا اصل ہدف خود اس کی زبانی “انتہاہ پسندی” کے خلاف جنگ ہے۔ “انتہاہ پسندی” کے خلاف جنگ درحقیقت ریاست کی قوت کے زور پر معاشرے سے اسلامی تصورات کو کچلنا اور مٹا دینا ہے۔

 

Read more...

پاکستان مخالف نعروں اور کراچی میں میڈیا دفاتر پر حملے کی مذمت

جمہوریت ریاست کے تمام شہریوں کو انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہے

22 اگست 2016 کو کراچی کی ایک جماعت کے قائد نے اپنے کارکنوں سے خطاب میں پاکستان کے خلاف شدید نعرے بازی کرائی اور پھر میڈیا کے دفاتر پر حملے کروائے۔ ان حملوں کے بعد سے پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ سیاسی خیالات کے اظہار کی حدود و قیود ہونی چاہیے۔

Read more...

اردن میں پاکستان کی سفیر نے حزب التحریر کے وفد سے ملنے سے انکار کردیا...

... اور سفارت خانے کے عملے کو حکم دیا کہ ان کا خط وصول نہ کیا جائے

پیر 22اگست 2016 کو حزب التحریر ولایہ اردن کے وفد نے دارلحکومت عمان میں پاکستان کے سفارت خانے کا دورہ کیا تا کہ حزب التحریر کی جانب سے خط سفیر کے حوالے کیا جائے۔ اس خط میں حزب نے راحیل-نواز حکومت سے ڈاکٹر افتخار کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

Read more...

نیشنل ایکشن پلان امریکی ایکشن پلان ہے

خلافت کے داعیوں کا اغوا حکمرانوں کی اسلام دشمنی کو ثابت کرتا ہے

خلافت کے تین داعیوں کے اہل خانہ نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اپنے وکیل کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس منعقد کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا کے ذریعے ایک انسانی المیے اور بہت بڑی ناانصافی کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی شہر میں پچھلے ایک مہینے کے دوران تین پڑھے لکھے اور انتہائی معزز گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان غائب کر دیے گئے ہیں۔

Read more...

یہودی وجود کا خاتمہ کرو

پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو یہودی وجود کی فضائیہ کے ساتھ مشقوں میں استعمال کرنا کھلی غداری ہے

حزب التحریر ولایہ پاکستان راحیل-نواز حکومت کے اس اقدام کی پُرزور مذمت کرتی ہے جس کے تحت پاکستان فضائیہ کے بہترین پائیلٹس کو ریڈ فلیگ 4-16 مشترکہ مشقوں میں شرکت کے لئے امریکہ بھیجا گیا جہاں یہودی وجود بھی شرکت کر رہا تھا۔

 

Read more...

سوال و جواب: پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اور ایران –افغانستان-بھارت کا چاہ بہار پر منصوبہ

سوال :

چاہ بہار بندرگاہ  کو ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے استعمال کیا جائے گا اس کے لئے مشترکہ تعاون کے پیش نظر  ایران نے بھارت اور افغانستان کے ساتھ سہ ملکی  معاہدے پر دستخط کردیے ۔ چاہ بہار  ایران کے جنوب میں  دریائے عمان کے کنارے واقع ہے...... تزویراتی مقاصد کے حامل اس  معاہدے پر دستخطوں کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کا ہدف تینوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری کی تشکیل ہے..

 

 

Read more...

سوال کا جواب: شام کے مسئلے میں ترکی کے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ تعلقات

سوال:

 ترک وزیر اعظم نے13 جولائی2016 کو ایک بیان میں کہا کہ ترکی شام کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لائے گا۔ "زمان عربی" نے 13 جولائی2016 کو خبر شائع کی کہ:"ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اعلان کیا ہے کہ ترکی شام کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائے گا"۔۔۔شام کے حوالے سے ترک پالیسی میں اس اچانک اور متضاد تبدیلی کے پس پردہ کون سے عوامل ہیں؟ کیا یہ ترکی اور شام کے درمیان صلح جوئی ہے؟ یا یہ امریکی پالیسی ہے جو ترک سیاست پر اثر انداز ہورہی  ہے؟ اللہ آپ کوبہترین جزا دے۔

 

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک