کزاخستان کی مسلم خاتون کو اس وڈیو کی بناء پر پانچ سال کی جیل
- Published in ویڈیو
- سب سے پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں
- |
سوال: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حزب التحریر خلافت کے قیام کی اپنی جدو جہد میں مدنی دور پر نہیں بلکہ صرف مکی دور پر اعتمادکرتی ہے اور قتال کی کاروائیوں 'جہاد' کو خلافت کے قیام کے لیے دعوت کے مرحلے میں خلاف شرع قرار دیتی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا نہیں کیا۔۔۔
کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ :خلافت کے قیام کی دلائل کو مدنی دور سے کیوں اخذ نہیں کیا جاسکتا جہاں جہاد فرض ہوچکا تھا اور جاری تھا؟
کیا اس مسئلے کا کوئی تسلی بخش جواب ہے؟اللہ آپ کو جزاء خیر دے۔
جواب: اس سوال میں کئی امور ہیں جن کی وضاحت کی ضرورت ہے:
1۔ دلائل خواہ کتاب اللہ سے ہوں یا سنت رسول اللہ ﷺ سے،ان پر مکمل طور سے عمل کرنا ضروری ہے،مکی آیات و احادیث اور مدنی آیات و حدیث منورہ میں کوئی فرق نہیں۔
2۔ مطلوبہ دلائل وہ ہیں جو اس مسئلہ سے متعلق ہو ں نہ کہ وہ جس کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق ہی نہ ہو:
ا۔ مثال کے طور پر اگر میں یہ جاننا چاہوںکہ وضو کس طرح کروں تو وضو کے دلائل تلاش کروں گا،خواہ یہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئے ہوں یا مدینہ منورہ میں۔پھران سے حکمِ شرعی کو اصول فقہ کے مطابق مستنبط کروں گا۔۔۔۔لیکن ایسا نہیں کر سکتا کہ وضو کے طریقہ کار کا حکم معلوم کرنے کے لیے روزے کے احکامات کی چھان بین کروں۔
ب ۔ اور مثال کے طوراگر میں حج کے احکامات جاننا چاہتا ہوں تو حج کے دلائل تلاش کروں گا ،خواہ وہ مکہ میں نازل ہوئے ہوں یا مدینہ میں۔اور پھران سے اصول فقہ کے مطابق حکم کو مستنبط کیا جائے گا۔لیکن حج کے طریقہ کار اور اس کی ادائیگی کے احکامکا حکم معلوم کرنے کے لیے نماز کے دلائل کونہیں دیکھوں گا۔
ج ۔ اور مثال کے طور پر جب میں جہاد کے احکامات کو سمجھنا چاہوں:کہ یہ فرض عین ہے یا فرض کفایہ ہے ،یہ دفاعی ہے یا اقدامی ،فتح کی صورت میں مال غنیمت اور اسلام کوپھلاجنے کے حوالے سے کیا احکامات ہیں،کیافتح بزور طاقت ہوتی ہے یا صلح کے ذریعے وغیرہ وغیرہ میں جہاد کی دلائل کی چھان بین کروں گا خواہ وہ مکہ میں نازل ہوئے ہوں یا مدینہ میں، اورانہی سے حکمِ شرعی کو اصول فقہ کے مطابق مستنبط کیا جائے گا۔لیکن میں جہاد کا حکم اور اس کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے زکوۃ کی دلائل کی چھان بین نہیں کروں گا۔
د ۔ ہر مسئلہ کے متعلق حکم شرعی جاننے کا یہی طریقہ کار ہے،اس سے متعلق دلائل کی چھان بین ہوگی چاہے وہ مکہ میں نازل ہوئےہوں یا مدینہ میں،اور پھر ان دلائل سے اس مئلےں کے بارے میں حکمِ شرعی مسلمہ شرعی اصول کے مطابق مستنبط کیا جائے گا۔
3 ۔ اب ہم اسلامی ریاست کے قیام کے مسئلے کی طرف آتے ہیں،اس کے دلائل کو تلاش کرتے ہیں خواہ وہ مکہ میں نازل ہوئے ہوں یا مدینہ میں اور ان سے مسلمہ اصول کے مطابق حکمِ شرعی کا استنباط کرتے ہیں۔
اسلامی ریاست کے قیام کی دلائل ہمیں مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺکی سیرت میں بیان کیے گئے دلائل کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتے۔رسول اللہ ﷺ نے ابتداء میں غیر اعلانیہ طور پر اسلام کی طرف دعوت دی جس کے نتیجے میں مؤمنوں کی ایک صابر جماعت تیار ہوگئی۔۔۔پھر مکہ میں اور مختلف موقعوں پر اس دعوت کا کھلا اظہار کیا۔۔۔اس کے بعد اہل قوت اور اہل طاقت سے نصرت طلب کی اور اللہ نے انصار سے آپ ﷺ کو نوازا،آپﷺ ہجرت کر کے مدینہ گئے اوراسلامی ریاست قائم کی۔
ریاست کے قیام کے یہ دلائل ہیں،اس کے علاوہ ریاست کے قیام کی کوئی دلیل نہیں۔رسول اللہ ﷺنے اپنی سیرت طیبہ میں اس کو ہمارے لیے تشفی بخش انداز سے بیان کیا اورہم پر اسی سیرت کی پابندی لازمی ہے۔بات جہاد کے فرض ہونے سے پہلےمکی دور یا جہاد کے فرض ہونے کے بعد مدنی دور کی نہیں ہےبلکہ بات ریاست کے قیام کے دلائل کو سمجھنے کی ہے۔یہ دلائل ہجرت کر کے مدینہ میں ریاست کے قیام تک مکی دور میں ملتے ہیں۔
ریاست کا قیام اور جہاد دو الگ فرائض ہیں۔جیسا کہ ہم نے کہا کہ ریاست کے قیام کے دلائل اسی موضوع سے لیے جائیں گے اور جہاد کے دلائل اس کے اپنے موضوع سے اخذ کیے جائیں گے۔یہ دونوں الگ چیز یں ہیں اور یہ ایک دوسرے پر موقوف بھی نہیں ہیں۔اسی وجہ سے ریاست خلافت کی عدم موجود گی میں جہاد معطل نہیں ہو تا۔رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے،«وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ يُقَاتِلَ آخِرُ أُمَّتِي الدَّجَّالَ، لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ»"جہاد اللہ کی طرف سے مجھے مبعوث کرنے کے وقت سے اس وقت تک جاری رہے گا جب میرا آخری اُمتی دجال سے لڑے گا۔ کسی ظالم کا ظلم اور کسی عادل کا انصاف اس کو باطل قرار نہیں دے سکتا"اس کو البیہقی نے السنن الکبری انس بن مالک سے روایت کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاد،خواہ خلافت موجود ہو یا نہ ہو، احکام شرعیہ کے مطابق جاری رہےگا۔
اسی طرح حکمرانوں کی جانب سے جہاد کو معطل کرنے کےباوجود خلافت کے قیام کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک خلافت قائم نہیں ہو جاتی کیونکہ استطاعت رکھنے والے مسلمانوں کا خلیفہ کی بیعت کے بغیر رہنا حرام ہے۔۔۔۔مسلم نے عبد اللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ :میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:«مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ، لَقِيَ اللهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً»"جس نے اطاعت سے ہاتھ کھنچا لیا وہ اللہ سے قیامت کےدن اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی،جو اس حال میں مرا کہ اس کی گر دن پر خلیفہ کی بیعت نہیں تو وہ جاہلیت کی موت مرا"۔
اس بناپر جہاد بھی جاری رہے گا اور خلافت کے قیام کی جدوجہد بھی اس کے قیام تک جاری رہے گا۔یہ دونوں ایک دوسرے پر موقوف نہیں۔یہ دونوں دوالگ الگ مسئلے ہیں۔ہر ایک مسئلے کے بارے میں اس کی اپنے شرعی دلائل کے مطابق بحث ہو گی اور اس کے ساتھ خاص حکم ِ شرعی مسلمہ اصول کے مطابق ہی اخذ کیا جائے گا۔
4 ۔یہی وجہ ہے کہ حزب،رسول اللہ ﷺ کے اس طریقے کی پابند ہے جس پر مکہ میں کاربند رہتے ہوئے مدینہ میں ریاست قائم کردی گئی۔ریاست کے قیام کے لیے دعوت کے مرحلے میں قتال سے اجتناب کیا،اس میں مکی یا مدنی دور کی بات ہی نہیںبلکہ ریاست کے قیام کی دلائل رسول اللہ ﷺ کے وہ اعمال ہیں جو مدینہ میں ریاست کے قیام تک مکہ میں انجام دیئے۔مسئلہ ریاست کے قیام کے طریقے کا ہے۔لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے اس بتائے ہوئے طریقے کے علاوہ ریاست کے قیام کا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔
اگر مسئلہ ریاستی اعمال اور اس کے اداروں کا ہو تا تو اس کو ان دلائل سے اخذ کرتے جو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ان اداروں کو قائم کر کے دِکھایا کیونکہ ریاست مدینہ میں قائم ہوئی تھی۔
5 ۔ خلاصہ:
ا ۔ کسی بھی مسئلہ کے احکامات اسی مسئلے کے بارے میں وارد شدہ دلائل سے اخذ کیے جائیں گے جو اس کے بارے میں ہیں خواہ مکہ میں نازل ہوئے ہوں یا مدینہ میں۔روزے کے احکامات روزے کے دلائل سے اخذ کیے جائیں گے،نماز کے احکامات نماز کے دلائل سے لیے جائیں گے،جہاد کے احکامات جہاد کے دلائل سے ہی لیے جائیں گے اورریاست قائم کرنے کے احکامات بھی ریاست قائم کرنے کے دلائل سے ہی اخذ کیے جائیں گے۔۔۔ہر جگہ ایسا ہی ہو گا۔
ب ۔ ریاست کے قیام کے لیے رسول اللہﷺ کے اس طریقے کو جو آپﷺ نےریاست کے قیام کے لیے مکہ میں اختیار کیا تھا،اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے علاوہ ریاست کے قیام کی کوئی دلیل موجود نہیں۔۔۔۔اگر ریاست کے قیام کی کوئی دلیل مدینہ میں وارد ہوتی تو اس سے استدلال بھی لازمی تھا۔
ہم اللہ سبحانہ وتعالی سے اسلامی ریاست خلافت راشدہ کے قیام کے لیے مدد اور توفیق کے طلب گار ہیں تاکہ اسلام اور مسلمان ایک بار پھر معزز،اور کفر اور کفار ذلیل ہوں،چاردنگ عالم میں خیر کا چرچا ہو اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔
مشہور فقیہ اور رہنما، امیر حزب التحریر، شیخ عطا بن خلیل ابو الرَشتہ کی کتاب "التیسیرفی اصول التفسیر" سے اقتباس
(ترجمہ)
وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَنْتُمْ ظَالِمُونَ2)9(وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمْ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمْ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ )93(قُلْ إِنْ كَانَتْ لَكُمْ الدَّارُ الآخِرَةُ عِنْدَ اللَّهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ إِنْ كُنتُمْ صَادِقِينَ )94(وَلَنْ يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ (95) وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ وَمِنْ الَّذِينَأَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنْ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ (96)
"اور موسیٰؑ تمھارے پاس واضح دلائل لے کر آئے تھے، پھر بھی تم نے اس کے بعد (کوہِ طور پر جانے کے بعد) بچھڑے کو اپنا رب بنالیا اور تم ہی ظالم تھے(92)۔ اور جب ہم نے تم سے اقرار لیا اور تمھارے اوپر طور کو بلند کیا اور کہا کہ جو شے ہم نے تمھیں دی ہے اسے مضبوطی سے تھام لو اور حکم سنو!،تو لوگوں نے نے کہا ہم نے سنا مگر نہیں مانتے۔ان کے قلوب ( کے ریشے ریشے ) مں وہی بچھڑا پو ست ہوگاکتھا،ان کے کفرکی وجہ سے، آپ کہہ دیجئےکہیہ افعال توبہت برے ہںک ، جن کی تعلمم تمھارا ایمان تم کوکررہاہے، اگرتم (بزعم خود) اہل ایمان ہو! (93)۔آپ کہہ دیجئے اگر اللہ کے ہاں آخرت کا گھر لوگوں کی بجائے صرف تمھارے لیے ہی ہے تو موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو(94)۔ لیکن وہ اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے کبھی اس کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے(95)۔اور آپ ضرور انہیں لوگوں سے زیادہ زندگی کا حریص پائیں گے،مشرکوں سے بھی زیادہ۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ کاش !وہ ہزار سال کی عمر پائے!مگر عمر پانا انھیں عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ اور اللہ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں(96)۔
عطاء بن خلیل ابوالرَّشتہ( امیرحزب التحریر ) اپنی تفسیر(التیسیرفی اصول التفسیر)میں مذکورہ بالاآیات شریفہ کی تفسیرکے تحت فرماتے ہیں:
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان آیات میں بتلایاہے کہ:
1۔ اللہ جلّ شانہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوبنی اسرائیل کی طرف قطعی دلائل اوراس کی نبوت ورسالت کی تائید کرنے والے معجزات دے کربھیجا،یہ معجزات وہ9نشانیاں تھیں جن کاذکردوسری جگہ کیا گیا ہے، وَلَقَدْ جَاءَكُمْ مُوسَى بِالْبَيِّنَاتِ "ہم نے موسی ٰ علیہ السلام کو نوواضح نشانیاں عطاکی تھیں" (الاسراء / آیت/101)۔ وہ عصا(لاٹھی) جواژدہاکی صورت اختیارکرلیتی،اوریدبیضایعنی ہاتھ جس کووہ نکال دیتےتو چمکتا دمکتادکھائی دیتا،دریائےقلزم کاپھٹ جانااوراس کاایک خشک راستے میں تبدیل ہوجانا،ٹڈیاں ، جوئیں، مینڈک، خون وغیرہ کی صورت میں نازل کی گئی نشانیاں وغیرہ جیسے معجزات جوموسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی قطعی ہونے کےدلائل تھے۔مگر بنی اسرائیل نے جبکہ موسی ٰ علیہ السلام اپنے رب کے ساتھ ملاقات کے لئے کوہ طورپرگئے، ایک بچھڑے کی پرستش شروع کی اوراس کواپنامعبود بنالیا۔اس فعل شنیع کی وجہ سے وہ ظالم ٹھہرے،کیونکہ ان کایہ فعل بے جاتھاکہ ایک بچھڑے کوجو عبادت کے قابل نہیں تھا،اپناخد اتصورکرکے اس کی عبادت کرنے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کویوں فرمایاہے کہ(ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ الْعِجْلَ)....
اس آیت میں(ثُمَّ)کاکلمہ تراخی (تاخیر) کیلئے ہے، یعنی انہوں نے ان نشانیوںکااچھی طرح مشاہدہ کرلینے کے کافی عرصہ بعد یہ حرام حرکت کی۔ان کے پاس نشانیاں پہنچیں،انہیں بغور دیکھااورحضرت موسیٰ علیہ السلام کی سچائی پراس کی قطعی دلالت کاانہیں پتہ چلا۔اس سب کے باوجود انہوں نے ایک بچھڑے کومعبود بنالیا۔اس طرح ان کے کردارپرمشتمل یہ تاریخی حقائق ان کیلئے سرزنش اورملامت ومذمت کے آئینہ دارہیں۔
2۔ پھراللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کوان سے لئے گئے میثاق اورعہد وپیمان اورکوہ طورکاان کے اوپرلاکھڑکرنےکی یاددہانی کراتے ہیں ،اوران کویہ بھی یاددلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کوتورات کے اندردئے ہوئے احکامات پرسختی سے عمل پیراہونے کاحکم دیاتھا،جیساکہ اس سے پہلے اسی طرح کی ایک آیت،(وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمْ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) البقرۃ / (63) گزری ہے کی تفسیرمیں ہم نے بیان کیا.مذکورۃ الصدرآیت میں اسی واقعہ طور کاذکرہے،البتہایک نیامعنی سمجھانے کیلئے اس آیت کو مکررلایاگیا،یعنی یہ کہ اللہ کاامرسننے کی قیمت اس وقت ہوتی ہے،جب اس کاسنناامرالٰہی پرجوں کے توں عمل کی نیت سے ہو۔بالفاظِ دیگرحکم کوتسلیم کرنے اوراس کی پیروی کی نیت سے سناجائے ،ورنہ اس کاکوئی فائدہ نہیں ہوگا۔آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے (وَاسْمَعُوا ) "سنو" لیکن اُن کاجواب تھا(سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا)"ہم نے سنااورنافرمانی کی" ۔جواب پرغورکرنے سے معلوم ہوتاہے کہ(وَاسْمَعُوا) "سن لو"کاجوحکم دیاگیا،یہ ماننے اورطاعت وقبول کے حکم پربھی مشملم تھا(محض سننے کا حکم ان کونہیں دیاگیاتھا) اگرچہ الفاظ میں اس کاذکرنہیں اوربسااوقات سننے سے مراد مان لیناہوتاہے ۔جیساکہ ہم نماز میں کہتے ہیں: سمع اللہ لمن حمدہ( حمد کرنے والے کواللہ تعالیٰ سنتے ہیں)۔
(وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمْ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ )93("ان کے قلوب ( کے ریشے ریشے ) میں وہی بچھڑا پیوست ہوگیاتھا،ان کے کفرکی وجہ سے،آپ کہہ دیجئےکہ یہ افعال توبہت برے ہیں ،جن کی تعلیم تمھاراایمان تم کوکررہاہے،اگرتم (بزعم خود) اہل ایمان ہو"۔
آیت کے شروع میں واؤ حالیہ (حالت بتانے کیلئے) ہے،مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایسی حالت میں عَصَینَاکہاجب کہ بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں رچ بس گئی تھی،اوران کایہ قول کہ (سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا) ان کے کفرکے سبب تھا،اس لئے فرمایا(بِكُفْرِهِمْ)" ان کے کفرکے سبب"۔
پھراللہ تعالیٰ آیت کااختتام یہ بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیںکیونکہ ایمان کفرکی ضد ہے ،توایمان بچھڑے کوالٰہ بنانے کاحکم دیتا، نہ ہی اس کاکہ اس بچھڑے کیمحبت بطور ایک معبودکے دل نشین ہوجائے ،اوراس کی محبت کی وجہ سے اللہ، جوکہ معبودحقیقی اور خالق ہے،کی بات سننے اوراس پر عمل کرنے سے روکاجائے،(ایمان کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دیتا)۔
یہاں ایمان کی طرف حکم دینے کی نسبت اورایمان کاان کی طرف نسبت جواللہ تعالیٰ کے اس قول میں ذکرہے(قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ )93(یہ مذاق اُڑانے کیلئے ہے اورایک قسم کی پھبتی کسی گئی ہے۔ جیسے دوسرے مقام پراللہ تعالیٰ نے قوم شعیب کی بات نقل کرتے ہوئے فرمایاہے(اَصَلَوٰتُکَ تَامُرُکَ)(ھود/ آیت /87)"کیاتیری نماز تجھے یہ حکم دیتی ہے"اس لئے اللہ تعالیٰ کے اس قول (قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمَانُكُمْ إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ) کامطلب یوں بنتاہے کہ تم جواپنے آپ کومؤمن کہتے ہو،ایمان توتم نے ایک بچھڑے پرلایاہے ،جسے تم نے معبودبنایااوراس کی محبت تمہارے دلوں میں گھرکرچکی وغیرہ توایساایمان بہت براایمان ہے،یہ وہ ایمان نہیں جس کامطالبہ ربّ العالمین کرتاہے،بلکہ یہ توخالص کفرہے۔
3۔ پھرآیت نمبر 94 میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان کے اس جھوٹے دعوے کوبیان کرتاہے کہ جنت تو ہماری ہے،اس کاذکرسورہ بقرہ کی آیت نمبر/ 111میں اس طرح کیا گیا ہے(وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَى) "یہ (یہود ونصاریٰ )کہتے ہیں کہ جنت میں ان کے سواکوئی اورہرگزداخل نہیں ہوسکتا"(البقرۃ /آیۃ 111)۔ یہ ان کاایک خودساختہ دعوٰی تھا۔اس کی قلعی کھُلنے کیلئے ان پرحجت قائم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتےہیں کہ اگروہ واقعی اپنے اس دعوے میں سچے ہیں توانہیں چاہئے کہ وہ موت یعنی اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تمناکرکے دکھادیں۔سو اگر یہ لوگ واقعی میں اللہ کے محبوب اورپسندیدہ ہوں،جیساکہ اس آیت میں ان کے اس خیال باطل کاذکرکیاگیاہے(وَقَالَتْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ)"یہود اورنصاریٰ (دونوں فریق )یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اوراس کے محبوب ہیں" تواس تحدّی (چیلنج)کے بعدوہ اپنی صداقت کوثابت کرنے کیلئے فوراً موت کی تمنا کریں گے،ورنہ ان کاجھوٹاہوناثابت ہوجائے گا۔اوریہی ہوا،کیونکہ انہوں نے کبھی بھی اس قسم کی کوئی تمناکرنے کی ہمتنہیں کی،کیونکہ ان لوگوں نے جوکفراورشرکے اعمال کئے ہیں،ان کابخوبی علم ہےجس کے ہوتے ہوئے وہ اللہ کاسامناکرنے سے ڈرتے ہیں۔جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں(وَلَنْ يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ)(95("یہ لوگ ہرگز کبھی اس (موت) کی تمنانہ کریں گے،بوجہ (سزاکے خوف کے ) ان اعمال(کفریہ ) کاجواپنے ہاتھوں سمیٹتے ہیں"۔
یہ ان دلائل میں سے ہےجو قطعی ہوتےہیں اورجس کواللہ تعالیٰ نے رسو ل اللہ ﷺ کے زمانے کےیہود ونصاریٰ کے خلاف پیش کیا ہے،کیونکہ اگروہ اس دعوے میں کہ جنت ان کیلئے مخصوص ہے،حق پر ہوں،توپھرانہیں موت کی تمناکرنی چاہئے ،یہ بات یہودکی نسبت سے ہے اوراگرنصاریٰ حق پرہیں ،جیساکہ ان کاعیسی ٰ علیہ السلام کے بارے میں خیال تھاکہ وہ اللہ کابندہ نہیں ،بلکہ وہ خود الٰہ ہے توپھرآئیں اورمباہلہ کریں،اس کاذکر سورہ آل عمران کی آیت نمبر 61 میں ہے ،ارشادہے (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ "آپ یوں فرمادیجئے کہ آجاؤ ہم (اورتم) بلاکرجمع کرلیں اپنے بیٹوں کواورتمھارے بیٹوں کواوراپنی عورتوں کواورتمہاری عورتوں کواورخود اپنے تنوں کواورتمہارے تنوںکوپھرہم (سب مل کر) خوب دل سے دعاء کریں اس طورپرکہ اللہ کی لعنت بھیجیں،ان پرجو(اس بحث میں ) ناحق پرہوں "(آل عمران: 61 )۔لیکن عہد رسالت میں ان دونوں فریقوں نے یہ نہیں کیا۔نہ تویہودی اب تک موت کی تمناکرسکے اورنہ نصاریٰ نجران نے مباہلہ کی چیلنج کوقبول کیا۔ یہی ان پرقطعی حجت ہے اگروہ عقل رکھتے ہیں۔ امام احمد ؒنے یہ حدیث نقل کی ہے اورتفسیر طبری میں بھی مذکورہے ، لوان الیہود تمنواالموت لماتواولراوا مقاعدھم من النار،ولوخرج الذین یباھلون رسول اللہ ﷺ لرجعوالایجدون اھلاًولامالاً "اگریہود موت کی تمناکرتے تووہ مرجاتے اورجہنم میں اپنے ٹھکانے ان کونظر آتےاوراگررسول اللہﷺ کے ساتھ مباہلہ کرنے والے باہرآتے تواس حال میں لوٹتے کہ اپنا کوئی مال اوراہل وعیال نہ پاتے۔" (تفسیرطبری 1/424،مسندِاحمد 1/148)
4۔ یہود اپنی تعفن زدہ حقیقت کے نتیجے میں اپنے کالےانجام کاسامناکرنے کی وجہ سے موت سے خائف ہیں ،اس وجہ سے وہ تمام لوگوں سے زیادہ اس حیات دنیوی سے شدید محبت کرتےہیں،بلکہ مشرکین سے بھی بڑھ کرزیادہ محبت کرتے ہیں،جن کادنیاوی زندگی کے علاوہ کسی دوسری زندگی پر ایمان نہیں ۔توان مشرکین کی تمام تر محبت اس زندگی کے ساتھ اس لئے ہے کہ ان کاکسی دوسری زندگی کاعقیدہ ہی نہیں لیکن اس کے باوجود یہود ان مشرکین سے بھی زیادہ دنیاکی زندگی سے محبت کرتے ہیں۔ ٖآخری آیت میں ان کی اس حالت کابیان ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ وَمِنْ الَّذِينَ اَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنْ الْعَذَابِأَنْ يُعَمَّرَ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ (96) "اور آپ ضرور انہیں لوگوں سے زیادہ زندگی کا حریص پائیں گے،مشرکوں سے بھی زیادہ۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ کاش !وہ ہزار سال کی عمر پائے!مگر عمر پانا انھیں عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ اور اللہ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں"
تواس آیت میں جس زندگی کاذکرہے اس سے مطلق زندگی مراد ہے ،یعنی کوئی بھی زندگی۔لیکن آیت کے اس دوسرے ٹکڑے کےمفہوم کےذریعے اس کی مطلقیت کومقید کیاگیا( يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ )یعنی لمبی عمر ۔
اس آیت میں ( أَحَدُهُمْ ) کی ضمیر مشرکین کی طرف لوٹانابھی جائز ہے ،اور معنی اس طرح ہوگاکہ یہود ان مشرکین سے بھی بڑھ کرزندگی کے حریص ہیں جن میں ایک ایک آدمی ہزارسالہ زندگی کی خواہش کرتاہے کیونکہ یہ مشرکین تودنیاکی زندگی کے علاوہ کسی دوسری زندگی کوجانتے تک نہیں ،اس لئے وہ اس زندگی میں ممکن حد تک عرصہ دراز تک زندہ رہناچاہتے ہیں۔ اوراس میں یہ بھی ممکن ہے کہ ضمیریہود کی طرف لوٹے ،پھر معنی کچھ یوں بنتاہے کہ ان میں سے ہرایک طویل زندگی کاخواہشمند ہوتاہے ۔یہی راجح ہے اوراس کاقرینہ اللہ تعالیٰ کایہ قول ہے(وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنْ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ)ٖ ۔پس مشرکین کااس بات پرایمان نہیں کہ آخرت بھی ہوگی توان کاعذاب سے خائف ہونابھی متصور نہیں۔جہاں تک یہود کی بات ہے توانہیں توآخرت اوروہاں کے عذاب کایقین ہے۔ عذاب کایقین اس لئے ہے کہ اپنے بداعمال کاانہیں احساس ہے ،تووہ کبھی بھی موت کوپسند نہیں کریں گے،تاکہ حتی الامکان عذاب سے بچ سکے۔تو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ خواہ ان کی عمریں کتنی لمبی ہوجائیں ،ہزارسال یااس سے بھی زیادہ،عذاب بہرحال انہیں آپکڑےگا،کیونکہ آخرکار انہوں نے مرکر اپنے رب کے پاس لوٹنا ہے۔
حزب التحریر ولایہ پاکستان ،ملک بھر کے بڑے شہروں میں عوامی اجتماعات سے خطاب کی مہم چلارہی ہے۔جس طرح رسول اللہﷺ نے انصارکی نصرۃ (مدد)سے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی تھی،ویسے ہی حزب کے بہادر شباب نبوت کے اس طریقہ کار کے مطابق افواج پاکستان سے خلافت کے قیام کے لیے نصرۃ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ وہ عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ افواج پاکستان میں موجود اپنے والد، چچاؤں، بھائیوں اور بیٹوں سے مطالبہ کریں کہ وہ کفریہ جمہوریت کی حمائت سے ہاتھ کھینچ لیں اور خلافت کے قیام کے ذریعے اسلام کے نفاذ کے لیے مدد فراہم کریں۔
اے افواج پاکستان کے افسران! اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں : وَاتَّقُوا فِتْنَةً لاَ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ "اور تم ایسے وبال سے بچوکہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے" (الانفال:25)۔ ہمارا ایمان ہمیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کبھی بھی ظالم کے ظلم سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ ہمیں اللہ کے غضب سے ڈرنا چاہیے اگر ہم نے ظالم کے کھڑے کیے ہوئے فتنے اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی معاشی بدحالی اوراقوام عالم کے سامنے تذلیل کی دلدل میں ڈوب جانے پر خاموشی اختیار کی۔اب بہت ہوچکا کہ آپ کے درمیان مشرف اور کیانی جیسے لوگوں کو مزید برداشت کیا جائے!بہت ہوچکی ان کی اطاعت جو زرداری اور نواز شریف جیسے حکمرانوں کی حمائت کرتے ہیں! ان غداروں کی غداری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے اور ان کے امریکی آقاؤں کو ہمارے معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے کی حزب التحریر کی جدوجہد کا ساتھ دو۔ اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ کی مرضی کے خلاف کوئی مصیبت تم پر نہیں آسکتی، اللہ کی راہ میں آگے بڑھو۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی فرماتے ہیں، قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُمْ مِنْ اللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً وَلاَ يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًا "پوچھئے!اگر اللہ تعالٰی تمھیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمھیں بچا سکے؟اپنے لیے سوائے اللہ تعالٰی کے نہ کوئی حمائتی پائیں گے نہ مددگار" (الاحزاب:17)۔
مزید تصاویر کے لئے یہاں کلک کریں
اس سال ستمبر میں لاہور کی پانچ سالہ بچی کے ساتھ زنا بالجبر اور پھر اس کو ایک ہسپتال کے باہر پھینک دینے کے واقع نے پاکستان اور پوری دنیا کو لرزا دیا۔ اس بھیانک واقع کو چند روز ہی گزرے تھے کہ فیصل آباد میں ایک چھوٹی بچی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کالج کی ایک طالبہ زنا بالجبر کا شکار ہوں گئیں۔ حالیہ چند سالوں میں پاکستان میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ زنا بالجبر کے واقعات نے ملکی میڈیا کی کی شہ سرخیاں بنیںاور میڈیا نے پاکستان میں ان بڑھتے ہوئے گھناؤنے واقعات کو عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس جرم میں ملوث افراد کا تعلق معاشرے کے کسی مخصوص طبقے سے نہیں تھا بلکہ وہ مختلف پس منظر رکھتے تھے۔اسلام آباد کی ایک غیر حکومتی تنظیم(NGO) "ساحل" کے مطابق 2012 میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے 3861مقدمات ریکارڈ کیے گئے جوکہ 2011 کے مقابلے میں 17فیصد زائد ہیں۔صرف اس سال ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے لاہور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 113 واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ لیکن اس مسئلہ کی شدت ان اعدادوشمار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس جرم کے حوالے سے معاشرے میں موجود شرم،مجرم کی جانب سے مزید حملے کے خوف اور پولیس کا اس جرم کے شکار مظلوموں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کی وجہ سے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس جرم کے واقعات اکثر منظر عام پر لائے ہی نہیں جاتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان واقعات کو پولیس کے پاس مقدمات کی صورت میں درج نہ کروانے کی وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین اور ان کے اہل خانہ اس قانونی نظام پر اعتماد کھو چکے ہیں جو انصاف کی فراہمی میں انتہائی تاخیر کرتا ہےجہاں ان مقدمات میں سزاؤں کا تناسب انتہائی کم ہے اور پولیس اور عدلیہ میں موجود کرپشن کی بنا پر اکثر ملزمان رہا ہوجاتے ہیں۔
ان واقعات کے خلاف ملکی سطح پر غم و غصہ صرف اس جرم میں ملوث لوگوں کے خلاف ہی نہیں کہ انھیں سخت ترین سزا دی جائے بلکہ عوام کا غصہ پولیس، سیاست دانوں اور اس نظام کے خلاف بھی ہے جو اس مسئلہ سے نمٹنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ لوگوں کا غم و غصہ اس لیے بھی سیاست دانوں کے خلاف شدید ہے کیونکہ عورتوں اور بچوں کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ان کاتساہل پر مبنی رویہ انتہائی شرمناک اور مجرمانہ ہے۔
جنسی جرائم میں اس قدر اضافے کا شکار صرف پاکستان ہی نہیں ہے۔ ہمارا پڑوسی بھارت پچھلے سال دسمبر میں دہلی کی ایک بس میں 23 سالہ میڈیکل کی طالبہ کے ساتھ ہونے والے زنا بالجبر اور اس کے قتل کے خلاف عوامی غم و غصہ سے گونج اٹھاتھا ۔ اس واقع کے بعد بھی زنا بالجبر کے کئی ایک ایسے واقعات ہوئے کہ جس نے بین الاقوامی میڈیا کو بھی ان واقعات کو اپنی خبروں میں نمایاں جگہ دینے پر مجبور کردیا کیونکہ یہ بات اس لحاظ سے انتہائی اہم تھی کہ یہ مجرمانہ حملے ایک وبا کی طرح اس ملک میں ہورہے تھے جو دنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت بھی ہے۔بھارت میں حالیہ سالوں میں اس قسم کے مجرمانہ حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب یہ جرم بھارت میں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھنے والا جرم بن چکا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق بھارت میں ہر بیس منٹ میں ایک خاتون زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہے اور ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پچھلے چالیس سالوں میں بھارت میں اس جرم میں 792فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان گھناؤنے جرائم کے خلاف ایک بار پھرعوامی غم و غصہ کا نشانہ پولیس اور سیاست دان بنے کیونکہ انھوں نے اس جرم سے متعلق غفلت کا مظاہرہ کیا اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کسی قسم کی تیزی نہیں دِکھائی۔ برطانیہ میں پچھلے ایک سال کے دوران میڈیا میں شوبز کی مشہور و معروف شخصیات کے ہاتھوں بچوں اور چھوٹی بچیوں کو جنسی لذت کے حصول کا ذریعہبنانے اور ملک کے کئی شہروں میں قحبہ خانوں کو چلانے والے گروہوں کی خبریں گردش میں رہی ہیں۔ بچوں کی حفاظت کی ایک تنظیم، NSPCCکے مطابق برطانیہ میں بالغ نوجوانوں کی ایک تہائی تعداد ایسی ہے کہ جو اپنے پچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنے جبکہ برطانیہ کے محکمہء صحت کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ہر دس منٹ میں ایک عورت یا تو جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے یا اس پر جنسی حملہ کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں امراض کو قابو اور اس کے بچاؤ سے متعلق ادارےCenters for Disease Control and Preventionکے مطابق امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک عورت زنا بالجبر یا جنسی حملے کا شکار ہوئی ہے۔ یہ تمام اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیکولر لبرل ممالک میں جنسی حملے ایک عام جرم ہے۔
ان ممالک نے اس غلیظ اور گھناؤنے جرم کے خلاف ہونے والے عوامی ردعمل کے نتیجے میں محض چند نئی پالیسیاں اور قوانین بنائے جن میں مجرموں کے لیے سخت سزائیں بھی شامل ہیں۔ حکومتوں کا اس قسم کا فوری ردعمل اس مسئلہ کو حل کرنے کے حوالے سے ان کی سُست روی کے خلاف عوامی ردعمل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ اس بات کو جانتے بوجھتے نظر انداز کردیتے ہیں کہ اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے مشرق و مغرب میں کی جانے والی کوششیں، جن میں سخت سزائیں بھی شامل ہیں ، اس مسئلے کو حل کرنا تو دور کی بات ، اس کی شدت میں کمی لانے میں بھی ناکام رہیں ہیں۔
ایک چیز جو اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے وہ یہ کہ لبرل اور سرمایہ دارانہ اقدار اور اس نظام کے متعلق سوالات اٹھائیں جائیں جو اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں رائج ہیں۔ زنابالجبر کا عام ہونا، پولیس کا اس کے متعلق بے فکری کا رویہ اور حکومتوں کا اس مسئلہ پر لاپرواہی پر مبنی رویہ دراصل معاشرے کو منظم طریقے سے ایسا بنا دینا ہے جہاں جنسی لذت کا حصول زندگی کے اہم ترین مقاصد میں سےایک ہوتا ہے اور لبرل اقدار مثلاًشخصی آزادی اور جنسی آزادی جس کے نتیجے میں عورت کے وقار اور عزت کو خاک میں ملا دیا جاتا ہے اور سرمایہ دارانہ نظام محض معاشی فوائد کے لیے اس کو فروغ دیتا ہے۔ان تمام چیزوں نے ایسا ماحول پیدا کردیا ہے جس نے مردوں کی نگاہ میں عورت کی عزت و مقام کو پامال کردیا ہے اور ان کی سوچ کو گندا اور غلیظ کردیا ہے جو انھیں ایسے خوفناک جرائم کی جانب مائل کرتا ہے اور پولیس، عدلیہ اورحکمرانوں کی نظر میں اس جرم کی سنگینی کو کم کردیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس جرم کو معمول کے کسی بھی دوسرے جرم کی طرح ہی دیکھتے ہیں اور یہ تمام باتیں بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کو فروغ دیتے ہیں۔
لبرل آزادیاں افراد کو اس بات کی جانب راغب کرتی ہیں کہ وہ اپنی جنسی تسکین کو پورا کرنے کے لیے کسی سے بھی، کسی بھی طریقے سے تعلق قائم کرسکتے ہیں جس کو وہ اپنے لیے مناسب سمجھتے ہوں۔ یہ لبرل اقدار اشتہارات، فیشن، فحش مواد، موسیقی، ٹی وی اور فلمی صنعت کے ذریعے خصوصاً بولی وڈ اور لولی وڈ ثقافت کے ذریعےمعاشرے میں عام کی جاتی ہیں جو پاکستان اور دیگر سرمایہ دارانہ آزاد(لبرل) ممالک میں دیکھی اور پسند کی جاتی ہیں۔ اس قسم کی صنعتیں اور ثقافت معاشرے پر مسلسل فحاشی کی بمباری کرتے ہیں اور جنسی جذبات کو مشتعل کرنے والی خواتین کی تصاویر اور کہانیوں کے ذریعے ایک فرد کے جنسی جذبات کو مسلسل مشتعل کیا جاتا ہے۔ خواتین کو مسلسل ایک شے، ایک چیز کے طور پیش کیا جاتا ہے جس کا مقصد مردوں کی خواہشات اور جذبات کو ہی پورا کرنا ہے اور اس طرح منظم طریقے سے معاشرے میں عورت کے مقام کو پست تر کردیا جاتا ہے۔ ڈرامہ، فلم اور فحش مواد کی صنعت مردوں کے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کو دِکھاتے ہیں جس سے دیکھنے والوں کی نظر میں اس شرمناک تشدد کا احساس ہی باقی نہیں رہتا۔اس کے ساتھ ساتھ شادی کے بندھن سے باہر مرد و عورت کے جسمانی تعلق کو ایک عام حقیقت قرار دیا جاتا ہے بلکہ اسے خوش نما عمل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ایسی تہذیب پیدا ہوتی ہے جس میں مردو عورت کا تعلق محض ایک جنسی تعلق بن کر رہا جاتا ہے۔
یہ اسی خطرناک ماحول کا نتیجہ ہے کہ بہت سے مرد یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ سزا سے بچ نکلیں گے،اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں چاہے بچوں، بچیوں اور خواتین کو اس شرمناک حرکت کا نشانہ ہی کیوں نہ بنانا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ماحول نے نہ صرف اس جرم کے مرتکب افراد کی نظروں میں عورتوں اور بچے بچیوں کی حرمت کو گھٹا دیا ہے بلکہ اُن لوگوں کی نگاہ میں بھی یہ کوئی غیر معمولی عمل نہیں ہوتا جن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور افراد یعنی بچوں اور خواتین کو تحفظ فراہم کریں اور اسی وجہ سے ہم اس جرم کے خلاف ان میں کسی قسم کی غیر معمولی حرکت نہیں دیکھتے۔ لہٰذا اس قسم کی صنعت کو بے ضرر تفریحی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کا منظم طریقے سے معاشرے کو جنسیات میں مشغول کردینا اور عورت کے مقام کو کمتر کردینا ریاست میں موجود خواتین اور بچوں کی حفاظت کے حوالے سے منفی نتائج پیدا کرتے ہیں۔ اور کرپٹ سرمایہ دارانہ نظام ان تمام خبائث کی پشت پناہی کرتا ہےکیونکہ اس نظام میں کسی بھی قیمت پر منفعت کی پیاس بجھتی ہی نہیں اور وہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں چاہے اس کے نتیجے میں معاشرے میں عورت کا وقار مٹی میں مل جائے اور جنسی جرائم میں خوفناک حد تک اضافہ ہوجائے۔
تو پھراس مسئلہ کا حل کہاں ہے؟ اس مسئلے کو اخلاص سے حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم لبرل، سرمایہ دارانہ اقدار اور اس کے نظام کو مسترد کردیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے لازمی ہے کہ ہم ان اقدار اور اس نظام کو قبول کریں جو کسی بھی صورت عورت کے مقام و مرتبے کی تذلیل نہ کرتا ہو، جو پیسے کو اخلاقیات پر فوقیت نہ دیتا ہو اور مردو وعورت کے تعلق کو محض جسمانی تعلق ہی نہ سمجھتا ہو بلکہ ان کی اس جبلت کو ایسے طریقے سے پورا کرتا ہو جو معاشرے کے لیے نقصان کا باعث نہ بنے بلکہ نہ صرف مرد و خواتین بلکہ معاشرے کی فلاح اور ترقی کا باعث بھی بنے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ہمیں کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلامی طرز زندگی اور اس کے نظام میں یہ سب کچھ موجود ہے جو کہ اس کے عقیدے سے نکلتا ہے اور اس عقیدے کو پاکستان کے مسلمان دل و جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور وہ عقیدہ ہے اسلام۔
اسلام نے عورت کے مقام ومرتبے، عفت و عصمت کو دنیا بھر کے خزانوں سے زیادہ قیمتی قرار دیا ہے اور اس کے تحفظ کو ویسے ہی لازمی قرار دیا ہے جیسا کہ اسلام کا تحفظ کرنا۔ رسول اللہﷺ نے خواتین کے متعلق فرمایا:((إنما النساء شقائق الرجال ما أكرمهن إلا كريم وما أهانهن إلا لئيم))"خواتین مردوں کا آدھا حصہ ہیں۔ ایک شریف آدمی خواتین کے ساتھ عزت سے پیش آتا ہے لیکن ایک جاہل مرد،عورت کی تذلیل کرتا ہے"۔ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا کہ ((اتقوا الله في النساء))"خواتین کے معاملے میں اللہ سے ڈرو" اوررسول اللہﷺ نے عورت کو مرد کے ہاتھ میں ایک امانت قرار دیا اور اس امانت کی حفاظت کے لیے ایک پورے قبیلے کو مدینہ بدر کر دیا کیونکہ بنو قینُقہ نے ایک مسلمان عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالا تھا۔لیکن اسلام صرف خواتین اور بچوں کی حفاظت اور ٖفلاح کو ہی انتہائی اہمیت نہیں دیتا بلکہ وہ ایک تفصیلی نظام اور اقداربھی فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں ریاست اپنے شہریوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرتی ہے اور معاشرے کو ایک مخصوص شکل دینے کے لیے اس نظام کے قوانین ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسرے کے لیے تقویت کو باعث بنتے ہیں۔
سب سے پہلے اسلام لبرل شخصی اور جنسی آزادیوں کو مستردکرتا ہے بلکہ معاشرے میں خوف خدا کے احساس کو پروان چڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں احتساب پر مبنی ذہنیت پیدا ہوتی ہے جو مردکو خواتین اور بچوں کی عزت کرنے کی جانب مائل کرتی ہے۔ لہٰذا اسلام معاشرے میں جنسیات کی ترویج کی ممانعت کرتا ہے اور جنسی جبلت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے معاشرے کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ایسے تمام اعمال کی ممانعت کرتا ہے جس کے نتیجے میں عورت کو ایک شے کے طور پر دیکھا جائے اور عورت کا استحصال کیا جائے۔ اس طرح مردو عورت کے تعلقات کا محورکبھی بھی محض جنسی تسکین نہیں ہوتی اور عورت کا مقام و مرتبہ بھی برقرار رہتا ہے۔
دوسرا یہ کہ اسلام کا معاشرتی نظام ایسے قوانین کا مجموعہ ہے جو مردو عورت کے تعلقات کو منظم کرتا ہے۔ اس میں شریفانہ لباس، مرد و عورت کے اختلاط کو روکنا اور شادی کے بندھن سے باہر ان کے جسمانی تعلق کی ممانعت بھی شامل ہے۔ یہ تمام اقدامات مرد وعورت کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ جنسی جبلت کی تسکین کو صرف اور صرف شادی کے بندھن کے ذریعے سے ہی پورا کرسکتے ہیں۔ لہٰذا جنسی جبلت کو دبایا نہیں جاتا اور نہ ہی کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے بلکہ اس کی اس طرح تسکین کی جاتی ہے کو معاشرے کے لیے فلاح کا باعث ہو۔
اور تیسری بات یہ کہ اسلام جنسی جرائم کے خلاف انتہائی سخت سزائیں مقرر کرتا ہے جس میں چند مخصوص مقدمات میں موت کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام اس بات کو لازمی قرار دیتا ہے کہ ایک ایسا موثر عدالتی نظام ہو جو ان جرائم سے باآسانی نمٹ سکے۔
یہ تمام اقدامات عورتوں اور بچوں پر جنسی حملوں کو انتہائی کم کردیتے ہیں اور ایسا معاشرہ پیدا کرتے ہے جہاں لوگ خوف کی حالت میں نہیں رہتے بلکہ انھیں تحفظ کا احساس ہوتا ہے اور یہ تحفظ کا احساس انھیں بغیر کسی خطرے کےسفرکرنے، پڑھنے اور کام کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن یہ ماحول صرف اسی وقت پیدا کیا جاسکتا ہے جب ایک ریاست اسلام کا نظام مکمل طور پر اسلام کے نظام حکمرانی کے تحت نافذ کرے اور خواتین و بچوں کی عفت و عصمت کے تحفظ کو انتخابی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ یاست کیپالیسی میں اولین ترجیح قرار دے۔ اس میں تعلیمی نظام اور میڈیا بھی شامل ہے جو معاشرے میں عورت کے بلند مقام کی ترویج کرے گا نہ کہ اس کو ایک ایسی شے کے طور پر پیش کرے جس کا کام مردوں کی خواہشات کو پورا کرنا ہو۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ سمجھنا کہ اس جرم کے خلاف شعور کی بیداری کے لیے مہم چلانے سے، پولیس کو بہتر تربیت دینے سےیا زیادہ سخت قوانین بنانے سے خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں قابل ذکر کمی آجائے گی جبکہ دوسری جانب ایسا نظام نافذ ہو جو منظم طریقے سے خواتین اور بچوں کے عزت و مرتبے کو گھٹا تا ہو ، ان کے تحفظ کی ذمہ داری سے کوتاہی برتتا ہو، ایک خواب ہے جس کی تعبیر ممکن ہی نہیں۔ جب تک کہ اس تصور اور اس کی ترویج کرنے والی حکومت کو پاکستان سے اکھاڑ نہیں پھینکا جائے گا جو معاشرے میں ایسے جرائم کے پیدا ہونے کی بنیادی وجہ ہے اور اس کی جگہ اسلام کو نافذ نہیں کیا جاتا جو ایسی اقدار کی ترویج کرتا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کی عزت و حرمت کو تحفظ حاصل ہو، تو ایسے انتہائی افسوسناک اور خوفناک واقعات کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا اور خبروں کی سرخیوں کی زینت بنتے رہیں گے۔
ڈاکٹر نظرین نواز
حزب التحریر کے میڈیا آفس کی رکن
حزب التحریر نے ولایہ پاکستان میں شام اور مصر کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرتحریر تھا: " مصر کا فرعون مسلمانوں کی لاشوں پر امریکی راج کی حفاظت کر رہا ہے" ، " شام میں مسلمانوں کاقتل عا م خلافت کےقیا م کو نہیں روک سکتا" اور " امریکی راج کی محافظ 'جمہوریت' ختم کرو، امت کی ڈھال' خلافت' کو قائم کرو"۔ یہ مظاہرے اس وقت کیے گئے ہیں جب پاکستان کے مسلمان واضع طور پر مصر میں اس کی افواج کے کردار اوراسلام کے لیے شام کے مسلمانوں کی استقامت کو دیکھ رہے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب امت امریکی تکبر اور جبر کے خلاف غصے سے بھری بیٹھی ہے ، حزب التحریر افواج پاکستان کے افسران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کفریہ جمہوریت اور امریکی راج کا خاتمہ کریں اور خلافت کے قیام کے ذریعے اسلام کی حاکمیت کو بحال کریں۔ افواج پاکستان میں موجود مخلص افسران کا یہ عمل ہی مصر، شام، پاکستان اور پوری مسلم دنیا میں صورتحال کو مسلمانوں کے حق میں تبدیل کر دے گا۔ صرف اسی صورت میں تمام مسلمان ایک خلیفہ راشد کی قیادت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ایک عظیم قوت کی شکل اختیار کرلیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَلَ كَانَ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرٌ وَإِنْ يَأْمُرْ بِغَيْرِهِ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ "امام (خلیفہ) ڈھال ہے جس کے پیچھے رہ کر تم لڑتے ہو اور اپنا تحفظ کرتے ہو۔ تو اگر وہ تقوی اور انصاف کی بنیاد پر حکمرانی کرتا ہے تو اس کے لیے اجر ہے اور اگر وہ اس سے ہٹ کر حکمرانی کرتا ہے تو یہ اس کے خلاف ہی جائے گا"(بخاری)۔
یہاں کلک کریں
عین اسی دن جب امریکہ حکومت پاکستان کے طالبان کے ساتھ 'امن' مذاکرات سے باخبر رہنے اور ان پر قریب سے نگاہ رکھنے کی بات کرتا ہے ، امریکہ پاکستان کی حدود میں تحریک طالبان پاکستان کے ایک رہنما حکیم اللہ کو قتل کردیتا ہے۔ حکومت کا یہ کہنا کہ امریکہ مذاکرات کے عمل کو تباہ اور ناکام کردینا چاہتا ہے ، ایک سفید جھوٹ ہے۔ درحقیقت امریکہ بم دھماکوں اور قتل غارت کے اس مہم کے ذریعے 'امن' مذاکرات کے لیے حمائت پیدا کررہا ہے۔ امریکہ اور اس کے ایجنٹ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ امت اور ان کی افواج میں امریکہ دشمن جذبات انتہا پر ہیں، لہٰذا وہ ان جذبات کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
جب سے امریکہ اس خطے میں داخل ہوا ہے، وہ اور اس کے ایجنٹ 'ڈبل گیم' کا ڈرامہ رچا کر امریکی مفادات کے حصول کو یقینی بنارہے ہیں۔ مشرف اور شوکت عزیز کا 'ڈبل گیم' یہ تھا کہ وہ اس امریکی خطرے کا اظہار کرتے تھے کہ امریکہ ہمارے علاقے میں اپنی فوجو ں کوداخل کردے گالہٰذا ہماری افواج کو قبائلی علاقوں میں خود فوجی آپریشن کرنا چاہیے۔ زرداری اور کیانی حکومت کا 'ڈبل گیم' یہ تھا کہ قبائلی علاقوں میں امریکی اور بھارتی اثرو رسوخ کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشنز کو مزید علاقوں تک پھیلا دیا جائے۔ درحقیقت امریکہ کو اس بات کی ضرورت تھی کہ پاکستان کی افواج اُس کی جنگ لڑیں کیونکہ اُس کے اپنے بزدل فوجی توانتہائی غیر معیاری اسلحے سے لیس مجاہدین کے خوف سے خودکشیاں کرتے ہیں۔ اور نوازشریف اور کیانی کا 'ڈبل گیم' یہ ہے کہ 'امن' مذاکرات کے ذریعے خطے میں امریکہ کے مستقل قیام کے مقصد کو حاصل کیا جائے جس کے تحت افغانستان میں نو (9) امریکی اڈوں کا قیام، اسلام آباد میں قلع نما سفارت خانے کی تعمیر اور پاکستان اور افغانستان میں ایک لاکھ کے لگ بھگ نجی امریکی سکیورٹی کے افراد کے قیام کو ممکن بنایا جائے جو 'ریمنڈ ڈیوس نیٹ ورک' کی صورت میں ملک بھر میں بم دھماکوں اور قتل و غارت گری کی مہم کو جاری رکھ سکیں۔
اے افواج پاکستان کے افسران! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ((لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ)) "مؤمن ایک ہی سوراخ سے دو بار ڈسہ نہیں جاتا"۔ سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار آپ کے ساتھ اپنے امریکی آقاؤں کے لیے 'ڈبل گیم' کھیل رہے ہیں، جو کہ آپ کے کھلے دشمن ہیں۔ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ خلافت کے قیام کےلیے حزب التحریر کو نصرۃ فراہم کریں جس کی قیادت مشہور فقیہ اور رہنما شیخ عطا بن خلیل ابو الرَشتہ کررہیں ہیں۔ صرف خلافت کے قیام کی صورت میں ہی آپ کا حرکت میں آنا دین کے احکامات کے تحت ہوگا ، آپ پاکستان اور خطے سے صلیبی قبضے کے خاتمے کے لیے حرکت میں آئیں گے اور اس کی فوج ، انٹیلی جنس، ٖفوجی اڈوں، قونصل خانوں اور سفارت خانے کا خاتمہ کردیں گے۔
سوال: ہم کتاب و سنت میں خوشگوار، مطمئن اور مامون ازدواجی زندگی کے بارے میں پڑھتے ہیں، لیکن ہمارے اس دور، جس میں ہم زندگی بسر کررہے ہیں، ازدواجی بندھن میں جڑے جوڑوں میں بہت اختلافات پائے جاتے ہیں ، حتٰی کہ دعوت میں شریک لوگوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یہ اختلافات کبھی میاں بیوی کے مابین اپنے رہائشی گھر کے انتخاب پر، یا دلہا دلہن کے والدین کے ساتھ تعلق پر، یا انکے رشتہ داروں سے ملاقات پراور بالخصوص شوہر کے رشتہ داروں سے ملاقات پر، جنہیں (حدیث میں) موت گردانا گیا ہے، نظرآتے ہیں۔ دونوں کے والدین اس پر اصرار کرتے ہیں کہ یہ اس کے بیٹے یا اسکی بیٹی کا حق ہے یا یہ اور یہ داماد یا بہو کی ذمہ داری ہے ، اور دونوں اپنی رائے پر، اس خیال سے کہ وہ شریعت کی رُو سے حق بجانب ہیں ، سختی سے ڈٹے رہتے ہیں ، اور اپنی پوزیشن سے ذرا سا بھی پیچھے ہٹنے یا ترمیم پر تیار نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں آپ کیا نصیحت کریں گے خصوصاً ان لوگوں کو جو دعوت کی سرگرمیوں میں شامل ہیں؟ مزید یہ کہ اس آیت مبارکہ کا کیا معنی ہے؛
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى
"اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کر اور خود بھی اس پر قائم رہ۔ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، ہم تجھے روزی دیتے ہیں اور پرہیزگاری کا انجام اچھا ہے۔"
(سورہ طہ۔ 20:132)
جزاک اللہ خیراً
جواب: ہمیں آپ کے اس سوال سے حیرانی کے ساتھ ساتھ دکھ بھی ہوا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ جو اس خالص اور پاک دعوت کو لے کر چل رہے ہوں، اپنی ذاتی زندگیوں میں ہی ناکام ہو سکتے ہیں؟ آخر کیسے ان کی زندگیاں احترام اور محبت کے بجائے نفرت اور بغض سے بھر سکتی ہیں...؟
درحقیقت شادی شدہ زندگی بے جان چیزوں کی مانند 1+1=2کی مساوات نہیں، یہ تو رحمت اور شفقت، سکون اور اطمینان سے عبارت ہوتی ہیں۔ اس عائیلی زندگی کو ایسی بے جان اور جامدمساوات سمجھنے والے ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے زندگیوں کو رحمت، قربت اورگرمجوشی سے بھرنے سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا؛
وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس جا کر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی، بے شک جو لوگ غور و فکر کرتے ہیں ان کیلئے اس میں نشانیاں ہیں۔" (سورہ روم:21)
ایسے لوگوں کو کافی زیادہ سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ، اور انھیں اس پر غور کرنا چاہئے جو کچھ انھوں نے سیکھا ہے۔ مزید برآں ایسے لوگوں کو سزا بھی ملنی چاہئے! بہر کیف ، سوالات کے جوابات درج زیل ہیں؛
1)ازدواجی زندگی سے متعلق سوالات کے جوابات:
شادی شدہ لوگوں سے متعلق رسول اللہ کی حدیث پاک ہے،
«خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي» أخرجه الترمذي وابن ماجة.
''تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں سے اچھا ہے اور میں اپنے گھر والوں سے سلوک میں سب سے بہتر ہوں۔'' ترمذی، ابن ماجہ
بیویوں کیلئے: ابوہریرہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں،
«لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»
''اگر میں کسی کو کسی کے آگے سجدے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو ان کے شوہروں کے آگے سجدے کا حکم دیتا۔''
( یہ حدیت ترمذی میں روایت ہے ، اسی طرح کے الفاظ میں ابن ماجہ میں ہیں۔ یہ حدیث سعید بن مسیب اور عائشہ سے بھی روایت ہے)
میں ایک بار پھر اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ شادی شدہ جوڑوں کیلئے یہ ایک لازمی امر ہیں کہ وہ سمجھیں کہ خانگی زندگی 1+1=2کی طرح کی بے جان اورجامد مساوات نہیں، بلکہ یہ تعلق تو خوشیوں اور اطمینان کا باعث ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے؛
لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً
"تاکہ تم ان کے پاس جا کر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی۔" (سورہ روم:21)
بیوی کو اپنے شوہر کا وفادار ہونا چاہئے اور ان کواپنے شوہرکے دل کو خوشیوں سے بھر دینا چاہئے خواہ یہ سب کچھ ان کے اپنے آرام اور سکون کی قیمت پرہی کیوں نہ ہو۔ کوئی بھی عقلمند عورت اپنے شوہر سے یہ نہیں کہے گی کہ میں آپکی وفادار ہوں لیکن مجھے آپکے والدین سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ اسلئے ہے کہ ہر عقلمند عورت کو پتا ہو گا کہ اگر وہ اپنے شوہر کے والدین سے اچھا برتاؤ کرے گی اور ان کا خیال رکھے گی تو اس کا یہ برتاؤ اسکے شوہر کیلئے خوشیوں کا باعث بن جائے گا جو کہ اس کیلئے فرض ہے...رسول اللہﷺ نے فرمایا؛
«مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَيْهَا أَبَرَّتْهُ وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ» أخرجه ابن ماجه عن أبي أمامة
''مومن کیلئے تقوی کے بعد اچھی بیوی سے بڑھ کر کسی بھی چیز میں خیر نہیں کہ جب وہ اسے کسی چیزکا حکم دے تو وہ اسے پورا کرے، اور جب وہ اس پر نگاہ ڈالے تو اس کا دل خوشی سے بھر جائے، اگر وہ شخص اس کے لیے قسم کھائے ، تو وہ اس کو سچ کر دکھائے، اور جب اس کا شوہر دور ہو تو بیوی اسے اچھی نصیحت کرے اور اپنے اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے۔'' (یہ حدیث ابن ماجہ میں ابو امامہ اور اسی طرح کی حدیث ابو داؤد میں ابن عباس نے روایت کی ہے۔)
اسی طرح شوہر کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی سے احسن برتاؤ کرے اور اس کی زندگی کو آرام دہ بنائے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا؛
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا
''اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بود و باش رکھو گو کہ تم انھیں ناپسند کرو، بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سے بھلائی کر دے۔''
(النساء: 19)
شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کی اچھی زندگی کے حقوق پورے کرے اور اسی طرح وہ اپنے والدین کے حقوق کو بھی پورا کرے جو کہ اس پر فرض ہیں، لیکن بیوی کے حقوق میں کسی قسم کی کمی کئے بغیر۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا؛
وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
''اور تمہارا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنااور ماں باپ کے ساتھ احسن سلوک کرنا۔'' ( الاسرا ء:23)
اور فرمایا؛
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا
'' اور ہم نے ہر انسان کو اپنے والدین کے ساتھ عمدہ برتاؤ کرنے کی نصیحت کی ہے۔''
عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں ؛
«سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» أخرجه البخاري.
میں نے رسول اللہ سے پوچھا؛ ''اے اللہ کے نبیﷺ، سب سے بہترین عمل کونسا ہے؟'' آپ ﷺنے جواب دیا؛ ''نماز کو اپنے اولین اوقات میں ادا کرنا''۔ میں نے پوچھا ؛ ''اور اے اللہ کے رسول! اس کے بعد؟'' آپﷺ نے جواب دیا ، ''والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ۔'' میں نے مزید پوچھا، ''اور اس کے بعد؟'' آپ ﷺ نے فرمایا؛ ''اللہ کی راہ میں جہاد میں شرکت۔'' (بخاری)
کوئی عقلمند شوہر بیوی کو اپنے والدین اوررشتہ داروں سے اچھے تعلق سے منع نہیں کرے گی، نہ ہی وہ اسے ان سے اچھے برتاؤ اور تعلقات بڑھانے سے روکے گا ، جسکی بدولت دونوں میں ازدواجی قرابت داری پیدا ہو گی۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس آیت میں سسرالی رشتہ داریوں کو خونی رشتہ داریوں سے مماثلت دی۔ فرمان ہے؛
أَلَمْ تَرَ إِلَى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَيْهِ دَلِيلًا...
''کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سائے کو کس طرح پھیلا دیا ، اگر چاہتا تو اسے ٹھہراتا ہوا ہی کر دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس کا سبب بنا دیا طلوع آفتاب کے بعد سایہ گھٹتا رہتا ہے اور کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتا ہے اور پھر زوال کے بعد سایہ بڑھتے بڑھتے غروب کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے اور اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ بھی نہ ہوتا..."
یہاں تک کہ اللہ فرماتا ہے؛
وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَحْجُورًا * وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيرًا
''اور وہی ہے جس نے دو سمندر ایسے ملا رکھے ہیں ، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری اور کڑوا، اور دونوں کے درمیاں ایک مستحکم آڑ بنا دی ہے۔اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا کیا ہے، اور پھر اسے نسب سے رشتہ والا بنا دیا اور سسرالی رشتوں والا بنا دیا۔ اور بلاشبہ آپ کا پروردگار ہر چیز پر قادر ہے۔ '' (الفرقان: 53-54)
سسرالی رشتوں اور نسبی رشتوں سے نسبت دینے سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں رشتے قابل احترام اور قابل توجہ ہیں اور دونوں رشتوں سے رب کی عظمت اورطاقت کی عکاسی ہوتی ہے۔
یہ نکات اکیلے ایک عقلمند شوہر اور ایک عقلمند بیوی کیلئے کافی ہیں
إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ
''بے شک اس میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جس کے پاس (فہیم) دل ہو یا وہ متوجہ ہو کر (بات کی طرف) کان ہی لگا دیتا ہو '' (سورہ ق: 37)
اور وہ لوگ جو اس سے سبق حاصل نہیں کرتے تو ان کیلئے مزید تفصیل بھی کافی نہیں ہو گی۔
2)جہاں تک دیگر سوالات کا تعلق ہے تو اگرچہ وہ مرکزی سوالات نہیں تاہم متعلقہ ضرور ہیں۔
ا) جہاں تک سسرالی رشتہ داروں کا انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہونے کا تعلق ہے یہاں تک کہ ان کو موت سے تشبیہ دینے کی بات ہے ، جیسا کہ بخاری میں عقبہ بن عامر سے روایت حدیث میں ہے؛
«إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ»
'' اللہ کے نبی ﷺنے کہا ؛ ''عورتوں سے میل ملاپ سے خبردار رہو۔'' انصار میں سے ایک شخص نے کہا ؛ ''الْحَمْو (شوہر کے بھائی اور بھتیجے وغیرہ) کے بارے میں کیا حکم ہے؟'' رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا؛ '' 'الْحَمْ' تو موت ہے۔''
یہ معاملہ ایسی صورتحال سے متعلق ہے جہاں عورت کا شوہر یا کوئی محرم موجود نہ ہو ، اور وہ اپنے ایسے سسرالی رشتہ داروں کے مابین اکیلی(خلوت میں) ہوجو اس کے محرم نہیں۔ 'الْحَمْو'، شوہر کے وہ رشتہ دار ہیں جو بیوی کیلئے محرم نہیں جیسے کہ شوہر کے بھائی یا کزن ... جہاں تک سسر کا تعلق ہے ، اگرچہ لغوی طور پر وہ بھی 'الْحَمْو' میں شامل ہے لیکن وہ اس حدیث کے زمرے میں نہیں آتا کیونکہ وہ عورت کیلئے محرم ہے۔ 'الْحَمْو' کے عورت سے خلوت میں ملنے کو موت سے تشبہہ دی گئی ہے جو کہ معاملے کی حرمت کی سنجیدگی اور شدت کو ظاہر کرتاہے۔
پس ایسی صورتحال میں جہاں شوہر یا عورت کا محرم رشتہ دار موجود ہو ، تو اس صورتحال میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور شرع نے اس کی اسی طرح اجازت دی ہے جیسے نسبی رشتہ داروں سے ملنا یا کھانے کے موقع پر اکٹھے ہونا، جو چیز منع ہے وہ خلوت میں ملنا ہے۔ اسی حدیث کی تشریح میں ابن حجر فتح الباری میں رقمطراز ہے؛
''ابنِ وھب نے اس حدیث کی تشریح میں مزید یہ بات بیان کی جسے مسلم نے روایت کیا ہے : میں نے لیث ابن سعیدکو کہتے سنا : 'الْحَمْو' کا مطلب ہے شوہر کا بھائی یا اس طرح شوہر کے رشتہ داروں میں سے دوسرے لوگ جیسے کہ کزن وغیرہ۔ اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد ترمذی لکھتے ہیں ؛ "یہ کہا گیا ہے کہ یہ شوہر کے بھائی سے متعلق ہے ... وہ مزید کہتے ہیں : یہ حدیث جیسا کہ روایت ہے بیان کر رہی ہے کہ ایک مرد کو ایک عورت کے ساتھ خلوت میں نہیں ہونا چاہئے ، اور جب وہ خلوت میں ہو تو ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔"
اسی طرح ایک حدیث ان عورتوں کے متعلق بھی ہے جن کے شوہر موجود نہ ہو۔ ترمذی اور مسلم میں جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
«لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ»
''ان عورتوں سے ملنے مت جاؤجن کے خاوند گھروں سے دور ہو ں کہ شیطان تم میں ایسے موجود ہے جیسے کہ خون جسم میں دوڑتا ہے۔''
پس 'الْحَمْو' کا معاملہ اور ان کا عورت سے خلوت میں ملنے کے معاملے کا تعلق اس جگہ تک ہے جب اس عورت کا شوہر یا دوسرے محرم رشتہ دار موجود نہ ہو۔ شوہر کے گھر سے دور ہونے یا موجود نہ ہونے کے وقت عورت سے ملنے سے ممانعت دراصل خلوت میں ملاقات سے منع کرنے کا معاملہ ہے۔ جہاں تک شوہر یا دوسرے محرم رشتہ داروں کی موجودگی میں ملنے کا تعلق ہے تو شرع نے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ پس بیوی کے اپنے شوہر کے خاندان سے اور شوہر کے اپنی بیوی کے خاندان سے تعلق کو شرع کے مطابق مضبوط بنانے کی مکمل اجازت ہے۔
ب ) بیوی کا گھر وہی ہے جہاں اس کا شوہر رہتا ہے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ سکونت اختیار کرے جب تک کہ وہ گھراسے نفیس زندگی فراہم کرے اوروہ شوہر کی استطاعت کے لحاظ سے ہو۔ اسے شوہر کو حکم دینے کا حق نہیں کہ وہ اپنے شوہر کو بتائے کہ اسے کہاں رہنا ہے ، بلکہ وہ رہائش سے متعلق اچھے انداز سے شوہر سے گفتگو و شنیدکرے۔ تاہم اس معاملے میں شوہر کی رائے حتمی ہوتی ہے اور بیوی کو وہیں رہنا چاہئے جہاں اس کا شوہر اس کو ٹھہرائے۔ قرآنِ پاک میں ہے؛
أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ
''ان کو (مطلقہ عورت کو) وہاں بساؤ جہاں تم رہتے ہو، حسب توفیق۔'' ( الطلاق :06)
یہ آیت ایک مطلقہ عورت کے عدت کی مدت کے دوران رہنے کی جگہ کے بارے میں ہے کہ یہ اس کے سابقہ شوہر کا فرض ہے کہ وہ عدت کی مدت میں اس کو رہنے کی جگہ مہیا کرے۔ پس بیوی کے معاملے میں یہ بدرجۂ اُولیٰ ہے۔ 'سَكَنْتُمْ' کا مطلب ہے جہاں تم رہتے ہو، اور 'مِنْ وُجْدِكُمْ' کا مطلب ہے حسبِ توفیق۔ پس جب تک عورت کو ایک مناسب اور محفوظ گھر شریعت کے مطابق مہیا کیا گیا ہو ، جس کی اس کا شوہر استطاعت رکھتا ہوں، تواس کا اپنی مرضی کے گھر کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر خلع یا طلاق طلب کرناشرعی احکامات کے خلاف ہے۔۔۔
پ) شوہر کو اجازت نہیں کہ وہ بیوی کو اپنے والدین سے تعلق رکھنے سے روکے:
یہ اسلئے ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو شرع نے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے نسبی رشتہ داروں سے تعلق کو قائم رکھیں۔ یہ حکم نہ صرف مرد کیلئے ہے بلکہ یہ عورت کیلئے بھی ہے کیونکہ خطاب عام ہے اور اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ رسول اللہﷺنے فرمایا؛
«لا يدخل الجنة قاطع رحم»
''قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔''
'قطع رحمی کرنے والا' عمومی حکم ہے ممنوعیت کے لحاظ سے، اور 'جنت نہیں جائے گا' بھی عام ہے اور اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہے۔ جس طرح شوہر کیلئے اپنے والدین سے تعلق قائم رکھنا فرض ہے ، اسی طرح عورت کیلئے اپنے والدین سے تعلق رکھنا فرض ہے۔ پس اگر شوہر، بیوی کو اپنے والدین سے تعلق قائم رکھنے سے منع کرے گا تو وہ گناہ گار ہو گا۔ اگر ایسا معاملہ ہمارے نوٹس میں آیا تو ہم اس پرمناسب انتظامی سزا دیں گے۔
نتیجہ: یہ شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیوی کے والدین کے ساتھ بیوی کے تعلقات قائم رکھنے کو آسان بنائے، بغیر اس امر کے کہ بیوی اپنے شوہر اوراسکے گھر کے حقوق میں کوئی کوتاہی کرے۔ ایک دانا شوہر اور بیوی، جو متقی اور مخلص ہوں ، کیلئے یہ معاملہ آسان ہے۔ انہی جوڑوں کے صلہ رحمی کے معاملے مشکل بنتے ہیں جو اس دعوت کی جنس سے نہ ہوں ، جو کہ اللہ کے ساتھ اخلاص اور رسول اللہ اکے ساتھ صدق کا تقاضا کرتی ہے۔
ت) جہاں تک اس آیت کا تعلق ہے:
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى
"اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کر اور خود بھی اس پر جما رہ۔ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تمھیں روزی دیتے ہیں اور اچھا انجام (جنت) تو متقیوں ہی کیلئے ہے۔" (طہ: 20-132)
اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اور تمھارا گھرانہ اللہ کی عبادت کرو، نماز پڑھو ، اوزندگی اور رزق کے معاملے کو سر پر سوار نہ کرو۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمھیں رزق دیتے ہیں اور ہم تمھیں یہ نہیں کہتے کہ تم اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کے رازق بنو۔ تمہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا مطیع ہونا چاہئے اور اپنے خاندان کو بھی یہ حکم دینا چاہئے ، اور یاد رکھو کہ اچھا انجام تو متقیوں کیلئے ہے۔
موطا امام مالک میں زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، ''عمر بن الخطاب رات کو عبادت میں اس قدر مصروف رہا کرتے جتنا کہ الل ان کیلئے چاہتے تھے، اور وہ رات کے آخری حصے میں اپنے گھر والوں کو اٹھاتے اور کہتے 'نماز، نماز' اور یہ آیت تلاوت کرتے ؛
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى
''اپنے گھرانے کے لوگوں کو نماز کی تاکید کر اور خود بھی اس پر جما رہ۔ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے بلکہ ہم خود تمھیں روزی دیتے ہیں ، اور اچھا انجام (جنت) تو متقیوں ہی کیلئے ہے۔'' (طہ: 20-132)
اللہ سبحانہ و تعالی نے لفظ 'وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا' کالفظ استعمال کیا جس کا مفہوم 'جما رہ، ڈٹ جاؤ' کا ہے۔ یہاں 'وَاصْبِرْ عَلَيْهَا' کی بجائے 'وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا' استعمال کیا گیا ہے جس میں زیادہ سختی ہے ، جس کا مفہوم 'صبر کرتا رہ'ہے۔ یہ زیادہ شدت اور کوشش کی جانب اشارہ ہے۔ کیونکہ ایک انسان کو اپنے آپ اور گھر والوں کو حق پر لانے، آگ سے بچانے اور عمل کی جانب لانے میں انتہائی کوشش، صبر اور صعوبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اللہ نیکو کاروں کی حفاظت کرتاہے۔
یہاں پر اس آیت کی یاد دہانی بھی اہم ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُون
''اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ، اس پر فرشتے سخت دل اور قوی ہیکل مقرر ہیں ، وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انہیں حکم دے ، اور وہ وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔'' ( التحریم:06)
بچاؤ اپنے آپ اور اپنے خاندان کو آگ سے، کا مطلب ہے: اپنے بیوی اور بچوں کو اس آگ سے دور کرو، اللہ سے دعا کر کے، اور انھیں معروف کا حکم دے کر اور منکر کی نہی کر کے، اس دین کے احکامات سیکھ کر اور اپنے خاندان کو سکھانے کے ذریعے ، ان کی احسن تربیت کر کے اوراحکامِ شرع کے مطابق انھیں سزا دے کر ، اور اپنے گھر والوں کو نماز، روزے، زکواة ، حج اور دیگر تمام شرعی احکاما ت کا حکم د ے کر۔۔۔
میں دوبارہ اسے دہراتا ہوں جہاں سے ابتدا کی تھی، مجھے اس امر سے شدید دکھ ہے کہ شباب شوہر اور بیویاں اپنے ازدواجی تعلقات میں اس قدر مسائل میں ہیں ، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دعوت نے ابھی تک ان میں جڑیں نہیں پکڑی ہیں اور انھوں نے اس کے اخلاق واطوار نہیں اپنائے۔ اور انھوں نے اس کو ایسے سرانجام نہیں دیا جیسا کہ اس کا حق ہے، نہ انھوں نے اس کو مضبوط کیا۔ مجھے خو ف ہے کہ قدم قائم ہونے کے بعد متزلزل نہ ہوجائیں۔
سوال 1: کیا انگریزی قانون کے مطابق ایک مسلمان وکیل کیلئے غیر مسلم وصی کی وصیت لکھنا جائز ہے، جس میں وصی نے اپنے ترکے کا کچھ حصہ یاپورا ترکہ کسی ایسے ادارے کے نام چھوڑا ہو جو یا تو نامعلوم ہو یا شرعاً ممنوع ہو جیسا کہ ایسے ادارے جہاں کتوں کی نگہداشت کی جاتی ہے یا ایسے ادارے جس کا تعلق لہو لعب سے ہو؟
سوال 2: ہم نے اپنی بہت سی مطبوعات اور کتب میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ حقیقی زر ( کرنسی) صرف سونا اور چاندی کو متصور کیا جائے گا، چاہے یہ اپنی حقیقی شکل میں ہو یا اس کی قیمت کے برابر نقدی ہو۔ شیخ عبد القدیم زلوم کی کتاب میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کوئی بھی مملکت یا تو سونا اور چاندی، یا کوئی اور موزوں دھات کو بطور کرنسی استعمال کر سکتا ہے جب تک کہ سونے کو مرکزی کرنسی کی حیثیت حاصل ہو۔ لہٰذا، کیا کوئی حکومت سونا چاندی کے ساتھ ساتھ کوئی اور قیمتی دھات مثلا َ َ پلاٹینم یا قیمتی پتھر جیسے ہیرے اور اس جیسی دوسری چیزیں بطور کرنسی استعمال کر سکتا ہے؟
جواب(سوال 1): اگر معاملہ ایک کافر وصی اور مسلمان وکیل کے مابین ہو۔ یہ اجرت کا معاملہ ہے جس میں کافر وصی نے وصیت لکھنے کی غرض سے ایک مسلمان وکیل کو اجرت پر ''جیسا وہ کہے، لکھے گا'' کے اصول پر رکھا ہو۔ سو یہ تو محض اجرت کے عوض وصیت لکھنے کا ایک معاہدہ ہے، جس کی رو سے مسلمان وکیل وہی وصیت تحریر کرتا ہے جیسا کہ کافر اسے بتاتا ہے، پھر وکیل اپنی اجرت وصول کرتا ہے اور معاملہ وہیں ختم ہو جاتاہے ۔
جہاں تک وصیت کا تعلق ہے تو۔۔۔ اگر تو معاملہ ایسا ہی ہے تو ایسی صورت میں وصیت لکھنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں اسلامی عقیدہ کے منافی کوئی بات نہ ہو، کیونکہ اسلامی عقیدہ کے خلاف کچھ لکھنا اس کو بولنے کے مترادف ہے اور ایسا جائز نہیں۔
تاہم قابل ترجیح امر یہ ہے کہ ایسی وصیت کو تحریر نہ کیا جائے جس میں اسلامی احکامات کے خلاف مواد موجود ہو۔ یہ اسلئے کہ کافر کی وصیت میں اسلامی احکامات سے متصادم شقوں سے متفق ہونا ظاہر نہ ہو۔
تاہم اگر یہ معاملہ صاحب وصی اوروکیل کے مابین وکالہ(نمائندگی) کا ہو جس میں وکیل، صاحب وصی کے نمائندہ کی حیثیت سے وصیت کا نفاذ کرتا ہے۔۔۔وہ متعلقہ افراد سے رابطہ کرتا ہے۔۔ان کو وصیت سے آگاہ کرتاہے۔۔اور صاحب وصی کے نمائندہ کی حیثیت سے وصیت کا نفاذ کرتا ہے۔۔۔اس صورت میں یہ جائز نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ایک مسلمان وکیل شریعت،جس پر وہ ایمان لاتاہے،کے برخلاف ایک وصیت کو نافذ کرتاہے ۔
جواب (سوال 2): اسلام میں زر(کرنسی) کا تصور سونے اور چاندی کا ہے یا دوسرے ذرائع جیسے کہ کاغذی نوٹ بشرطیکہ بیت المال میں اس مالیت کے موافق سونا اور چاندی موجود ہو۔ ہلکی(کم قیمت) دھاتوں جیسے تانبے وغیرہ کو سستی اشیاء کی خریداری کیلئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر سونے اور چاندی کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا جائے تو ان سے بنے ہوئے سکے اس قدر قلیل الوزن ہونگے جنکو عام حالات میں استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔ سونے اور چاندی کی مقدار قلیل اور کم قیمت دھاتوں کی مقدار کثیر کی آمیزش سے ایسے مناسب سکے بنائے جا سکتے ہیں جو آئندہ کم قیمت اشیاء کی خریداری میں استعمال کئے جا سکتے ہو۔ یہ معاملہ کتاب ''فی الاموال'' میں مذکور ہے؛
...حکومت چاندی کے سکوں سے کم مالیت کے سکے بھی بنا سکتی ہیں تاکہ سستی اشیا کی خریداری کو آسان بنایا جا سکے۔ چونکہ چاندی کے سکے خالص چاندی سے بنے ہوتے ہیں تاہم چونکہ ان میں بہت معمولی مقدار میں چاندی ہوتی ہے اسلئے ان سے معاملہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے اسلئے کم قیمت دھاتوں کو ان میں شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم ان سکوں میں چاندی کا تناسب وزن کے حساب سے واضح ہونا چاہئے تاکہ اس معاملے میں کوئی شکوک و شبہات نہ رہیں۔
مسلمانوں کے ہاں سونے اور چاندی پر مبنی دو دھاتی اصول واضح رہا ہے ۔ مصر میں اتابکہ اور عباسیوں کے آخری دور میں مسلمانوں نے سونے ور چاندی کے ساتھ ساتھ تانبے (پیتل) کو بطور کرنسی استعمال کیا جس سے وہ کم قیمت اشیا خریدتے تھے کیونکہ تانبے کی قدر (نسبتاً) کم ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ سونے اور چاندی کا متبادل ہے بلکہ یہ اپنی قدر کے طور پر موجود رہی۔ پس اس کو سستی اشیا کی خریداری کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس طرح سونے اور چاندی کے علاوہ اور دھاتوں کے سکے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں جو عموماً سستے دھاتوں کے بنے ہوئے ہوں، لیکن ان کو سونے اور چاندی کی خریداری کے لئے استعمال نہ کیا جائے گا، کیونکہ یہاں معاملہ سستی چیزوں کی خریداری کا ہے جس کیلئے ایک مناسب اور عملی طریقہ کار کی کرنسی کی ضرورت ہے۔ اگر سستی اشیا کی خریداری کیلئے سونے اور چاندی کے سکوں کو استعمال کیا جائے تو ایسے سکوں کا وزن اور مقدار بہت قلیل ہو گی، اسلئے کم قیمت دھاتوں کو استعمال میں لایا جائے گا تاکہ ان سکوں کا ایک مناسب وزن ہو جو کہ استعمال میں آسان ہو۔ یہ امر قیمتی دھات سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک سونے چاندی کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں کا بطور شرعی کرنسی کے استعمال کا تعلق ہے جیسا کہ پلاٹینم اور ہیرا ہے ۔۔۔ تو شریعت میں اس کی اجازت نہیں کیونکہ شریعت میں موجود دلائل صرف سونے اور چاندی کو بطور کرنسی کے متعین کرنے کے بارے میں واضح اور معلوم ہیں۔ اسی طرح شرعاًیہ بھی جائز نہیں کہ سونے اور چاندی سے زیادہ قیمتی دھاتوں کو بیت ا المال میں بطور 'ریزرو' (reserve) استعمال کیا جائے۔ دوسری کوئی بھی دھات محض ایک شے ہے نہ کہ کرنسی۔