الجمعة، 25 جمادى الثانية 1443| 2022/01/28
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

سوال و جواب: مسلمان کی   وہ نماز جوچھوٹ گئی، اس کی   گردن پر ایک قرض ہے ،جس کی ادائیگی ضروری ہے

 

محمد الحج کے سوال کا جواب

 

سوال:

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہْ،

 

کچھ عرصہ پہلے ہی آپ کے پیج کا پتہ چلا، اس پیج کے وزٹ کرنے میں حزب التحریر کے شباب میں سے  میرے ایک دوست نے تعاون کیا، یقین کریں مجھے  آپ کی تحریر میں حاضر جوابی  اور قوت استدلال  بہت پسند آئی، بالخصوص فقہی سوالات کے جوابات  بہت پسند آئے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے میری دعا ہے کہ  وہ اس نیک کام کے لیے آپ کی عمر دراز فرمائے،آپ  کی علم میں مزید وسعت دے، اور اللہ تعالیٰ مجھے بھی اسی راستے کی طرف ہدایت دے جس سے اللہ اور اس کا رسول ﷺراضی ہوتے ہیں۔

 

 

اُمّید ہے آپ میرے مندرجہ ذیل سوال کا جواب دیدیں گے :میں نے  باقائدگی سے نماز پڑھنے کا فیصلہ  بالآخر بلوغت کی عمر کے کئی سال بعدکر لیا، الحمدللہ۔ توسوال یہ ہے کہ :  میری جو نمازیں قضاء ہوئی ہیں، کیا ان کی قضا لانامجھ پر واجب ہے،یا  قضا لائے بغیر اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے؟

 

 

جواب:

 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔

 

سب سے پہلے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں ، کہ اللہ تعالیٰ نے آپ  کو خیر و بھلائی کا راستہ دکھایا اور آپ نے نماز کی پابندی شروع کی، اس کی ادائیگی  کا شوق ہوا، اور میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے آپ کے لیے مدد اور ثابت قدمی کی دعا کرتا ہوں۔

 

 

جہاں تک بات ہے ان قضا شدہ نمازوں کی، جو ماضی میں بلوغت کے بعد  آپ نے ادا نہیں کی تھیں، جبکہ شرعا ً آپ اس کے مکلف تھے، تو چونکہ آپ مسلمان ہیں، تو جو نمازیں آپ کی رہ گئی ہیں، یعنی ادا نہیں کیں، وہ آپ کے ذمے قرض ہیں، جن کی قضا لازم ہے۔ اس لیے آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ہوش سنبھالنے کے زمانے سے  لے کر نماز شروع کرنے  تک کے  دنوں کا حساب لگائیں، مثلا اگر یہ تین سال کا زمانہ ہے، تو آپ پر تین سال کی نمازیں قضا لانی ضروری ہے، یعنی روزانہ کی پانچ  فرض نمازوں کی قضا لانی ہے، جہاں تک نمازوں کے ساتھ سنتوں کا تعلق ہے تو ان کی قضا آپ پر لازم نہیں۔

 

 

قضا لانے کے لیے نظام بنانا اور اس میں آسانی اس طرح ممکن ہے کہ آپ روزانہ ہر نماز  کے بعد گزشتہ کی قضا شدہ  نماز اس وقت کی  نماز کے ساتھ پڑھ لیں، آپ وقتی نماز کے ساتھ  ایک سے زائد  قضا نمازیں بھی پڑھنا چاہیں تو یہ اور اچھی بات ہے، تو آپ نے اس طریقے سے قضا نمازیں لوٹانی ہیں، یہاں تک  کہ تمام سالوں کی نمازوں کی قضا پڑھی جائے۔میں اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان نمازوں کی قضا لانے  میں آپ کا  معاون  و مدد گاربنے، نیز آپ کو اپنے وقت پر تمام نمازیں پڑھنے کا  مزید شوق و جذبہ  عطا فرمائے۔ 

 

 

اس امر سے متعلق شرعی دلائل کے بیان کرنے کے سلسلے میں ،کتاب احکام الصلوٰۃ میں سے کچھ نقل کیے دیتا ہوں۔

 

 

(بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر نماز کو اپنے وقت سے ٹالنا قرآنی نص کی بنیاد پر قطعی حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ * الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاَتِهِمْ سَاهُونَ﴾

"پھر بڑی خرابی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے جو اپنی نماز میں کوتاہی کرتے ہیں"(سورۃ الماعون:5-4)۔

 

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاَةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيّاً﴾

" پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلے۔ چنانچہ ان کی گمراہی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گی"(سورۃ مریم:59)۔

 

 

یہ بات  ایک متواتر حدیث  کے مفہوم سے بھی ثابت ہے،جس میں نماز کے اوقات کابیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر فرض نماز کے لیے ابتدا و انتہاء کے اعتبار سے مخصوص وقت بنایا ہے، یعنی نماز کے اوقات مخصوص وقت میں شروع ہوجاتے ہیں اور مخصوص وقت میں ختم ہوجاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:


»مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ«

" جس کی عصر کی نماز چھوٹ گئی تو گویا اس کا اہل اور مال سارا کا سارا اس سے چھین لیا گیا"۔


اور آنحضرتﷺ نے نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کرنے کے بارے میں فر مایا:


»لَيْسَ التَّفْرِيطُ فِي النَّوْمِ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ «

" نیند  میں کوئی کوتاہی نہیں، بے شک کوتاہی بیداری میں ہے"۔

 

 

جس کی فرض نماز چھوٹ جائے تو وہ اس کی قضا لائے، خواہ یہ چھوٹ جانا کسی عذر کی وجہ سے ہو یا بغیر عذر کے۔ کیونکہ نماز کی قضا لانا صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ صحیحین (بخاری و مسلم ) میں عمران بن حصینؓ سے روایت ہے  کہ :" ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ،ہم رات بھر چلتے رہے، تاآنکہ رات کا آخری پہر ہوا تو ہم کچھ دیر کے لیے لیٹ گئے ، مسافر آدمی کے لیے  اس  وقت کی نیندسے زیادہ میٹھی نیند کوئی نہیں ، سو ہم جاگ نہ سکے یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں جگا دیا، پس جب نبی ﷺ جاگ گئے  تو صحابہؓ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:


»لا ضير ولا ضرر ارتحلوا فارتحلوا فسار غير بعيد ثم نزل فدعا بالوضوء فتوضأ ونودي بالصلاة فصلى بالناس«

"کوئی نقصان   نہیں  اور پریشانی  والی بات نہیں، چلو، تو صحابہ چلنے لگے،پھر آپ ﷺ تھوڑی دیر تک  چلے پھر اپنی سواری سے نیچے اُترے ،پھر وضو کے لیے پانی طلب کیا، وضو کیا  ،پھر نماز کے لیے  اذان دی گئی ،پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی"۔

 


  اور وہ روایت بھی دلیل ہے جسے جابرؓسے روایت کیا گیا ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطابؓ  خندق کے دن   سورج غروب ہونے کے بعد آئے ،پھر وہ کفار  قریش کو کوسنے  لگے اور کہا:(( يا رسول الله ما كدت أصلي العصر حتى كادت الشمس تغرب، فقال النبي ﷺ »والله ما صليتها، فقمنا إلى بطحان فتوضأ للصلاة وتوضأنا لها فصلى العصر بعدما غربت الشمس ثم صلى بعدها المغرب «)) "  یا رسول اللہ! میں تو عصر کی نماز نہ پڑھ سکا ، یہاں تک  کہ  سورج غروب ہونے لگا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں نے بھی نمازنہیں پڑھی، پھر بطحان کی طرف گئے ،تو نبی ﷺ نے نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو کیا، تو آپ ﷺ نے عصر کی نماز ادا کی، جبکہ سورج غروب ہوچکا تھا، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی

نیز وہ روایت بھی اس کی دلیل ہے جو انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے کہ :(( أن النبي ﷺ قال: «من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها لا كفارة لها إلا ذلك)) " نبی ﷺ نے فرمایا: جس کی نماز بھول کر رہ جائے تو جب اسے یاد آئے ، پڑھ لے ،اس کا کفارہ اس کے سوا کچھ نہیں"۔اسی طرح ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:((حبسنا يوم الخندق عن الصلاة حتى كان بعد المغرب يهوي من الليل كفينا: وذلك قول الله عز وجل: ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيّاً عَزِيزاً﴾. قال فدعا رسول الله ﷺ بلالاً فأقام الظهر فصلاها فأحسن صلاتها كما كان يصليها في وقتها، ثم أمره فأقام العصر فصلاها فأحسن صلاتها كما كان يصليها في وقتها، ثم أمره فأقام المغرب فصلاها كذلك)) "ہمیں خندق کے دن نماز سے روکا گیا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد ہماری کفایت کی گئی، اللہ تعالیٰ کے اس قول

﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيّاً عَزِيزاً﴾

'اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی طرف سے لڑائی کے لیے کافی ہوا اور اللہ تعالیٰ قوت والے اور غالب ہے '(الاحزاب:25)،

 

میں  اسی  کا ذکر ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے بلالؓ کو بلایا ،انہوں نےظہر کی نماز کے لیے اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی، اور بہت عمدہ پڑھی، ایسے پڑھی جیسے آپ ﷺ اپنے وقت میں پڑھا کرتے تھے، پھر بلال کو حکم فرمایا ، تو اس نے عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ  ﷺ عصر کی نماز پڑھی، اور جسے آپ ﷺ اپنے وقت میں  پڑھا کرتے تھے ،اسی طرح بہت عمد ہ انداز سے پڑھی ،آپ ﷺ نے بلال کو پھر حکم دیا، اس نے مغرب کی نماز کی اقامت کہی ، پھر آپ ﷺ مغرب کی نماز بھی اسی طرح بہتر ین پڑھی"۔ نیز آپ ﷺکے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ جب ایک  خثعمی لڑکی نے آپ ﷺ سے پوچھا اور کہا: یارسول اللہ !  میرے والد پر   نہایت بڑھاپے میں حج فرض ہوا کہ حج ادا نہیں کر سکتا تھا، اگر میں اس کی طرف سے حج ادا کروں تو اس سے ان کو فائدہ پہنچے گا؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:

((أرأيت لو كان على أبيك دين فقضيته أكان ينفعه ذلك؟ قالت: نعم. قال: فدين الله أحق بالقضاء))

" آپ یہ بتائیں کہ اگر آپ کے والد پر کوئی قرض ہوتا اور آپ وہ قرض اس کی طرف سے دیدیتی تو اس سے اس کو فائدہ پہنچ جاتا ؟ اس لڑکی نے کہا: ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا : پس اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے"۔

 

تو یہ تمام احادیث  نماز لوٹانے کے بارے میں بالکل واضح ہیں، یعنی یہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نماز کی قضا واجب ہے، اور نماز چھوڑنے کا اس کے سوا کوئی کفارہ نہیں کہ اس کی قضا لائی جائے، خواہ کسی عذر کی وجہ سے چھوڑی ہوں یا بلا عذر چھوڑی ہوں، کیونکہ یہ سب احادیث صریح ہیں۔

 

 

یہ نہ کہا جائے  کہ یہ احادیث سب مخصوص حالات سے متعلق ہیں ، یعنی نیند، بھول، اور جنگ، یا قدرت نہ ہونا۔ یہ سب شرعی عذر ہیں  جن کی وجہ سے نماز اگر اپنے وقت سے مؤخر بھی ہوجائے ،اس میں  گناہ کی کوئی بات نہیں۔ چنانچہ قضا ایسے عذر کے ساتھ  مخصوص ہوگی۔ اس میں ان کے علاوہ دیگر حالات شامل نہیں ہوں گے۔ یہ حالات جان بوجھ کر چھوڑنے کے برعکس ہیں، جان بوجھ کر چھوڑی گئی نماز کی قضا سے متعلق کوئی نص نہیں آئی ہے۔

 

 


تو ایسا کہنا بے جا ہے ، کیونکہ ان حوادث میں نیند ، بھول اور جنگ   نماز کی قضا واجب ہونے کے لیے بطور شرط  وارد نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ اس پیش آمدہ واقعہ کی ایک صفت کے طور پر آئے ہیں، اس سے شرط اور قید والی صفت نہیں سمجھی جانی چاہیے،  اس طور پرکہ گویا قضا کرنے کا حکم صرف  انہی حالات کے ساتھ مقید ہے۔  حضرت جابر ؓ کی حدیث کو تو آپ نے پڑھ لیا ،عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کس طرح کفار ِقریش کو کوستے ہیں،اور  آپ ﷺ سے عرض کیا: "  یا رسول اللہ! میں تو عصر کی نماز نہ پڑھ سکا  ہوں ، یہاں تک  کہ سورج غروب ہونے لگا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا:»وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا «"اللہ کی قسم میں نے بھی نہیں پڑھی"۔ پھر وضو فرمایا اور نماز پڑھی۔ اس حدیث میں اس قسم کی کوئی  قید نظر نہیں آتی جس سے یہ ثابت ہوکہ یہ اسی حالت کے ساتھ مخصوص ہے۔ باقی حالات کے بارے میں بھی یہی ہے، حدیث کے الفاظ  اس پر دلالت نہیں کرتے کہ قضا کا حکم مذکورہ واقعے کے ساتھ خاص تھا، اور  اس کے علاوہ دیگر حالات کے لیے نہیں۔ بلکہ  یہ تمام احادیث جن میں  ان مخصوص حالات کا ذکر ہے، ایک واقع کے بیان کے طور پر آئی ہیں ، کسی قید یا شرط  کے بیان کے لیے نہیں۔ اور ان میں نماز کی قضا کی تخصیص کا کوئی سبب واضح نہیں، جیسا کہ حدیث کو بغور پڑھنے سے یہ بات سامنے آتی ہے۔

 

 

جہاں تک ان احادیث کی بات ہے  جس میں وصف کے معنی کے ساتھ فعل مذکور ہے، مثلاً: "من نام"،  جو کوئی سوتا رہ جائے اور "او نسیھا" ، یا  بھول جائے، "او غفل"  ،یا غافل رہے، "من نسی" ، جو کوئی بھول جائے۔ تو یہ تمام الفاظ ایسے ہیں کہ ان میں وصف کی قید کا اعتبار کیا گیا ہے، اور اس حوالے سے مفہوم مخالفہ کا اعتبار ہوگا ،کیونکہ صفت کا مفہومِ مخالف  متعبر ہوتا ہے۔اور اس لیے بھی کہ  اگر اس کو قید و شرط نہ سمجھاجائے تو اس وصف کا ذکر عبث اور بے فائدہ ہوگا،اور حدیث عبث  باتوں سے پاک ہیں۔ لیکن ان نصوص  کے مفہوم مخالفہ پر  دیگر نصوص کی وجہ سے عمل معطل ہو گا۔اصول یہ ہے کہ جب ایک نص ایسی آجائے جس کا منطوق یعنی متن دوسری نص کے مفہوم کے برعکس معنی پر دلالت کرتا ہے ، تو مفہوم معطل ہو گا اور منطوق پر عمل ہوگا، کیونکہ معنی پر منطوق (متن کے لفظی معنی)کی دلالت  مفہوم کی دلالت سے زیادہ قوی ہوتی ہے ۔ ان  احادیث کا مفہوم  بھی  ان دیگر احادیث کی وجہ سے معطل ہے جو  دیگر مواقع میں نماز کی قضاواجب ہونے سے متعلق وارد ہوئی ہیں، جیسے جنگ کی حالت میں ۔

 

 

حج کی قضا والی حدیث  جس میں آیا ہے کہ " پس اللہ کا قرض ادا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے"،یہ الفاظ عام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہر قرض کو  گھیرے ہوئے ہیں۔ نماز اللہ کا قرض ہے، پس یہ بھی   (اللہ کا قرض)  کے عموم میں داخل ہے۔ کیونکہ اللہ کا قرض  اسم جنس  مضاف ہے، یہ قطعی عموم کے صیغوں میں سے ہے،لہٰذا یہ یقیناً عمومیت ہی کی ایک شکل ہے۔ جان بوجھ کرنماز چھوڑ دینے والا بھی اس کی قضا کا مخاطب ہے جس طرح ہر مسلمان  اس سے مخاطب ہے، اور اس پر بھی نماز کی ادائیگی لازم تھی، اور ایک قرض کی طرح اس  کی گردن پر ہے۔قرض  صرف ادائیگی سے اترتا ہے، اسی طرح نماز   وقت نکلنے سے ذمے سے نہیں اترتی ، تا آنکہ اس کو ادا کیا جائے۔ اپنے وقت میں جان بوجھ کر نماز ترک کرنے کا گناہ الگ ہے۔ ) یہاں تک کتاب احکام الصلوٰۃ سے اقتباس مکمل ہوا۔

 

 

 امید ہے کہ یہ آپ کے لیے کافی  ہوگا، واللہ  اعلم و احکم۔

 

 

آپ کا بھائی ،

 

 عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

 

 23  رمضان 1442ھ

 

5 مئی 2021ء

 

سوال و جواب: مسلمان کی   وہ نماز جوچھوٹ گئی، اس کی   گردن پر ایک قرض ہے ،جس کی ادائیگی ضروری ہے

محمد الحج کے سوال کا جواب

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہْ،

کچھ عرصہ پہلے ہی آپ کے پیج کا پتہ چلا، اس پیج کے وزٹ کرنے میں حزب التحریر کے شباب میں سے  میرے ایک دوست نے تعاون کیا، یقین کریں مجھے  آپ کی تحریر میں حاضر جوابی اور قوت استدلال بہت پسند آئی، بالخصوص فقہی سوالات کے جوابات  بہت پسند آئے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے میری دعا ہے کہ  وہ اس نیک کام کے لیے آپ کی عمر دراز فرمائے،آپ  کی علم میں مزید وسعت دے، اور اللہ تعالیٰ مجھے بھی اسی راستے کی طرف ہدایت دے جس سے اللہ اور اس کا رسول ﷺراضی ہوتے ہیں۔

اُمّید ہے آپ میرے مندرجہ ذیل سوال کا جواب دیدیں گے :میں نے  باقائدگی سے نماز پڑھنے کا فیصلہ بالآخر بلوغت کی عمر کے کئی سال بعدکر لیا، الحمدللہ۔ توسوال یہ ہے کہ :  میری جو نمازیں قضاء ہوئی ہیں، کیا ان کی قضا لانامجھ پر واجب ہے،یا  قضا لائے بغیر اللہ تعالیٰ معاف کردیں گے؟

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہٗ۔

سب سے پہلے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں ، کہ اللہ تعالیٰ نے آپ  کو خیر و بھلائی کا راستہ دکھایا اور آپ نے نماز کی پابندی شروع کی، اس کی ادائیگی  کا شوق ہوا، اور میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے آپ کے لیے مدد اور ثابت قدمی کی دعا کرتا ہوں۔

جہاں تک بات ہے ان قضا شدہ نمازوں کی، جو ماضی میں بلوغت کے بعد آپ نے ادا نہیں کی تھیں، جبکہ شرعا ً آپ اس کے مکلف تھے، تو چونکہ آپ مسلمان ہیں، تو جو نمازیں آپ کی رہ گئی ہیں، یعنی ادا نہیں کیں، وہ آپ کے ذمے قرض ہیں، جن کی قضا لازم ہے۔ اس لیے آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ہوش سنبھالنے کے زمانے سے  لے کر نماز شروع کرنے  تک کے  دنوں کا حساب لگائیں، مثلا اگر یہ تین سال کا زمانہ ہے، تو آپ پر تین سال کی نمازیں قضا لانی ضروری ہے، یعنی روزانہ کی پانچ  فرض نمازوں کی قضا لانی ہے، جہاں تک نمازوں کے ساتھ سنتوں کا تعلق ہے تو ان کی قضا آپ پر لازم نہیں۔

قضا لانے کے لیے نظام بنانا اور اس میں آسانی اس طرح ممکن ہے کہ آپ روزانہ ہر نماز  کے بعد گزشتہ کی قضا شدہ نماز اس وقت کی نماز کے ساتھ پڑھ لیں، آپ وقتی نماز کے ساتھ  ایک سے زائد قضا نمازیں بھی پڑھنا چاہیں تو یہ اور اچھی بات ہے، تو آپ نے اس طریقے سے قضا نمازیں لوٹانی ہیں، یہاں تک  کہ تمام سالوں کی نمازوں کی قضا پڑھی جائے۔میں اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان نمازوں کی قضا لانے  میں آپ کا  معاون  و مدد گاربنے، نیز آپ کو اپنے وقت پر تمام نمازیں پڑھنے کا  مزید شوق و جذبہ  عطا فرمائے۔ 

اس امر سے متعلق شرعی دلائل کے بیان کرنے کے سلسلے میں ،کتاب احکام الصلوٰۃ میں سے کچھ نقل کیے دیتا ہوں۔

(بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر نماز کو اپنے وقت سے ٹالنا قرآنی نص کی بنیاد پر قطعی حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ * الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاَتِهِمْ سَاهُونَ﴾ "پھر بڑی خرابی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے جو اپنی نماز میں کوتاہی کرتے ہیں"(سورۃ الماعون:5-4)۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلاَةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيّاً﴾." پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلے۔ چنانچہ ان کی گمراہی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گی"(سورۃ مریم:59)۔

یہ بات  ایک متواتر حدیث  کے مفہوم سے بھی ثابت ہے،جس میں نماز کے اوقات کابیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر فرض نماز کے لیے ابتدا و انتہاء کے اعتبار سے مخصوص وقت بنایا ہے، یعنی نماز کے اوقات مخصوص وقت میں شروع ہوجاتے ہیں اور مخصوص وقت میں ختم ہوجاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: » مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ«" جس کی عصر کی نماز چھوٹ گئی تو گویا اس کا اہل اور مال سارا کا سارا اس سے چھین لیا گیا"۔ اور آنحضرتﷺ نے نماز کو اپنے وقت سے مؤخر کرنے کے بارے میں فر مایا: »لَيْسَ التَّفْرِيطُ فِي النَّوْمِ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ«" نیند  میں کوئی کوتاہی نہیں، بے شک کوتاہی بیداری میں ہے"۔

جس کی فرض نماز چھوٹ جائے تو وہ اس کی قضا لائے، خواہ یہ چھوٹ جانا کسی عذر کی وجہ سے ہو یا بغیر عذر کے۔ کیونکہ نماز کی قضا لانا صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ چنانچہ صحیحین (بخاری و مسلم ) میں عمران بن حصینؓ سے روایت ہے  کہ :" ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ،ہم رات بھر چلتے رہے، تاآنکہ رات کا آخری پہر ہوا تو ہم کچھ دیر کے لیے لیٹ گئے ، مسافر آدمی کے لیے  اس وقت کی نیندسے زیادہ میٹھی نیند کوئی نہیں ، سو ہم جاگ نہ سکے یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں جگا دیا، پس جب نبی ﷺ جاگ گئے  تو صحابہؓ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: »لا ضير ولا ضرر ارتحلوا فارتحلوا فسار غير بعيد ثم نزل فدعا بالوضوء فتوضأ ونودي بالصلاة فصلى بالناس«"کوئی نقصان   نہیں  اور پریشانی  والی بات نہیں، چلو، تو صحابہ چلنے لگے،پھر آپ ﷺ تھوڑی دیر تک  چلے پھر اپنی سواری سے نیچے اُترے ،پھر وضو کے لیے پانی طلب کیا، وضو کیا  ،پھر نماز کے لیے  اذان دی گئی ،پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی"۔ اور وہ روایت بھی دلیل ہے جسے جابرؓسے روایت کیا گیا ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطابؓ  خندق کے دن   سورج غروب ہونے کے بعد آئے ،پھر وہ کفار  قریش کو کوسنے لگے اور کہا:(( يا رسول الله ما كدت أصلي العصر حتى كادت الشمس تغرب، فقال النبي ﷺ »والله ما صليتها، فقمنا إلى بطحان فتوضأ للصلاة وتوضأنا لها فصلى العصر بعدما غربت الشمس ثم صلى بعدها المغرب«)) "  یا رسول اللہ! میں تو عصر کی نماز نہ پڑھ سکا ، یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں نے بھی نمازنہیں پڑھی، پھر بطحان کی طرف گئے ،تو نبی ﷺ نے نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو کیا، تو آپ ﷺ نے عصر کی نماز ادا کی، جبکہ سورج غروب ہوچکا تھا، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی"۔نیز وہ روایت بھی اس کی دلیل ہے جو انس بن مالک سے روایت کی گئی ہے کہ :(( أن النبي ﷺ قال: «من نسي صلاة فليصلها إذا ذكرها لا كفارة لها إلا ذلك)) " نبی ﷺ نے فرمایا: جس کی نماز بھول کر رہ جائے تو جب اسے یاد آئے ، پڑھ لے ،اس کا کفارہ اس کے سوا کچھ نہیں"۔اسی طرح ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:((حبسنا يوم الخندق عن الصلاة حتى كان بعد المغرب يهوي من الليل كفينا: وذلك قول الله عز وجل: ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيّاً عَزِيزاً﴾. قال فدعا رسول الله ﷺ بلالاً فأقام الظهر فصلاها فأحسن صلاتها كما كان يصليها في وقتها، ثم أمره فأقام العصر فصلاها فأحسن صلاتها كما كان يصليها في وقتها، ثم أمره فأقام المغرب فصلاها كذلك)) "ہمیں خندق کے دن نماز سے روکا گیا، یہاں تک کہ مغرب کے بعد ہماری کفایت کی گئی، اللہ تعالیٰ کے اس قول﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيّاً عَزِيزاً﴾ 'اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی طرف سے لڑائی کے لیے کافی ہوا اور اللہ تعالیٰ قوت والے اور غالب ہے '(الاحزاب:25)،میں  اسی  کا ذکر ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے بلالؓ کو بلایا ،انہوں نےظہر کی نماز کے لیے اقامت کہی تو آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی، اور بہت عمدہ پڑھی، ایسے پڑھی جیسے آپ ﷺ اپنے وقت میں پڑھا کرتے تھے، پھر بلال کو حکم فرمایا ، تو اس نے عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ  ﷺ عصر کی نماز پڑھی، اور جسے آپ ﷺ اپنے وقت میں  پڑھا کرتے تھے ،اسی طرح بہت عمد ہ انداز سے پڑھی ،آپ ﷺ نے بلال کو پھر حکم دیا، اس نے مغرب کی نماز کی اقامت کہی ، پھر آپ ﷺ مغرب کی نماز بھی اسی طرح بہتر ین پڑھی"۔ نیز آپ ﷺکے بارے میں روایت کی گئی ہے کہ جب ایک خثعمی لڑکی نے آپ ﷺ سے پوچھا اور کہا: یارسول اللہ !  میرے والد پر   نہایت بڑھاپے میں حج فرض ہوا کہ حج ادا نہیں کر سکتا تھا، اگر میں اس کی طرف سے حج ادا کروں تو اس سے ان کو فائدہ پہنچے گا؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ((أرأيت لو كان على أبيك دين فقضيته أكان ينفعه ذلك؟ قالت: نعم. قال: فدين الله أحق بالقضاء))" آپ یہ بتائیں کہ اگر آپ کے والد پر کوئی قرض ہوتا اور آپ وہ قرض اس کی طرف سے دیدیتی تو اس سے اس کو فائدہ پہنچ جاتا ؟ اس لڑکی نے کہا: ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا : پس اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے"۔ تو یہ تمام احادیث  نماز لوٹانے کے بارے میں بالکل واضح ہیں، یعنی یہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نماز کی قضا واجب ہے، اور نماز چھوڑنے کا اس کے سوا کوئی کفارہ نہیں کہ اس کی قضا لائی جائے، خواہ کسی عذر کی وجہ سے چھوڑی ہوں یا بلا عذر چھوڑی ہوں، کیونکہ یہ سب احادیث صریح ہیں۔

یہ نہ کہا جائے  کہ یہ احادیث سب مخصوص حالات سے متعلق ہیں ، یعنی نیند، بھول، اور جنگ، یا قدرت نہ ہونا۔ یہ سب شرعی عذر ہیں  جن کی وجہ سے نماز اگر اپنے وقت سے مؤخر بھی ہوجائے ،اس میں  گناہ کی کوئی بات نہیں۔ چنانچہ قضا ایسے عذر کے ساتھ  مخصوص ہوگی۔ اس میں ان کے علاوہ دیگر حالات شامل نہیں ہوں گے۔ یہ حالات جان بوجھ کر چھوڑنے کے برعکس ہیں، جان بوجھ کر چھوڑی گئی نماز کی قضا سے متعلق کوئی نص نہیں آئی ہے۔

تو ایسا کہنا بے جا ہے ، کیونکہ ان حوادث میں نیند ، بھول اور جنگ   نماز کی قضا واجب ہونے کے لیے بطور شرط وارد نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ اس پیش آمدہ واقعہ کی ایک صفت کے طور پر آئے ہیں، اس سے شرط اور قید والی صفت نہیں سمجھی جانی چاہیے،  اس طور پرکہ گویا قضا کرنے کا حکم صرف  انہی حالات کے ساتھ مقید ہے۔ حضرت جابر ؓ کی حدیث کو تو آپ نے پڑھ لیا ،عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کس طرح کفار ِقریش کو کوستے ہیں،اور  آپ ﷺ سے عرض کیا: "  یا رسول اللہ! میں تو عصر کی نماز نہ پڑھ سکا  ہوں ، یہاں تک  کہ سورج غروب ہونے لگا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا: »وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا«"اللہ کی قسم میں نے بھی نہیں پڑھی"۔ پھر وضو فرمایا اور نماز پڑھی۔ اس حدیث میں اس قسم کی کوئی قید نظر نہیں آتی جس سے یہ ثابت ہوکہ یہ اسی حالت کے ساتھ مخصوص ہے۔ باقی حالات کے بارے میں بھی یہی ہے، حدیث کے الفاظ  اس پر دلالت نہیں کرتے کہ قضا کا حکم مذکورہ واقعے کے ساتھ خاص تھا، اور  اس کے علاوہ دیگر حالات کے لیے نہیں۔ بلکہ  یہ تمام احادیث جن میں  ان مخصوص حالات کا ذکر ہے، ایک واقع کے بیان کے طور پر آئی ہیں ، کسی قید یا شرط  کے بیان کے لیے نہیں۔ اور ان میں نماز کی قضا کی تخصیص کا کوئی سبب واضح نہیں، جیسا کہ حدیث کو بغور پڑھنے سے یہ بات سامنے آتی ہے۔

جہاں تک ان احادیث کی بات ہے  جس میں وصف کے معنی کے ساتھ فعل مذکور ہے، مثلاً: "من نامجو کوئی سوتا رہ جائے اور "او نسیھا" ، یا  بھول جائے، "او غفل"  ،یا غافل رہے، "من نسی" ، جو کوئی بھول جائے۔ تو یہ تمام الفاظ ایسے ہیں کہ ان میں وصف کی قید کا اعتبار کیا گیا ہے، اور اس حوالے سے مفہوم مخالفہ کا اعتبار ہوگا ،کیونکہ صفت کا مفہومِ مخالف  متعبر ہوتا ہے۔اور اس لیے بھی کہ  اگر اس کو قید و شرط نہ سمجھاجائے تو اس وصف کا ذکر عبث اور بے فائدہ ہوگا،اور حدیث عبث  باتوں سے پاک ہیں۔ لیکن ان نصوص  کے مفہوم مخالفہ پر  دیگر نصوص کی وجہ سے عمل معطل ہو گا۔اصول یہ ہے کہ جب ایک نص ایسی آجائے جس کا منطوق یعنی متن دوسری نص کے مفہوم کے برعکس معنی پر دلالت کرتا ہے ، تو مفہوم معطل ہو گا اور منطوق پر عمل ہوگا، کیونکہ معنی پر منطوق (متن کے لفظی معنی)کی دلالت  مفہوم کی دلالت سے زیادہ قوی ہوتی ہے ۔ ان  احادیث کا مفہوم  بھی  ان دیگر احادیث کی وجہ سے معطل ہے جو دیگر مواقع میں نماز کی قضاواجب ہونے سے متعلق وارد ہوئی ہیں، جیسے جنگ کی حالت میں ۔

حج کی قضا والی حدیث  جس میں آیا ہے کہ " پس اللہ کا قرض ادا کیے جانے کا زیادہ حق دار ہے"،یہ الفاظ عام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہر قرض کو  گھیرے ہوئے ہیں۔ نماز اللہ کا قرض ہے، پس یہ بھی   (اللہ کا قرض)  کے عموم میں داخل ہے۔ کیونکہ اللہ کا قرض  اسم جنس  مضاف ہے، یہ قطعی عموم کے صیغوں میں سے ہے،لہٰذا یہ یقیناً عمومیت ہی کی ایک شکل ہے۔ جان بوجھ کرنماز چھوڑ دینے والا بھی اس کی قضا کا مخاطب ہے جس طرح ہر مسلمان  اس سے مخاطب ہے، اور اس پر بھی نماز کی ادائیگی لازم تھی، اور ایک قرض کی طرح اس  کی گردن پر ہے۔قرض  صرف ادائیگی سے اترتا ہے، اسی طرح نماز   وقت نکلنے سے ذمے سے نہیں اترتی ، تا آنکہ اس کو ادا کیا جائے۔ اپنے وقت میں جان بوجھ کر نماز ترک کرنے کا گناہ الگ ہے۔ ) یہاں تک کتاب احکام الصلوٰۃ سے اقتباس مکمل ہوا۔

امید ہے کہ یہ آپ کے لیے کافی  ہوگا، واللہ  اعلم و احکم۔

آپ کا بھائی ،

عطاء بن خلیل ابو الرشتہ

23  رمضان 1442ھ

5 مئی 2021ء

Last modified onجمعہ, 31 دسمبر 2021 05:32

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک