الخميس، 09 رمضان 1447| 2026/02/26
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ایک ایسی تہذیب جو معصوم بچیوں کی چیخوں کو دولت کے قدموں تلے روند دیتی ہے

 

اور ایک وہ تہذیب جو ایک عورت کی پکار پر فوج کو حرکت میں لے آتی ہے

 

تحریر: استاذہ رولا ابراہیم

(ترجمہ)

 

ایپسٹین کا معاملہ محض کوئی الگ تھلگ اخلاقی جرم نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کسی درست ڈھانچے میں انفرادی انحراف ہے، بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی اصل حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ یہ نظامِ زندگی اپنی بنیاد ہی میں فاسد ہے۔ یہ صرف چند افراد کے گرنے کو ظاہر نہیں کرتا، بلکہ اس پورے نظام کے زوال کو بے نقاب کرتا ہے جس کی بنیاد ہی عقیدے سے اقدار کو الگ کرنے، سرمایہ دارانہ مفاد کو معیار بنانے، اور آزادی کو خواہشات کی تسکین کے لیے ایک پردے کے طور پر استعمال کرنے پر رکھی گئی ہے۔ اس نظام نے انسان کو اللہ کا بندہ بنانے کے بجائے خود اپنا قانون ساز بنا دیا ہے۔

 

چنانچہ جب نام نہاد "مہذب دنیا" کے دل میں بچپن کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہے، اور پھر ان فائلوں کو اس وقت بند کر دیا جاتا ہے جب ان کا تعلق دولت اور طاقت کے مراکز سے جڑنے لگتا ہے، اور حکمران طبقے کے ڈھانچے کو بچانے کے لیے کسی ایک فرد کو قربانی کا بکرا بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو اس وقت ہم محض نفاذ کی کسی غلطی کے سامنے نہیں ہوتے، بلکہ یہ نظریے اور قانون سازی کا ایک سنگین بحران  ہے۔ مفاد پر مبنی سرمایہ دارانہ نظام، جو حق کے بجائے فائدے پر قائم ہے، اس وقت جرم پیدا کرتا ہے جب وہ اس کے مفادات کی خدمت کرتا ہے اور پھر اسے اس وقت تحفظ فراہم کرتا ہے جب وہ اس کے تسلسل کے لیے خطرہ بن جائے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب ایک مادی اور مفاد پرست تہذیب ہونے کے ناطے عدل و انصاف کا کوئی مستقل ترازو نہیں رکھتی، کیونکہ اس نے وحی کی حاکمیت کو ختم کر کے اسے ناقص انسانی عقل کے سپرد کر دیا ہے جو خواہشات اور مفادات کے تابع ہے۔ اسی لیے یہ تہذیب عورت کا تحفظ صرف اسی حد تک کر سکتی ہے جہاں تک وہ سرمایہ دارانہ مفاد کے کام آتی ہو، اور یہ بچے کی حفاظت صرف تب تک کرتی ہے جب تک وہ اقتدار اور دولت کے نفع نقصان کے حساب کتاب سے باہر ہو۔ چنانچہ جسے "خواتین کے حقوق" کہا جاتا ہے وہ دراصل کوئی انسانی تکریم نہیں بلکہ محض ایک کاروباری ضرورت کے تحت استعمال ہے، اور جسے "بچوں کے حقوق" کا نام دیا جاتا ہے وہ کوئی تقدس نہیں بلکہ ایک انتخابی پروپیگنڈا ہے۔ اس طرح عورت کو ایک وسیلے، بچے کو ایک فائل، اور انصاف کو ایک ایسے انتخابی عمل میں بدل دیا گیا ہے جسے نفع اور نقصان کی منطق کے تحت کبھی فعال کر دیا جاتا ہے اور کبھی معطل۔

 

اور جب اسکینڈلز سامنے آتے ہیں، تو نظام کا محاسبہ نہیں کیا جاتا، بلکہ کہانی کو نئے سرے سے گھڑا جاتا ہے اور بحران کو میڈیا کے ذریعے اس طرح سنبھالا جاتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام ہر قسم کی پوچھ گچھ سے محفوظ رہے۔ بدعنوانی کو چند انفرادی واقعات تک محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہاں جرم ایک بگڑے ہوئے فکری ڈھانچے کا فطری نتیجہ ہے۔

 

اس تہذیبی پستی کے مقابلے میں، اسلام ایک بالکل مختلف اور اصولی تصور پیش کرتا ہے، جو محض خیالی اخلاقیات کی سطح پر نہیں بلکہ نظام اور حکمرانی کی سطح پر ہے۔ سنہ 223 ہجری میں عموریہ کے واقعے میں، جب ایک مسلمان عورت نے "وا معتصماہ" (اے معتصم) کی پکار بلند کی، تو وہ کوئی بااثر شخصیت تھی اور نہ ہی کوئی سیاسی دباؤ کا ذریعہ، بلکہ وہ ایک ایسی ریاست کے سائے میں رہنے والی ایک عام انسان تھی جس نے عزت و وقار کو ایک "حکمِ شرعی" قرار دیا تھا جس کی حفاظت واجب ہے۔ خلیفہ نے جان لیا کہ اقتدار ایک امانت ہے اور وہ اللہ کے حضور اپنی رعایا کے بارے میں جوابدہ ہے، نہ کہ سیاسی یا مفاد پرستانہ مصلحتوں کے سامنے۔ وہاں کوئی کمیٹیاں تشکیل نہیں دی گئیں اور نہ ہی اس معاملے کو میڈیا کے ذریعے دبایا گیا، بلکہ ریاست اپنی پوری طاقت کے ساتھ حق کا ترازو بحال کرنے کے لیے حرکت میں آ گئی، کیونکہ اسلام عزت و وقار کو محض ایک نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک شرعی سیاسی ذمہ داری کے طور پر دیکھتا ہے۔

 

یہ فرق محض کوئی تاریخی تفصیل نہیں ہے، بلکہ یہ مرجع اور نظریے کے اختلاف کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ جس وقت یورپی عورت پر سوچنے کے جرم میں مقدمے چلائے جا رہے تھے، اس وقت مسلمان عورت علم حاصل کر رہی تھی، دوسروں کو سکھا رہی تھی، علاج معالجہ کر رہی تھی اور عوامی زندگی میں بھرپور حصہ لے رہی تھی۔ جامعہ القرویین کی بنیاد فاطمہ الفہریہ نے رکھی تھی، اور یہیں سے اور اندلس و صقلیہ (سسلی) کے راستے علوم یورپ منتقل ہوئے۔ یہ منتقلی صرف معلومات اور علم کی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسے تہذیبی تصور کی منتقلی تھی جو انسان کو اللہ کا بندہ دیکھتا ہے اور اسے اس کی مادی افادیت کے بجائے اس کی انسانیت کی بنیاد پر معزز سمجھتا ہے۔

 

چنانچہ مغرب اپنے تمام تر آلات اور انجمنوں کے ذریعے ایک منظم عالمی فکری حملے میں مصروف ہے تاکہ مسلمان عورت کو اس کے نظریاتی و عقائدی مرجع سے جدا کر دے، اور اسے ایک ایسے مفاد پرست نظام کے تحت دوبارہ متعارف کروائے جہاں اس کی قدر و قیمت کا معیار نظام کے لیے اس کی افادیت ہو، نہ کہ اس کی عزت یا شریعت۔ اس سارے عمل کو "آزادی، بااختیار بنانے (ایم پاورمنٹ) اور نسائیت (فیمینزم)" کا لبادہ پہنا کر پیش کیا گیا، جبکہ حقیقت میں یہ ایک مفاد پرست نظام میں زبردستی شامل کرنے کا عمل ہے جو انسان کی قیمت اس بنیاد پر لگاتا ہے کہ وہ نظام کے لیے کتنا فائدہ مند ہے۔ یہ نظام عورت کو نفع اور نقصان کے ترازو میں تولتا ہے، عزت اور احکامِ شرعیہ کے معیار پر نہیں۔

 

آج جب مغربی تہذیب نے خود کو بے نقاب کر دیا ہے، تو میں مغربی فکر کی برآمد کنندہ فیمنسٹ خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے کہتی ہوں کہ تمہارا جھوٹ اور فریب اب کھل کر سامنے آ چکا ہے! مغرب کی راہداریوں میں معصوم بچیوں کی چیخیں اور ایپسٹین اسکینڈلز میں تمہاری مظلوم خواتین، تمہارے اندر کوئی جنبش تک پیدا نہ کر سکیں، کیونکہ تم اس نظام کا حصہ ہو جو جرم، دولت اور طاقت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور حقوق کی بولی لگاتا ہے۔ اس کے برعکس، پاکدامن اور معزز مسلمان عورت تمہاری بدعنوانی کو بے نقاب کرتی ہے اور تمہارے دوہرے معیاروں کا پردہ چاک کرتی ہے۔ وہ تمہارے سامنے یہ سچائی رکھتی ہے کہ اسلام عورت کو کوئی مالِ تجارت یا محض ایک نعرہ نہیں بناتا، بلکہ اس کی عزت و حرمت ایک ایسا "حکمِ شرعی" ہے جس کی حفاظت ریاست اپنی پوری قوت، اقتدار اور حق کے ساتھ کرتی ہے۔ آج مسلمان عورت کے سامنے ایک ایسا انتخاب ہے جس میں ہچکچاہٹ کی کوئی گنجائش نہیں: یا تو وہ ایک ایسی دم توڑتی تہذیب کا آلہ کار بن جائے جو انسان کی حرمت کو پامال کرتی ہے، یا پھر اس عالمی اسلامی منصوبے کا باشعور حصہ بنے جو انسان کو اس کا اصل توازن لوٹاتا ہے اور اس کی عزت کو ثابت قدم رکھتا ہے۔ ذرا سوچئے، انسانیت کی قیادت کی حقدار کون سی تہذیب ہے؟ وہ تہذیب جو اثر و رسوخ کے اندھیروں میں معصوم بچیوں کی چیخوں کا گلا گھونٹ دیتی ہے اور معصومیت کو دولت و طاقت کے قدموں تلے دفن کر دیتی ہے، یا وہ تہذیب جس نے ایک عام عورت کی پکار کو وہ اہمیت دی کہ اس نے حکمران کو تڑپا دیا، فوج کو تیار کر دیا اور ایک پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا؟

 

راستہ بالکل واضح ہے اور اس میں غیر جانبداری کی کوئی جگہ نہیں: یا تو مفاد پرستی، زوال اور غلاظت کی تہذیب ہے، یا پھر وحی، عدل، قیادت اور پاکدامنی کی تہذیب ہے۔

 

 

﴿قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ

 

"بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور واضح کتاب آ چکی ہے"(سورۃ المآئدہ: آیت 15)

Last modified onبدھ, 25 فروری 2026 23:42

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک