الجمعة، 23 شوال 1447| 2026/04/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مشکل، اور رسوا ریاستوں کے شرمناک موقف

 

 

تحریر: استاد احمد القصص

 

(ترجمہ )

 

جب گزشتہ فروری کے آخر میں امریکہ اور یہودی وجود (اسرائیل) نے ایران پر اپنی دوسری جنگ شروع کی، تو امریکہ کا مقصد ایک مختصر مدت کی لڑائی کے ذریعے ایرانی نظام کو مغلوب کرنا تھا، تاکہ ایران کو امریکی مدار میں گھومنے والی ریاست سے بدل کر ایک ایسی تابع ریاست بنا دیا جائے جو اس کے مفادات کی خدمت کرے اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے اس کے منصوبوں سے ہم آہنگ ہو، یا کم از کم خطے میں اس کے پھیلے ہوئے بازوؤں اور انگلیوں کو کاٹ دیا جائے اور اس کی عسکری طاقت کے ان اجزاء کو ختم کر دیا جائے جو وہاں امریکی موجودگی کے لیے خطرہ ہیں، اور ساتھ ہی یہودی وجود کے لیے بھی ہر لمحہ ایک مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ پورے ایرانی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اس کا مقصد نہیں ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کوئی متبادل سیاسی قوت ملک پر حکومت کرنے کی اہل نہیں ہے۔ چنانچہ، مختلف نسلی، قومی اور فرقہ وارانہ اجزاء پر مشتمل ریاست میں نظام کا گرنا، جہاں علیحدگی پسندی کے جذبات موجود ہیں، ایسی افراتفری کا باعث بنے گا جو نہ تو امریکہ کے مفاد میں ہے اور نہ ہی کسی بڑی طاقت یا ایران کے پڑوسی ممالک کے حق میں ہے۔

 

امریکہ نے یہ جنگ نظام کے اعلیٰ ترین رہنماؤں اور فوجی کمانڈروں کو بڑے پیمانے پر، اچانک اور حیران کن انداز میں نشانہ بنا کر شروع کی، جس کا آغاز خود سپریم لیڈر سے ہوا۔ اس نے دفاعی، میزائل، فضائی اور بحری ساز و سامان کی ایک بڑی مقدار کو بھی نشانہ بنایا، اس امید میں کہ یہ دھچکا نظام اور اس کی فوجی طاقت میں دراڑ پیدا کر دے گا، تاکہ باقی رہ جانے والے لوگ تباہی سے بچنے کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھٹکھٹانے میں جلدی کریں۔ امید یہ تھی کہ پھر امریکہ ان پر اپنی شرائط مسلط کر دے گا جو نظام کے خاتمے کے بغیر اسے مجبور اور تابع کر دیں گی۔ تاہم، حیرت کی بات یہ تھی کہ ایرانی فوجی ڈھانچے نے اپنی یکجہتی اور جاری رہنے کی صلاحیت کو ثابت کر دیا، باوجود ان تمام نقصانات کے جو اسے اپنی فوجی قیادت اور جنگی مشینری میں اٹھانے پڑے، اور باوجود سیاسی نظام کی زیادہ تر علامتوں کے خاتمے کے۔ درحقیقت، ٹرمپ کا یہ بار بار کا شیخی بھرا دعویٰ کہ اس نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے اور سب کو مار دیا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جانتا کہ اب ایران میں کس سے بات کرے، اس نے فوجی کمانڈروں کے پاس عسکری تصادم کو اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا، جس کا محرک اولاً انتقام کا جذبہ، ثانیاً استقامت کا تقاضا، اور ثالثاً دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے منصوبے تھے۔ ان کے مقاصد صرف فوجی نقصان اور تباہی تک محدود نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ان میں خلیجی تیل کی ریاستوں میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر امریکی انتظامیہ کا بازو مروڑنے کا معاشی عنصر بھی شامل کر دیا۔ ان میں سب سے خطرناک اور تکلیف دہ اقدام آبنائے ہرمز کی بندش تھی، جس کی وجہ سے امریکہ سمیت پوری دنیا میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔

 

یوں امریکہ اور یہودی وجود نے خود کو عسکری اور معاشی تھکن میں الجھا لیا ہے، جو ٹرمپ، اس کی صدارتی مدت اور اس کی ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی تھکن کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ اپنی اس بند گلی کا احساس ہونے کے بعد، ٹرمپ نے بار بار ایرانیوں کی مذاکرات کی خواہش کے بارے میں بات کرنا شروع کر دی، جبکہ ایرانیوں نے ان کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا کیونکہ انہوں نے مذاکرات کی کسی بھی کوشش سے انکار کر دیا۔ جب بھی وہ انہیں مغلوب کرنے اور جنگ کی اس بند گلی سے نکلنے کی کوشش میں مذاکرات کی طرف راغب کرنے میں ناکام رہا، تو ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے، تاکہ وہ ہارا ہوئے نظر نہ آئے۔ ٹرمپ کو ابھی تک وہ راستہ نہیں ملا، خاص طور پر جبکہ نیٹو نے بھی، یورپی ممالک کی قیادت میں، ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

 

اب وہ، اس تعطل کے بعد، آبنائے ہرمز کو کھولنے کو اپنی جنگ کا بنیادی ہدف بنانے کی طرف رجوع کر رہا ہے، تاکہ اگر ٹرمپ اسے حاصل کر لے، تو وہ خود کو جنگ کے فاتح کے طور پر پیش کر سکے۔ ٹرمپ کے فوجیوں کو اس ہدف کے حصول کا کوئی راستہ نظر نہ آیا سوائے اس کے کہ آبنائے کے قریب اہم ایرانی جزیروں اور شاید ایرانی ساحل کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا جائے۔ چنانچہ ٹرمپ نے خطے میں اپنی زمینی فوج کو متحرک کرنا شروع کر دیا۔ اب وہ امریکیوں اور باقی دنیا سے یہ وعدہ کر رہا ہے کہ اس زمینی آپریشن کے لیے مہینوں نہیں بلکہ صرف چند ہفتے درکار ہوں گے۔ کیا اس ہدف کے حصول کی کوئی ضمانت ہے؟ اگر یہ حاصل ہو بھی جائے، تو کیا یہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے کے کھلنے کی ضمانت دے گا؟

 

جواب یہ ہے کہ جزیروں اور کچھ ساحلی علاقوں پر حملے کے ہدف کے حصول کی کوئی ضمانت نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے حاصل ہونے کی صورت میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے کھلنے کی کوئی ضمانت ہے۔ ایک زمینی جنگ امریکی فوجیوں کے لیے جہنم کے دروازے کھول سکتی ہے، کیونکہ وہ حملے کی کوشش کے دوران یا اس کی تکمیل کے بعد قریب سے ایرانی فائرنگ کی زد میں ہوں گے۔ زمینی حملے کی ممکنہ کامیابی آبنائے کے کھلنے کی ضمانت نہیں دے گی، کیونکہ ایران اب بھی کسی بھی ایسے جہاز کو نشانہ بنانے کے قابل رہے گا جسے وہ آبنائے سے گزرنے دینا نہیں چاہتا، کیونکہ اس کی یہ صلاحیت سمندر، جزیروں یا حتیٰ کہ قریبی ساحلی علاقوں میں اس کی موجودگی پر منحصر نہیں ہے۔ وہ اپنے جزیروں اور علاقوں پر موجود امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوگا۔ درحقیقت، وہ خلیجی ریاستوں اور مقبوضہ فلسطین میں ان اہداف پر اپنے میزائل اور ڈرون بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھنے کے قابل رہے گا جن پر وہ اب بمباری کر رہا ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ ٹرمپ اب جن طریقوں کا سہارا لے رہا ہے وہ ایک اضافی بند گلی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے، جو اس کی عسکری، معاشی اور سیاسی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیں گے۔

 

اس جنگ کے منظر نامے میں سب سے شرمناک پہلو ایران اور فلسطین کے گرد و نواح میں واقع ریاستوں کا موقف ہے۔ وہی گناہ، یا بلکہ خیانت، جس کا ارتکاب تہران کی حکومت نے اس وقت کیا جب وہ 'طوفانِ اقصیٰ' آپریشن کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں ناکام رہی، اور اس کے بجائے اس نے اس لمحے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا جب قابض یہودی وجود لرز اٹھا تھا، اور "سٹریٹیجک صبر" کے نعرے تلے دو مکمل سال تک غزہ اور لبنان میں اپنے اتحادی کو تنہا چھوڑنے اور دھوکہ دینے کا انتخاب کیا۔ بعینہٖ وہی خیانت اب خطے کی ریاستیں کر رہی ہیں، پاکستان سے لے کر ترکی، سعودی عرب، مصر، اردن، اور شام تک... اور یہ فہرست طویل ہے۔ ان میں سے ہر ایک کی آنکھوں کے سامنے وہ تاریخی موقع موجود ہے جو اس وقت امریکہ اور یہودی وجود کو درپیش مشکل صورتحال کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ یہاں یہ دونوں ایک ایسی تنہا ریاست کو شکست دینے میں ناکام ہیں جس کی عسکری طاقت پاکستان یا ترکی کے قریب بھی نہیں پہنچتی۔ اگر ان حکمرانوں میں دین اور غیرت کی ایک رمق بھی ہوتی، یا خود غرضانہ موقع پرستی پر مبنی ذرا سی بھی عیاری ہوتی، تو وہ اسے کم سے کم قیمت پر ہیروز کی فہرست میں شامل ہونے کے سنہری موقع کے طور پر پہچان لیتے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسے بزدل ہیں جو اس اعزاز کے مستحق نہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ اس اعزاز کا بوجھ اٹھانے کے لیے بہت حقیر ہیں، کیونکہ وہ اپنے تختوں پر اس دور کے فرعون کے کارندے بننے اور تاریخ کے مشاہدے میں آنے والے غلیظ ترین بین الاقوامی خاندان کا رکن بننے کے لیے بیٹھے ہیں۔

 

تبصرہ نگار فوراً اس پر یہ تبصرہ کریں گے کہ یہ تو ایران پر جنگ ہے جس نے ہمیشہ خطے کے عوام کے ساتھ غداری کی ہے، تو پھر مسلمان ایران کے شانہ بشانہ کیوں لڑیں؟ اس کا جواب، جو مکمل وضاحت کے ساتھ اور کسی کے جذبات کی پرواہ کیے بغیر دیا گیا ہے، یہ ہے کہ یہ اس شخص کا نقطہ نظر ہے جو اپنی ناک کی نوک سے آگے نہیں دیکھ سکتا۔ ارضِ مبارک کو آزاد کرانے کے لیے یہودی وجود کے خلاف لڑنا اس جنگ سے کئی دہائیاں پہلے بھی ایک شرعی فریضہ تھا۔ یہ اٹھہتر سال پہلے بھی ایک شرعی فریضہ تھا، یعنی جب سے یہودیوں نے فلسطین کے بیشتر حصے پر قبضہ کیا ہے۔ مزید برآں، یہ جنگ محض ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ نہیں ہے۔ بلکہ، یہ جنگ پورے خطے کے خلاف ایک بہت بڑی امریکی مہم کا ایک مرحلہ ہے، تاکہ اس کا نقشہ تبدیل کیا جا سکے اور اسے غیر معمولی انداز میں مغلوب کیا جا سکے۔ جس طرح آج ایران کے حکمرانوں کو ذبح ہوتے ہوئے غزہ کے تئیں اپنے غدارانہ "سٹریٹیجک صبر" پر پچھتانا چاہیے، اسی طرح یہ بزدل بھی اپنے موقف پر اس وقت پچھتائیں گے جب ان کی باری آئے گی، اور پھر انہیں وہ عربی ضرب المثل کسی کام نہ آئے گی جو خبردار کرتی ہے کہ: "میں اسی دن کھا لیا گیا تھا جس دن سفید بیل کو کھایا گیا تھا!"

 

حزب التحریر  کے مرکزی میڈیا آفس کے رکن

 

 

 

Last modified onجمعہ, 10 اپریل 2026 00:06

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک