بسم الله الرحمن الرحيم
اداریہ
سوڈان میں جنگ کو طول دینے کے لیے نیلِ ازرق میں کشیدگی
تحریر: استاد ابراہیم عثمان (ابو خلیل)
(ترجمہ)
نیلِ ازرق میں کشیدگی کوئی حیران کن بات نہیں تھی۔ جنوبی سوڈان میں نقل و حرکت کا مشاہدہ کچھ عرصے سے کیا جا رہا تھا، جس کے ساتھ ساتھ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کی صفوں میں شامل ہونے والے جنوبی سوڈانی کرائے کے فوجیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ایسی دستاویزی میڈیا رپورٹس سامنے آئیں جن میں ایتھوپیا کی سرزمین کے اندر ریپڈ سپورٹ فورسز کی تربیت اور امداد کے لیے ایک بڑے کیمپ کے قیام کی تصدیق کی گئی تھی۔ مزید برآں، فرانسیسی اخبار 'لی موند' (Le Monde) نے 18 اور 19 مارچ کو اپنی ویب سائٹ پر ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی جس میں گزشتہ سال کے آخر سے اس سال کے آغاز تک چار ماہ کے عرصے کے دوران 36 پروازوں کی تفصیل دی گئی تھی، جو ان کیمپوں تک اسلحہ پہنچا رہی تھیں۔
ان کیمپوں سے متعلق سوڈانی حکومت کی آگاہی کے باوجود اس نے ایتھوپیا کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی، بلکہ محض اندرونی طور پر عوامی تسلی کے لیے بیانات جاری کرنے پر اکتفا کیا! گزشتہ ماہ کے آغاز میں سوڈانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ "فروری کے پورے مہینے اور مارچ کے آغاز کے دوران سوڈانی حکومت ایتھوپیا کی سرزمین سے ڈرونز کے داخلے کی نگرانی کرتی رہی ہے،" اور اسے سوڈانی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور سوڈانی ریاست کے خلاف سراسر جارحیت قرار دیا گیا۔
تاہم سوڈان نے اس اقدام پر احتجاج کے لیے نہ تو ایتھوپیا کے سفیر کو طلب کیا اور نہ ہی ان کیمپوں کو روکنے یا کم از کم ان پر ضرب لگانے کے لیے کوئی قدم اٹھایا۔ 24 مارچ کو اسٹریٹجک اہمیت کا حامل شہر کرمک ریپڈ سپورٹ فورسز اور سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ-نارتھ کے قبضے میں چلا گیا۔ سوڈانی فوج نے ایتھوپیا پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کا الزام لگایا، بشمول اپنی سرزمین سے سوڈان کے اندر ڈرونز داغنے کے۔ نیلِ ازرق کے صوبے کی ریاستی حکومت نے بھی ایک سرکاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ جس فورس نے حملہ کیا اس نے ایتھوپیا کی سرزمین سے پیش قدمی کی تھی، اور یہ بھی واضح کیا کہ فوجی گاڑیاں عروس (Arus) ایئرپورٹ کے ذریعے پہنچی تھیں۔ نیلِ ازرق کے گورنر نے ان واقعات کو ایتھوپیا کی جانب سے ایک حملہ قرار دیا۔ ایتھوپیا کے خلاف ان تمام بیانات اور براہِ راست الزامات کے باوجود سوڈانی حکومت نے اس کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے میں ملی بھگت کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کا مقصد ریپڈ سپورٹ فورسز کو ناقابلِ تسخیر اور شکست سے بالاتر بنا کر پیش کرنا ہے، تاکہ مذاکرات اور ان کے وجود کو تسلیم کرنا ناگزیر ہو جائے، اور انہیں دارفور کی تقسیم کی اجازت مل سکے، یہاں تک کہ نیلِ ازرق کے علاقے کو سوڈان کی مزید توڑ پھوڑ کے اگلے مرحلے کے طور پر تیار کیا جا سکے۔
کرمک کا سقوط کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اپنی سرحدی محلِ وقوع اور ایتھوپیا اور جنوبی سوڈان تک پھیلے ہوئے زمینی راستوں کے درمیان ایک اہم کڑی ہونے کے ناطے، یہ ایک سٹریٹیجک اہمیت کا حامل علاقہ ہے، جس پر قبضے سے فوجی سپلائی لائنوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت حاصل ہو جاتی ہے۔ مزید برآں، اس خطے کا پہاڑی جغرافیہ اسے مشاہدے اور نگرانی کے لیے ایک بہترین مقام بناتا ہے، جو براہِ راست ریاست نیلِ ازرق اور اس کے گرد و نواح میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس جنگ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایک عام اور نہتا انسان اس کی قیمت، مالی، اخلاقی اور جسمانی طور پر، چکا رہا ہے، جس کا اس جنگ میں کوئی مفاد نہیں ہے، سوائے اس کے کہ اس کی زمین اور روزگار میدانِ جنگ بن چکے ہیں۔ وہ اپنا سب کچھ کھو دینے کے بعد ہجرت اور بے گھری کی اذیت سہتے ہوئے اس جنگ کا سارا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ جب کبھی بھی جنگ چھڑتی ہے، چاہے وہ دارفور ہو، وسطی سوڈان میں خرطوم ہو، کردوفان ہو، جزیرہ ہو یا کہیں اور، اس کی انسانی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔ یہی وہ قیمت ہے جو آج کرمک اور ریاست نیلِ ازرق کے دیگر علاقوں کے سقوط کے بعد لوگ ادا کر رہے ہیں، جہاں ہزاروں بزرگ، خواتین اور بچے سلامتی کی تلاش میں بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ سب کچھ نیلِ ازرق کے خطے میں بڑھتی ہوئی لڑائی کے درمیان ہو رہا ہے، جہاں گورنر احمد العمدہ بادی نے کرمک کو واپس لینے کی تیاریوں کے سلسلے میں سوڈانی فوج کی تازہ دم کمک کی آمد کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا، ہجرت کی بین الاقوامی تنظیم (آئی او ایم) نے رپورٹ دی ہے کہ بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور بڑھتے ہوئے تصادم کی وجہ سے 14 فروری سے 24 مارچ کے درمیان ہزاروں لوگ شہر سے ہجرت کر گئے ہیں۔ سوڈانی ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بین الاقوامی اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں، بالخصوص اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں سمیت فوری مدد فراہم کرنے کے لیے فوری مداخلت کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ امداد متاثرین تک پہنچے۔ نیٹ ورک نے بے گھر افراد کی بگڑتی ہوئی صحت اور انسانی صورتحال کے بارے میں خبردار کیا، خاص طور پر طبی سہولیات کی عدم دستیابی، بیماریوں کے پھیلاؤ اور غذائی قلت کے پیشِ نظر۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ سوڈان کے سرحدی علاقوں پر دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی رنگ لا رہی ہے۔ وہ جنوب کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں اس وقت تک کامیاب رہا جب تک کہ اسے سوڈان سے الگ نہیں کر دیا گیا، اور اب یہی دباؤ دارفور پر ڈالا جا رہا ہے، اپنے ایجنٹ حمیدتی کو تقریباً پورے دارفور پر قبضے کے قابل بنانے کے بعد، سوائے ان چند چھوٹے علاقوں کے جو فوجی یا سیاسی منظر نامے پر کوئی نمایاں اثر نہیں ڈالتے۔ مزید برآں، اس نے دارفور میں ایک متوازی حکومت کے قیام سے آنکھیں موند لی ہیں، بلکہ شاید یہ سب اسی کے ایما پر ہو رہا ہے۔
نیلِ ازرق میں جاری جنگ ویسی نہیں ہے جیسی دارفور میں تھی، یا یہاں تک کہ مغربی یا شمالی کردوفان کے قریبی علاقوں میں تھی۔ یہ جنگ اب دیگر علاقوں میں پھیل رہی ہے، جیسا کہ جنوبی کردوفان میں ہوا، اور کوستی، ربک اور العبید جیسے کئی شہروں میں ڈرون جنگ لڑی جا رہی ہے، جس کی قیمت عام لوگ چکا رہے ہیں۔ اب ریاست نیلِ ازرق میں یہ سارا میدان اس لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ جنگ کو طول دیا جائے اور لوگوں میں مایوسی پیدا کی جائے، تاکہ وہ یہ مان لیں کہ یہ جنگ ان باغی تحریکوں پر فوج کی فتح کے ساتھ ختم نہیں ہوگی۔ نتیجتاً، ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ امریکہ کے احکامات کے آگے سر تسلیمِ خم کر لیں، چاہے اس کی قیمت دارفور کی علیحدگی اور سوڈان سے اس کا کٹ جانا ہی کیوں نہ ہو، بالکل ویسے ہی جیسے جنوبی سوڈان میں ہوا، جہاں سوڈانی عوام کی جانب سے اس سازش کو روکنے کے لیے کسی کارروائی کے بغیر ہی یہ منصوبہ آگے بڑھا! اب اگر امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کو دارفور کی علیحدگی کے ذریعے سوڈان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش پر عمل درآمد سے روکنے کے لیے سنجیدہ اقدام نہ کیا گیا، تو ایک ایسا دن آئے گا جب ہم اپنے ملک کی وحدت سے غفلت برتنے اور امریکہ کو اس کے ایجنٹوں کے ذریعے سوڈان کے باقی ماندہ حصے کو تباہ کرنے کی خواہش پوری کرنے دینے پر پچھتائیں گے۔ اس لیے، یہ ناگزیر تھا کہ سوڈان کی سالمیت سے کھیلنے والوں کے ہاتھ روکے جائیں اور ایک ایسی نظریاتی ریاست کے قیام کے لیے تندہی سے کام کیا جائے جو سوڈان کو متحد کرنے کے لیے کام کرے اور ان لوگوں کے ہاتھ کاٹ دے جو اس کے وسائل سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ چونکہ سوڈان کے عوام کی اکثریت مسلمان ہے، اس لیے اصول یہی ہے کہ ہمیں اپنی ریاست کی بنیاد عظیم اسلام پر رکھنی چاہیے، جو شریعتِ حقہ کی روشنی میں لوگوں کو ان کی نسل یا مذہب سے قطع نظر برابر قرار دیتا ہے، اور انہیں حقوق و فرائض میں مساوی رکھتا ہے، یعنی اسلام کی ریاست، نبوت کے نقشِ قدم پر دوسری خلافتِ راشدہ کے زیرِ سایہ۔
ولایہ سوڈان میں حزب التحریرکے ترجمان




