الجمعة، 23 شوال 1447| 2026/04/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ترکیہ شاندار ہے، اور ایردوان ایک عظیم لیڈر ہیں

 

 

تحریر: استاذ اسعد منصور

 

(ترجمہ)

 

امریکی صدر ٹرمپ نے 29 مارچ 2026 کو میامی میں منعقدہ "فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو" کانفرنس کے دوران ایران کے خلاف امریکی اور یہودی جارحیت پر دیگر ممالک کے موقف کا جائزہ لینے کے بعد ترکیہ اور اس کے صدر کی تعریف کی۔ ٹرمپ نے صدر رجب طیب ایردوان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "میرے خیال میں ترکیہ شاندار تھا۔ درحقیقت، شاندار۔ اور وہ ان معاملات سے دور رہے جن سے ہم نے انہیں دور رہنے کو کہا تھا۔ اور وہ ایک عظیم لیڈر ہیں۔"

 

ٹرمپ کی جانب سے ایردوان کی اس بھرپور ستائش اور انہیں ایک عظیم لیڈر قرار دینے کا ایک ایسا مطلب ہے جو کسی بھی ذی شعور شخص پر عیاں ہے۔ اس سے قبل بھی وہ یہ کہہ کر اس کی تعریف کر چکا ہے کہ وہ ایردوان سے محبت کرتا ہے اور ایردوان اس سے محبت کرتا ہے۔ کفر کے سرغنہ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور اہل ایمان کے دشمن، ٹرمپ کی جانب سے یہ ایردوان کی امریکہ سے وفاداری اور اس اہم خدمات کی گواہی ہے جو اس نے امریکہ کو فراہم کی ہیں۔ یہ سب کچھ بلا شک و شبہ ان خدمات کی اہمیت کو ثابت کرتا ہے جو ایردوان کے ترکیہ نے گزشتہ 24 سالوں سے اس مجرم دشمن کو فراہم کی ہیں۔

 

ٹرمپ، جس کا مقصد "پہلے امریکہ" (America First) اور "امریکہ کو دوبارہ عظیم بنائیں" (Make America Great Again) جیسے نعروں میں سمویا ہوا ہے، ایردوان اور حکومت میں شامل ان کے حواریوں کو "شاندار" اور "عمدہ" قرار دے کر اس لیے سراہتا ہے کیونکہ وہ اس کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے ترکیہ کو اس معرکے سے دور رکھا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اسے ایران کے خلاف، اور اس سے قبل غزہ، شام، عراق اور افغانستان کے مسلمانوں اور ان کے ممالک کی حمایت میں امریکی اور یہودی جارحیت کے خلاف مداخلت کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔

 

ایردوان ان دشمنوں کو ایک مسلم ملک، یعنی ایران کو تباہ کرنے کی اجازت دے ررہا ہے، جسے مسلمانوں نے خلیفہ راشد عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) کے دورِ خلافت میں فتح کیا تھا۔ امریکی اسے مقبوضہ بنانے یا اس پر براہِ راست تسلط قائم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، اس کے باوجود ایردوان مسلمانوں کی حمایت میں مداخلت کیے بغیر انہیں قتل کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ وہ ان "چیزوں سے دور رہا" جن میں ٹرمپ نے انہیں شامل نہ ہونے کو کہا تھا!

 

بالکل یہی کچھ غزہ پر یہودی جارحیت کے دوران ہوا، جسے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ امریکہ نے ترکیہ اور خطے کے دیگر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جنگ سے دور رہیں اور اپنے صدر اور سابق امریکی وزرائے خارجہ، بائیڈن اور بلنکن کے ذریعے انہیں واضح طور پر نصیحت کی کہ وہ اس میں مداخلت نہ کریں تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے۔ یہودی وجود دو سال سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے، جس سے پورا علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔ مزید برآں، ایردوان اور اقتدار میں شامل ان کے حواریوں نے غزہ کی حمایت نہ کر کے نہ صرف ان "معاملات سے دوری" اختیار کی جن کا ٹرمپ نے ان سے مطالبہ کیا تھا، بلکہ انہوں نے یہودی وجود کے ساتھ تعلقات منقطع نہ کر کے اور اس کے ساتھ تجارت جاری رکھ کر درحقیقت اس جارحیت کی حمایت کی۔ وہ یہودی وجود کے قاتل فوجیوں کے لیے خوراک اور پانی، اسلحہ سازی کے لیے خام مال، اور اپنے اتحادی آذربائیجان کے حکمران علی ایوف سے حاصل ہونے والا تیل اور گیس فراہم کرتے ہیں تاکہ ان کے ٹینکوں اور طیاروں کا ایندھن پورا ہو سکے۔

 

اب یہودی وجود نے مسجد اقصیٰ کو بند کر دیا ہے تاکہ اس پر قبضہ کر کے اسے مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کر دیا جائے، بالکل ویسے ہی جیسے اس نے الخلیل (ہبرون) میں مسجد ابراہیمی کے ساتھ کیا تھا۔ دریں اثنا، اپنی فوج کے سائے میں آباد کاروں کے جتھے مغربی کنارے میں مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں، جبکہ ایردوان کا ترکیہ تنازع کو بڑھنے سے روکنے کی امریکی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے مداخلت سے گریز کر رہا ہے!

 

ایردوان کے ترکیہ نے اس وقت بھی مداخلت نہیں کی جب یہودی وجود نے امریکی حمایت کے ساتھ شام کے ہتھیاروں بشمول طیاروں، ٹینکوں، ہوائی اڈوں، کیمپوں، اسلحہ سازی کے کارخانوں اور بارود کے گوداموں کو تباہ کر دیا تھا۔ ترک فوج، جو ان مقامات کے قریب اور خود شام کے اندر موجود تھی، محض خاموش تماشائی بنی رہی۔ پھر امریکی تعاون سے یہودی وجود نے نئے علاقوں پر قبضہ کر لیا، دمشق کے مضافات تک پہنچ گیا اور جنوبی شام میں ایک "سیف زون" (محفوظ علاقہ) قائم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ سب امریکہ کی اطاعت میں کیا گیا، اس طرح وہ ان "معاملات سے دور رہے" جن میں ٹرمپ نے انہیں شامل نہ ہونے کا کہا تھا!

 

اسی لیے ترکیہ اس وقت بھی مداخلت نہیں کرتا جب یہودی وجود امریکی حمایت کے ساتھ لبنان پر حملہ کرتا ہے تاکہ وہاں موجود ان ہتھیاروں اور افواج کو تباہ کر سکے جو اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اور پھر دریائے لیطانی کے جنوب میں ایک سیف زون قائم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

 

جس طرح ٹرمپ نے ترکیہ سے مطالبہ کیا تھا، بالکل ویسے ہی اس نے خطے کے دیگر ممالک سے بھی یہ مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کو طول پکڑنے سے روکنے کے لیے مداخلت نہ کریں، اور ان ممالک نے نہایت تابعداری کے ساتھ اس کے حکم کی تعمیل کی۔ اسی لیے اس نے ترکیہ کے علاوہ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور انڈونیشیا کی بھرپور تعریف کی، ان کے موقف پر ان کا شکریہ ادا کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکہ کو زبردست مدد فراہم کی ہے۔

 

درحقیقت، ایردوان کے ترکیہ اور ان ممالک نے جن کی ٹرمپ نے تعریف کی، امریکہ اور یہودی وجود کی جارحیت پر خاموش رہ کر، یہودی وجود کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع نہ کر کے، اور اپنی سرزمین پر قائم ان فوجی اڈوں کو بند نہ کر کے حیرت انگیز تعاون فراہم کیا ہے جس کی بدولت یہودی وجود اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ صورتحال امریکہ اور اس کے پروردہ یہودی وجود کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ ایک ایک کر کے ہر مسلم قوت کو ختم کر دیں، یہاں تک کہ تمام مسلم ممالک ایسے کسی بھی اسلحے سے محروم ہو جائیں جو یہودی وجود یا امریکی اثر و رسوخ کے لیے خطرہ بن سکے۔

 

یہ ممالک سمجھتے ہیں کہ وہ ایسا موقف اپنا کر دانشمندی کا ثبوت دے رہے ہیں اور یوں وہ امریکی اور یہودی بھیڑیوں سے بچ جائیں گے، اور یہ کہ اگر وہ دوسروں کو ہڑپ ہونے دیں گے تو تباہی کا یہ چکر ان کی طرف نہیں مڑے گا۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہودی وجود کھلم کھلا انہیں دھمکیاں دیتا ہے۔ اس کا وزیراعظم نیتن یاہو نیل سے فرات تک پھیلے ہوئے "گریٹر اسرائیل" (عظیم تر اسرائیل) کے قیام کی اپنی خواہش کا اظہار کر چکا ہے، جس کا مقصد خطے میں واحد طاقت بننا اور ناقابلِ تسخیر اسلحہ رکھنا ہے، جبکہ دیگر تمام ممالک کو ہر اس ممکنہ خطرے سے محروم کر دینا ہے جس سے وہ اپنا دفاع کر سکیں۔

 

امریکہ نے یہودی وجود کے لیے اپنے سفیر ہکابی کے ذریعے اس خیال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ 21 فروری 2026 کو اس نے بیان دیا کہ وہ پورے مشرقِ وسطیٰ پر یہودی وجود کے قبضے میں کوئی رکاوٹ نہیں دیکھتا، اور وہ نیل سے فرات تک کی زمین کو یہودیوں کی سرزمین سمجھتا ہے۔ ہکابی نے کہا: "مجھے یقین نہیں کہ یہ اس حد تک جائے گا، لیکن یہ زمین کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ہوگا... اسرائیل وہ سرزمین ہے جو خدا نے (حضرت) ابراہیم کے واسطے سے اس قوم کو دی جسے اس نے چنا تھا۔ یہ ایک قوم تھی، ایک مقام تھا اور ایک مقصد تھا... اگر وہ اس سب پر قبضہ کر لیں تو یہ ٹھیک ہوگا"۔

 

امریکہ نے 2003 میں عراق کے ساتھ بھی یہی کیا تھا، ایک ایسا ملک جس کے پاس ایسی قوت موجود تھی جو یہودی وجود پر ہیبت طاری کرنے اور فلسطین کو آزاد کرانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ امریکہ نے ایردوان کے ترکیہ اور دیگر علاقائی ریاستوں کے تعاون سے عراق کو تباہ کیا، اس کی عسکری صلاحیتوں اور اسلحہ سازی کے کارخانوں کو ملیا میٹ کیا، اس کے سائنسدانوں کو قتل کیا اور اس کے وسائل کو جی بھر کر لوٹا۔ اس کے بعد سے ترکیہ اور خلیجی ریاستوں نے امریکہ کے لیے اپنے فوجی اڈے کھول رکھے ہیں۔

 

ایردوان کے ترکیہ نے افغانستان کے خلاف اپنی جارحیت میں امریکہ کی حمایت کی، اور ترکیہ اور خلیجی ریاستوں دونوں نے امریکہ کے لیے فوجی اڈے کھول دیے۔ یہاں تک کہ ترکیہ نے صلیبی نیٹو (NATO) اتحاد کی قیادت میں اس جارحیت میں حصہ لیا، اور ایردوان نے اس پر فخر کرتے ہوئے ترکیہ کو نیٹو کے سب سے مضبوط حامیوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے مثال کے طور پر افغانستان، کوریا اور کیوبا کے میزائل بحران میں امریکہ اور اتحاد کی حمایت کا حوالہ دیا۔

 

اس سے ہر ذی شعور شخص، بلکہ ادنیٰ سی سوچ رکھنے والے کسی بھی فرد پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ایردوان ایک بہت بڑا غدار ہے جو کفار سے دوستی کرتا ہے اور ان کے لیڈر ٹرمپ اور اس کے ملک کو غیر معمولی اور حیرت انگیز مدد فراہم کرتا ہے۔ ایردوان مسلم ممالک کے ان دیگر حکمرانوں سے مختلف نہیں ہیں جو کفار کے وفادار ہیں۔ لہٰذا، یہ ناگزیر ہے کہ ان کی پیروی نہ کی جائے اور نہ ہی ان کے اعمال کا جواز پیش کیا جائے، بلکہ اس کے بجائے ان کی اور ان تمام لوگوں کی مذمت کی جائے جو کفار کے وفادار ہیں۔

 

ہر اس مسلمان پر بھی یہ واضح ہے جو اپنے دین، اپنی سرزمین اور اپنی امت کے لیے غیرت رکھتا ہے، اور جو قیامت کے دن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہو کر پیش ہونے کی امید رکھتا ہے، کہ یہ ایک شرعی فریضہ ہے کہ ان حکمرانوں اور ان کے نظاموں کو ختم کرنے اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کام کیا جائے، کیونکہ ان کی بنیاد ان اصولوں پر ہے جو اسلام کے متصادم ہیں، اور ان دساتیر اور قوانین پر ہے جو کفارِ مغرب سے درآمد شدہ ہیں۔

 

ہر باشعور اور مخلص مسلمان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ان سنگین حالات اور خطے پر امریکہ اور یہودی وجود کے تسلط سے آزادی اور نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے سوائے نبوت کے نقشِ قدم پر خلافتِ راشدہ کے قیام اور اس کے جھنڈے کے نیچے مسلم علاقوں کو متحد کرنے کے۔ لہٰذا، امت کے بیٹوں اور بیٹیوں پر یہ شرعی فریضہ ہے کہ وہ اس کے قیام کے لیے حزب التحریر میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل کر کام کریں یا ان کی حمایت کریں، اور یہ ایمان کا کم ترین درجہ ہے۔

Last modified onجمعہ, 10 اپریل 2026 00:23

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک