الجمعة، 23 شوال 1447| 2026/04/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنازع: استعماری قوم پرستانہ سرحدیں اور نہ مٹنے والے زخم

 

 

تحریر: استاد یاسین بن یحییٰ

 

(ترجمہ)

 

ایک ایسے خطے میں جو تاریخی انقلابات کی گونج میں جی رہا ہے، افغانستان اور پاکستان ایک سرحدی کشمکش میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسی سرحد ہے جو وہاں کے عوام کی مرضی سے نہیں کھینچی گئی، بلکہ برطانوی استعمار نے  روس کے ساتھ اپنی دشمنی کے عروج کے دور میں زبردستی مسلط کی تھی۔ ڈیورنڈ لائن، جس کی حد بندی 1893 میں کی گئی تھی، کبھی محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں تھی، بلکہ یہ پشتون قبائل کے وجود کے عین وسط سے گزرتی ہوئی ایک گہری دراڑ تھی۔ یہ لکیر ایک ایسے تنازع کا گہوارہ ہے جس کی آگ 1947 میں پاکستان کے قیام کے وقت سے مسلسل بھڑک رہی ہے۔ آج، 2021 میں افغانستان میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے ساتھ، یہ تنازع ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان کشیدگی اب محض ایک سرحدی تنازع نہیں رہی، بلکہ ایک پیچیدہ جدوجہد کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو استعماری باقیات، علاقائی دشمنیوں اور ایشیا کے قلب میں اثر و رسوخ حاصل کرنے کے مقابلے کا مجموعہ ہے۔

 

برطانوی وراثت: ڈیورنڈ لائن کے تنازع کی جڑیں

 

افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو اس کے اصل مآخذ یعنی ڈیورنڈ لائن تک پہنچے بغیر سمجھنا ناممکن ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جسے برطانیہ نے برطانوی ہند اور افغانستان میں اپنے دائرہ اثر کی حدود طے کرنے کے لیے کھینچا تھا۔ مسئلے کی اصل جڑ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس لکیر نے سرحد کے دونوں طرف آباد پشتون قبائل کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، جس کے نتیجے میں افغانستان نے آج تک اس سرحد کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے انکار کیا ہوا ہے، جبکہ پاکستان اسے ایک مستحکم بین الاقوامی سرحد سمجھتا ہے جس پر اس کی اپنی خودمختاری کا دارومدار ہے۔ افغانستان کے اس مسلسل انکار نے کسی بھی سرحدی جھڑپ کو، خاص طور پر طورخم جیسی گزرگاہوں پر، محض باڑ لگانے کے تنازع کے بجائے خود قانونی حیثیت اور جوازیت کے تصادم میں بدل دیا ہے۔ پاکستان کو برطانیہ سے 'ریاستی جانشینی' کا نظریہ وراثت میں ملا، جس کی بنا پر وہ ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی قانون کا ایک لازمی حصہ قرار دیتا ہے۔ اس کے برعکس، افغانستان اپنا بیانیہ اس بنیاد پر استوار کرتا ہے کہ یہ معاہدہ استعماری طاقت کے عدم توازن کے تناظر میں مسلط کیا گیا تھا اور اس وجہ سے، یہ ریاست کے لیے قابلِ پابندی نہیں ہے۔

 

سرد جنگ سے طالبان تک: تبدیلیوں کی دہائیاں

 

1970 کی دہائی میں ایک اہم تبدیلی اس وقت آئی جب افغان صدر محمد داؤد خان نے "پختونستان" کے نظریے کو اپنایا اور پاکستان کے اندر علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت شروع کی۔ اسلام آباد نے اس کا جواب افغان اسلامی اپوزیشن کی پشت پناہی سے دیا، جس سے ایک ایسے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں افغانستان کے خلاف "اسلام پسند کارڈ" استعمال کیا گیا۔ تاہم، سب سے بڑا موڑ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کی جارحیت کی صورت میں آیا۔ امریکہ اور سعودی عرب کی مدد سے پاکستان مجاہدین کے لیے ایک عقبی اڈے میں تبدیل ہو گیا۔ یہ ایک ایسی پیش رفت تھی جس کے نتیجے میں ایک بین الاقوامی جہادی نیٹ ورک کا ظہور ہوا اور افغانستان کے اندر پاکستانی انٹیلی جنس کا اثر و رسوخ مستحکم ہوا۔

 

1990 کی دہائی میں، 1994 میں تحریکِ طالبان ابھری جسے پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔ پاکستان اسے افغانستان میں استحکام لانے اور بھارت کے خلاف "سٹریٹیجک گہرائی" (اسٹریٹجک ڈیپتھ) حاصل کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتا تھا۔ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد صورتحال بدل گئی۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان خود کو ایک پیچیدہ کشمکش میں گھرا ہوا پایا۔ وہ سرکاری طور پر تو امریکہ کا اتحادی تھا لیکن ساتھ ہی اس پر طالبان کو پناہ دینے کے الزامات بھی لگتے رہے۔ نتیجے کے طور پر، اس نے "ڈبل گیم" (دوغلی پالیسی) اختیار کی، جس میں بظاہر تو "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کی حمایت کی جاتی رہی، لیکن پسِ پردہ طالبان کے اندر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا گیا۔

 

طالبان کی واپسی: ایک نیا تنازع اور پاکستانی بالادستی کا انکار

 

2021 میں افغانستان سے امریکی انخلاء اور طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد، پاکستان کو تعلقات میں بہتری کی امید تھی۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ طالبان حکومت نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کارروائی سے انکار کر دیا، جو پاکستان کے اندر حملے کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیورنڈ لائن کے گرد متنازع بحث ایک بار پھر شدت کے ساتھ ابھری اور سرحد پر بار بار جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پہلی بار خود طالبان حکومت پاکستان کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں آ گئی ہے، جس کے بعد اب اسلام آباد اس قابل نہیں رہا کہ وہ ماضی کی طرح افغان قیادت پر اپنی مرضی مسلط کر سکے۔

 

یہ پیش رفت ایک گہری اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان، جو کبھی افغانستان کو اپنی "سٹریٹیجک گہرائی" کا ایک اہم حصہ سمجھتا تھا، اب اسے غیر محفوظ سرحد کا فائدہ اٹھانے والے مسلح گروہوں کی صورت میں بڑھتے ہوئے اندرونی سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔ اور یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ دم گھونٹتے معاشی بحران اور فوجی قوت کی مسلسل کمی اور تھکاوٹ (attrition) کا شکار ہے۔ دوسری طرف افغانستان اب اپنی حکومت کو مستحکم کرنے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے اور وہ کسی بھی قسم کی پاکستانی بالادستی کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

 

افغان-پاکستان تنازع: علاقائی اور بین الاقوامی دشمنی کا اکھاڑہ

 

افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اب محض دو طرفہ معاملہ نہیں رہا۔ بلکہ، یہ بڑی عالمی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان دشمنی کے وسیع تر فریم ورک (ڈھانچے) کا حصہ بن چکا ہے۔ مثال کے طور پر، چین پاکستان کو ایک سٹریٹیجک اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کے استحکام کو اولین ترجیح دیتا ہے، جو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے ساتھ ساتھ مشرقی ترکستان میں اس کے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ نتیجے کے طور پر، بیجنگ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے طالبان حکومت پر خاموشی سے دباؤ ڈال رہا ہے، اگرچہ وہ انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت افغانستان میں پاکستان کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے، یہ ایک ایسا ہدف ہے جسے اس نے پچھلی افغان حکومتوں کی حمایت اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد بھی، بھارت نے پاکستان کی جانب سے عائد کردہ جغرافیائی اور سیاسی محاصرے کو توڑنے کی کوشش میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے لیے رابطے کے ذرائع کھولے ہیں۔

 

جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، تو اپنی فوجی واپسی کے باوجود وہ انٹیلی جنس کی اہم صلاحیتیں برقرار رکھے ہوئے ہے اور پاکستان کو ایک بالواسطہ ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد افغانستان کو دوبارہ ان گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنا ہے جنہیں انتہا پسند سمجھا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ خطے میں چینی اثر و رسوخ کو متوازن کرنا ہے۔ روس نے اپنی طرف سے، اور افغانستان کے ساتھ اپنے تاریخی معاندانہ تعلقات کے باوجود، طالبان حکومت کے ساتھ روابط کے ذرائع قائم کیے ہیں۔ چین اور ایران کے ساتھ ایک ہی محور میں کام کرتے ہوئے، ماسکو کا مقصد امریکی بالادستی سے آزاد ایک متبادل علاقائی نظام تشکیل دینا ہے، جس میں خاص توجہ اس بات پر ہے کہ سیکیورٹی کے خطرات وسطی ایشیائی خطے تک نہ پھیلیں۔

 

حاصلِ کلام

 

افغان-پاکستان تنازع کی بنیاد میں محض کوئی عارضی قوم پرستانہ سرحدی جھگڑا ہی نہیں چھپا ہے۔ بلکہ یہ ایک ایسی پیچیدہ کشمکش ہے جس میں ایک غیر حل شدہ استعماری وراثت، سرحدوں سے ماورا قبائلی شناخت اور ایشیا کے قلب میں غلبہ پانے کے لیے کوشاں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے درمیان اثر و رسوخ کی جنگ شامل ہے۔ پاکستان، جس نے ایک طویل عرصے تک اپنی 'سٹریٹیجک گہرائی' (اسٹریٹجک ڈیپتھ) کا دارومدار افغانستان پر رکھا، اب ایک ایسے اندرونی خطرے کا سامنا کر رہا ہے جو اس کے وسائل کو نچوڑ رہا ہے، جبکہ طالبان خطروں سے بھرے علاقائی ماحول میں اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ اس بدلتی صورتحال کے بیچ، چین اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے خاموشی سے سرگرم ہے۔ بھارت اپنے دشمن کے گھیراؤ کے لیے صبر و تحمل سے کام لے رہا ہے۔ اور امریکہ اور روس چوکسی اور بے چینی کے ساتھ اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور مسلسل سازشوں میں مصروف ہیں۔

 

آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ نہیں ہے، بلکہ ایک قدیم تنازع کا ایک نیا باب ہے، جس میں دونوں فریق ایک غیر اعلانیہ اتحاد سے نکل کر کھلی سیکیورٹی دشمنی میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ داستان ان بھائیوں کے درمیان جنگوں سے نہ تو ختم ہو گی اور نہ ہی حل ہو گی۔ بلکہ، یہ ایک ایسی آماجگاہ کے طور پر باقی رہے گا جہاں سے استعمار پھلتا پھولتا رہے گا۔ کیونکہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ قبل کھینچی گئی استعماری قوم پرستانہ سرحدیں ایک ایسے زخم کی واضح دلیل ہیں جو نہیں بھر سکتا، سوائے اسلام پر مبنی ایک نظریاتی ریاست کے قیام کے۔ ایسی ریاست استعمار کو اس کے تمام فکری، سیاسی اور قانونی مظاہر سمیت جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی، اور ایک ایسا نظام قائم کرے گی جو امتِ مسلمہ کو متحد کر دے، اور فرقہ واریت، قبیلہ پرستی، قوم پرستی اور جاہلیت کے ہر دوسرے زہریلے بندھن سے تمام تعلقات کو توڑ دے گی۔ یہ منہجِ نبوت پر ایک خلافتِ راشدہ ہوگی، ایسی ریاست جس میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات مکمل طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:

 

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

 

"اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو، اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا، اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔" (سورہ آلِ عمران:آیت 103)

Last modified onجمعہ, 10 اپریل 2026 00:16

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک