الأحد، 23 ذو القعدة 1447| 2026/05/10
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

جنگ چوتھے سال میں داخل ہو گئی ہے: سوڈان کس سمت جا رہا ہے؟!

 

 

تحریر: استاد ناصر رضا

 

 

(ترجمہ )

 

 

اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں نے سوڈان کی صورتحال کو دنیا کی سب سے بڑی انسانی تباہی اور بھوک و نقل مکانی کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے بیان دیا کہ "ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں، اور یہ المیہ تاحال جاری ہے۔" وزیر سماجی امور نے رپورٹ کیا کہ وزارت نے جنگ کے آغاز سے لے کر اکتوبر 2025 تک عصمت دری کے 1,800 کیسز دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیے ہیں، اور ان میں الفاشر اور کردفان کے واقعات شامل نہیں ہیں۔ عصمت دری کے یہ واقعات اکثر خاندان کے افراد کے سامنے کیے جاتے ہیں، اس کے علاوہ خواتین اور بچوں کا اغوا اور ان کی اسمگلنگ بھی جاری ہے، جنہیں بعد ازاں پڑوسی ممالک میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔

 

 

سوڈان ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ محنت (ILO) نے بتایا ہے کہ بمباری اور حملوں کی وجہ سے 37 فیصد طبی مراکز غیر فعال ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق 1,858 طبی عملہ ہلاک اور 490 زخمی ہوئے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح، جو جنگ سے پہلے 32 فیصد تھی، اب 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں 50 لاکھ لوگ اپنی آمدنی کے بنیادی ذریعے سے محروم ہو گئے ہیں۔ مقامی کرنسی کی قدر، جو اپریل 2023 میں 570 سوڈانی پاؤنڈ فی ڈالر تھی، اب گر کر 4,200 پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے۔ کسٹم ایکسچینج ریٹ جنگ کے آغاز میں 18 سے 20 پاؤنڈ تھا، جو پھر 2,769 پاؤنڈ اور اب 3,222 پاؤنڈ تک بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے اشیاء اور خدمات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

 

 

مصنف جان للی کی 1579 کی تصنیف 'Euphues' کی مشہور ضرب المثل، "محبت اور جنگ میں سب جائز ہے"، سوڈان کی جنگ میں ہمارے سامنے موجود صورتحال کی بالکل درست عکاسی کرتی ہے۔ یہ ایک دردناک گونج رکھنے والا جملہ بن چکا ہے جسے ان تمام پرتشدد تنازعات کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو اپنے پیچھے ہماری طرح کی تباہ کن صورتحال چھوڑ جاتے ہیں۔ 30 سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے والی خانہ جنگیاں،جن میں سے 26 صرف افریقہ میں ہیں،بین الاقوامی استعماری تنازعہ کا مظہر ہیں۔ ان کی وجہ سے کانگو، ایتھوپیا، اریٹیریا اور سوڈان جیسی ریاستوں کی تقسیم ہوئی، جس نے ان ریاستوں کو کمزور کر دیا اور استعماری طاقتوں کو ان نازک، جنگ زدہ اور غریب اکائیوں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے قابل بنایا۔ براعظم افریقہ کے قرضے 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو اس کی مجموعی جی ڈی پی (GDP) کے 70 فیصد سے زیادہ کے برابر ہیں۔ مزید برآں، ان تنازعات نے اپنے پیچھے 3 کروڑ سے زیادہ بارودی سرنگیں چھوڑی ہیں، جو دنیا بھر کی کل بارودی سرنگوں کا ایک چوتھائی حصہ ہیں!

 

 

جنگ اپنے چوتھے سال میں کہاں کھڑی ہے؟

 

 

عسکری صورتحال کے حوالے سے، 18 میں سے 11 ریاستیں اب بھی ریپڈ سپورٹ فورسز (Rapid Support Forces) کے کنٹرول میں ہیں، جبکہ بقیہ سات ریاستوں کو مسلسل ڈرون حملوں کا خطرہ لاحق ہے، جن میں اہم انفراسٹرکچر اور فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہاں تک کہ عام شہریوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا۔ ان حالات میں، مسلح گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر مشرقی اور شمالی سوڈان میں۔ اس وقت 110 سے زائد مسلح تحریکیں موجود ہیں، جن میں سے 90 اس تنازع میں کسی نہ کسی فریق کے ساتھ کھڑی ہیں۔ شمالی اور جنوبی کردفان اور جنوبی بلیو نائل (South Blue Nile) کی ریاستوں تک جنگ کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ تنازع کے خاتمے یا فیصلہ کن فوجی فتح کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ ملیشیاؤں کی شناخت میں پایا جانے والا نمایاں تنوع جنگ اور عدم استحکام کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے خطرے کو مزید بڑھا رہا ہے۔ نظریاتی بنیادوں پر مبنی مسلح تحریکیں اور ملیشیا موجود ہیں، جن میں 25 اسلام پسند تحریکیں، اور ساتھ ہی علاقائی اور قبائلی گروہ بھی شامل ہیں۔ شمالی سوڈان پہلی بار مسلح ملیشیاؤں کی موجودگی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ جولائی 2025 میں، محمد سید احمد، جو 'الجا کومی' کے نام سے مشہور ہیں، نے 'ناردرن اینٹیٹی موومنٹ' (Northern Entity Movement) میں 50,000 جنگجوؤں کی تربیت کا اعلان کیا۔ دیگر گروہوں میں شمالی ریاست کی 'اولاد قمر' فورس اور جزیرہ (Gezira) ریاست کی 'پیپلز فورسز آف دی سینٹرل ریجن' شامل ہیں۔

 

 

علاقائی، قبائلی، مفاد پرستانہ اور نظریاتی رجحانات کی حامل ملیشیاؤں کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی موجودگی اور ان کا پھیلاؤ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے اور امن کے امکانات کو کمزور کرتا ہے۔

 

 

جہاں تک سیاسی حقیقت کا تعلق ہے، موجودہ عسکری اور ملیشیا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، کئی منظرنامے ممکن ہیں، جن میں سب سے نمایاں 'لیبیا کا منظرنامہ' ہے۔ فروری 2025 میں، ریپڈ سپورٹ فورسز نے دارفور کے علاقے میں ایک عبوری حکومت کا اعلان کیا، جس میں حمیدتی نے خود کو اس کا سربراہ قرار دیا۔ دوسری طرف، جنرل برہان کی حکومت ان ریاستوں میں برقرار رہی جو پورٹ سوڈان حکومت کے زیرِ کنٹرول ہیں، اور اب وہ خرطوم منتقل ہو چکی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے لیبیا میں ہوا تھا، جہاں دنیا اب دو حکومتوں کے وجود کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، اور حال ہی میں دونوں کے لیے ایک مشترکہ بجٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ سب سے خوفناک منظرنامہ سوڈان کا 'صومالیہ' بن جانا (Somalization) ہے، جس کے تحت اسے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے گا: دارفور، مرکز، شمال، مشرق، جنوبی کردفان اور جنوبی بلیو نائل، جیسا کہ صومالیہ کی تین ممالک میں تقسیم کے دوران ہوا تھا۔

 

 

سوڈان کی جنگ اور اس کے بعد کے اثرات میں استعماری کشمکش اور اس کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عسکری قوتیں، یعنی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز، سوڈان میں امریکی مفادات کی نمائندگی کرتی ہیں، جبکہ سویلین برطانوی مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

 

 

غیر سرکاری تنظیموں کی ایک رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ کے نتیجے میں نقل مکانی، بے گھری اور قحط پیدا ہوا ہے، لاکھوں خاندان دن میں صرف ایک وقت کا کھانا کھا رہے ہیں، اور بعض اوقات کئی دنوں تک فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ 'ہیومینٹیرین نیڈز اینڈ رسپانس پلان 2026' کے مطابق، سوڈان کی 61.7 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، جو کہ تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ افراد بنتے ہیں (رائٹرز، 13 اپریل 2026)۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوڈان کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور فنڈز کی کمی کے درمیان دنیا کے سب سے بڑے نقل مکانی کے بحران کا سامنا ہے۔ یو این ایچ سی آر (UNHCR) کی رپورٹ کے مطابق، ملک کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے۔

 

 

یہ صورتحال ان استعماری طاقتوں کی مداخلت کے لیے ایک زرخیز زمین فراہم کرتی ہے جو ملک اور اس کے وسائل کا استحصال کرنا چاہتی ہیں۔ مثال کے طور پر، 'ریپڈ ریسپانس ونڈو' (RRW) کے لیے فراہم کردہ براہ راست امداد کا مقصد امن کے عمل یا امن معاہدے میں خواتین کی شرکت اور اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔ اسی طرح، معاشی میدان میں، وزیر مملکت برائے خزانہ اور بینک آف سوڈان کے گورنر نے افریقی گروپ کے لیے ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے ملاقات کی، اور ساتھ ہی ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے موسم بہار کے اجلاسوں میں شرکت کی، نیز آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں برطانیہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے بھی ملاقاتیں کیں... یہ سب سوڈان کی صورتحال پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ہیں۔

 

 

مختصر یہ کہ، فوجی اور سویلین قیادت نے ملک کو استعمار کے مفادات کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ وزیر اعظم کامل ادریس نے 18 اپریل 2026 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بیان دیا کہ حکومت اسٹریٹجک منصوبوں کا ایک پیکیج شروع کرنے والی ہے، جن میں سب سے نمایاں "سوڈان مارشل پلان" ہے تاکہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد تعمیر نو کی جا سکے۔ یہ امریکی وزیر خارجہ جارج مارشل کے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کی تعمیر نو کے منصوبے کی طرز پر تیار کیا گیا ہے، جسے بعد میں 1948 کے مارشل پلان کے نام سے جانا گیا۔ کامل ادریس کے بیانات دراصل برہان کے ان بیانات کی بازگشت ہیں جس میں وہ ملک اور اس کے وسائل امریکہ کو پیش کر رہے ہیں۔ برہان نے 26 نومبر 2025 کو وال اسٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا: "جب جنگ ختم ہوگی، اور اسے ختم ہونا چاہیے، تو سوڈان امریکہ کا ایک مضبوط شراکت دار بننا چاہے گا۔ ہم علاقائی استحکام کے تحفظ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اپنے تباہ حال شہروں اور بستیوں کی تعمیر نو میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی کمپنیوں کو تعمیر نو، سرمایہ کاری اور طویل مدتی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔"

 

 

ان تمام حقائق سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سوڈان کے عوام کی تقدیر میں سختی، مصائب اور شاید تقسیم اور بربادی ہی لکھی ہے، جب تک کہ مخلص اور با شعور افراد ملک کو اس خطرناک راستے پر پھسلنے سے روکنے کے لیے حرکت میں نہ آئیں۔ یہ مقصد تب تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہم کافر مغرب اور اس کے منصوبوں کے وفادار سیاست دانوں اور فوجی حکام کا سیاسی اور فکری اقدامات کے ذریعے محاسبہ نہ کریں جو ان کے منصوبوں اور غداریوں کو بے نقاب کریں۔ اب یہ ناگزیر ہے کہ فوج، سیکورٹی فورسز اور پولیس میں موجود مخلص افراد ان ایجنٹوں اور غداروں کے ہاتھوں سے اقتدار چھین لیں اور خلافت کے قیام کے لیے کام کرنے والوں کو نصرۃ (عسکری مدد) فراہم کریں۔ صرف خلافت ہی استعمار کے ہاتھ کاٹنے، انہیں مسلمانوں کی سرزمین سے نکال باہر کرنے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شریعت نافذ کرنے، مسلمانوں کی حرمت اور وقار کا تحفظ کرنے اور ان کی دولت کو دشمنوں کے بجائے ان کے اپنے ہاتھوں میں محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس عظیم مقصد کے لیے، کوشش کرنے والوں کو بھرپور تگ و دو کرنی چاہیے۔

 

 

(وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ)

 

"اور اسی (منزل) کے لیے چاہیے کہ تگ و دو کرنے والے تگ و دو کریں۔" (سورۃ المطففین: آیت  26)

 

 

ولایہ سوڈان میں حزب التحریر  کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے سربراہ

 

 

 

Last modified onہفتہ, 09 مئی 2026 20:29

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک