الأربعاء، 12 ذو القعدة 1442| 2021/06/23
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

امریکہ افغانستان سے کیوں نکلنا چاہتا ہے

عابد مصطفیٰ

حالیہ دنوں میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے متعلق بہت کچھ شائع ہوا ہے ۔ اس انخلاء کے منصوبے پر 2014 میں عمل درآمد کرنے کا ارادہ ہے۔ لہذا یہ ایک اچھا موقع ہے کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا امریکہ نے افغانستان کے حوالے سے اپنے تضویراتی (سٹریٹیجک)منصوبےمیں کوئی تبدیلی کی ہے یا یہ انخلاء محض ایک آپریشنل منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ اگر یہ آپریشنل منصوبے کا ہی حصہ ہے تو پھر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر واشنگٹن افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ اس مضمون میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔
سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ امریکہ کے لیے افغانستان کی کیا اہمیت ہے۔ اگر آپ 20اکتوبر 2010کو جاری کیے گئے سوال و جواب کو یاد کریں تو ہم نے یہ کہا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملے کے تضویراتی(سٹریٹیجک) اہداف یہ تھے:
1۔ یوریشیا میں روس اور چین کی پیش رفت اور بالادستی کو روکنا
2۔ریاست خلافت کے قیام کو روکنا
3۔ کیسپین کے سمندر اور مشرق وسطی میں موجود تیل وگیس کے ذخائر کو اپنے قبضے میں لانا
4۔ کیسپین کے سمندر اور مشرق وسطی سے نکلنے والے تیل و گیس کی سپلائی کے راستوں اور ان کی حفاظت کے معاملات کو اپنے قبضے میں رکھنا

اس تجزیے کے شواہد یہ تھے:
"یوریشیا میں دنیا کی سب سے زیادہ سیاسی لحاظ سے مضبوط اور متحرک ریاستیں موجود ہیں۔ تاریخی طور پر عالمی قیادت کے دعوے دار یوریشیا سے ہی اٹھتے رہے ہیں۔ علاقائی سطح پر بالادستی کی شدید خواہش رکھنے والے دنیا کے سب سے بڑی آبادی والے ممالک چین اور بھارت اسی خطے یوریشیا سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کی سیاسی و معاشی بالادستی کو چیلنج کرنے والےممالک بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔ امریکہ کے بعد دنیا کی چھ سب سے بڑی معیشتیں اور اپنے دفاع پر خرچ کرنے والے ممالک بھی اسی خطے میں واقع ہیں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ دنیا کے تمام اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ایٹمی ریاستیں بھی اسی خطے میں موجود ہیں۔ دنیا کی کُل آبادی کا 75فیصد یوریشیا میں آباد ہےجبکہ دنیا کی 60فیصد کُل قومی پیداوار اور 75 فیصد توانائی کے وسائل بھی اسی خطے میں موجود ہیں۔ یوریشیا کی مجموعی طاقت امریکہ کی طاقت سے آگے نکل جاتی ہے۔ جو طاقت یوریشیا میں بالادستی حاصل کرے گی وہ لازماً دنیا کے تین میں سے دو انتہائی اہم معاشی طاقت کے حامل خطوں ، مغربی یورپ اور مشرقی ایشیا میں بھی فیصلہ کن اثرو رسوخ اورطاقت کی حامل بھی ہوگی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ اور افریقہ کو بھی اپنے اثرو رسوخ کے طابع کردے گی۔ یوریشیا کے اتنے وسیع خطے میں جس طرح سے بھی طاقت کی تقسیم ہو گی تو اس کا فیصلہ کُن اثر امریکہ کی عالمی بالادستی اور اس کی تاریخی روایت پر بھی پڑے گا"۔(زےبیگنیو بریسینسکی، "یوریشیا کے لیے سٹریٹیجی"،فارن افئیرز، ستمبر/اکتوبر1997)
"امریکہ کا یہ لازمی ہدف ہے کہ یوریشیا کے خطے میں کسی بھی اہم اور بڑی طاقت کو قائم ہونے سے روکا جائے۔ اس مقصد کو وہ اس طرح سے حاصل کرے گا- ان مداخلتوں کا مقصد کبھی بھی یہ نہیں تھا کہ کچھ حاصل کرنا ہے ۔چاہے سیاسی طور پر کچھ بھی کہا جاتا رہےلیکن ان مداخلتوں کا مقصد کسی ہونے والی چیز کو روکنا ہے۔ امریکہ ان خطوں میں استحکام نہیں چاہتا جہاں ایک اور طاقت پیدا ہونے کا امکان موجود ہو۔ اس کا مقصد استحکام کا قیام نہیں بلکہ عدم استحکام کا قیام ہے اور اس سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ امریکہ نے اسلامی زلزلے کا سامنا کس طرح سے کیا ہے۔ وہ ایک بڑی اور طاقتور اسلامی ریاست کے قیام کو روکنا چاہتا ہے۔ اگر نعرے بازی کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو یوریشیا میں امن کا قیام امریکہ کا کوئی اہم ہدف یا مفاد نہیں ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کو اس بات سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ وہ جنگ جیت جائے۔۔۔۔ان تنازعات کا مقصد صرف ایک طاقت کو ابھرنے سے روکنا یا خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے ناکہ وہاں پر نظم و ضبط کو قائم کرنا"۔(جارج فرائڈمین،"اگلے سو سال-اکیسوی صدی کے لیے پیش گوئی"،2009)
ان اہداف کے حوالے سے ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ لہذا دنیا کے اس خطے کے حوالے سے خارجہ پالیسی کے معاملات میں بش اور اوبامہ کے درمیان کوئی مقابلے بازی نہیں ہے۔ان دونوں جماعتوں کے درمیان جو بھی اختلاف ہوتے ہیں وہ آپریشنل سطح کے ہوتے ہیں ،مثلاً کیسے افغانستان پر امریکی قبضے کو قانونی بنایا جائے اور وہاں پر کسی حد تک استحکام کو قائم کیا جائے تا کہ اس کے بعد کے تضویراتی (سٹریٹیجک )اہداف کوحاصل کیا جاسکے۔آپریشنل سطح کے اختلافات ہی ہمیشہ بش اور اوبامہ کی حکومتوں کے درمیان رہے اور اب خود اوبامہ انتظامیہ میں بھی ہیں۔ لہذا آپریشنل حکمت عملی کئی بار تبدیل کی جاچکی ہے لیکن اوبامہ انتظامیہ کے دور میں کئی بار کی تبدیلیوں کے باوجود ،امریکہ کی حکمت عملی چار اہداف کو حاصل کرنے پر ٹہر گئی ہے اور وہ یہ ہیں:
1۔ افغان حکومت کی استعداد میں اضافہ کرنا تا کہ وہ ملک میں اپنی رِٹ قائم کرسکے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افغان سیکیوریٹی فورسز، پولیس اور فوج کو تیار کیا جائے، وفادار اور قابل گورنر لگائے جائیں اور افغان حکومت میں بدعنوانی کو ممکن حد تک کم کیا جائے۔
2۔ القائدہ اورپشتونوں میں موجود ان جہادیوں کو جو امریکی قبضے کے خلاف ہیں ،تباہ و برباد کردیا جائے۔
3۔ اعتدال پسند طالبان کو میدان جنگ چھوڑنے اور مرکزی افغان حکومت میں شمولیت کے لیے رضا مند کیا جائے۔
4۔ افغانستان کے مسئلے کے امریکہ کے تجویز کردہ حل میں نیٹو، پاکستان،ایران،بھارت،روس،چین اور دوسرے ممالک کو بھی شامل کیا جائے یعنی کہ ایک طرح کے بین الاقوامی طرز کے طریقہ کار کو افغانستان کو درپیش چیلینجز کا سامنا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ امریکہ کو اپنے آپریشنل اہداف کو حاصل کرنے میں بہت مشکلات درپیش ہیں اور اسی وجہ سے اوبامہ اور اس کے اتحادی اس بات کا بہت شدید ادراک رکھتے ہے کہ افغانستان کی جنگ کو جیتنا اب ممکن نہیں یعنی استحکام پیدا نہیں کیا جاسکتا جو کہ آپریشنل اہداف میں سے ایک ہدف تھا۔
وہ وجوہات جن کی بنا پر امریکہ کو افغانستان میں اپنی صورتحال کا جائزہ لینا پڑا
ایسی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر امریکہ کو اپنی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینا پڑا:
اندرونی وجوہات
٭ 2008میں لی مین برادرز کے ڈوبنے کے بعد عالمی مالیاتی نظام شدید دباؤ میں آگیا اور تقریباً تباہ ہی ہوگیا تھا۔ اس بحران نے امریکہ اور یورپ کی معیشتوں کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ مزید جنگوں اور دوسرے ممالک میں مداخلت کے اخراجات کو برداشت کرسکیں۔
٭ افغانستان اور عراق میں ہونے والی جنگوں نے امریکہ کی فوجی طاقت میں موجود تھکاوٹ کو واضع کردیا۔ اگر آسان لفظوں میں اس کو بیان کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ امریکہ کے افواج اس قدر وسیع علاقے میں پھیل چکی ہیں کہ اب وہ مزید بیرون ملک فوجی میشنز کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ واشنگٹن اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے کہ وہ بیرون ملک موجود افواج کی تعداد میں مناسب حد تک کمی کرے۔
٭2003 میں عراق میں مداخلت کے وقت سے امریکہ وہ سپر پاور نہیں رہا جو وہ کبھی ہوا کرتا تھا ۔ دنیا کے کئی خطوں میں مسلسل دنیا کی اہم طاقتیں جیسے روس، برطانیہ اور فرانس اس کے خلاف دباؤ بڑھا رہی ہیں ۔ایشیا پیسیفک میں امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے شدید پریشان ہےاور واشنگٹن یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے بیجنگ کو کھلا چھوڑ دیا تو وہ اس خطے میں اس کی بالادستی کو چیلنج کرے گا۔ 2006 میں نیشنل انٹیلی جنس کونسل کے سابق نائب چیرمین گراہم فولر نے امریکہ کے دشمنوں کی جانب سے اسے درپیش چیلنجز کو یوں بیان کیا کہ:
"پچھلے چند سالوں میں کئی ممالک نے مختلف طریقوں سے بش کے ایجنڈے کو کمزور، تبدیل، محدود، تاخیر یا روکنے کے لیے ہزاروں زخم لگائیں ہیں۔ یہ مخالفین مختلف وجوہات اور بعض دفعہ محدود فائدوں کے حصول کے لیےاکٹھے ہوئے لیکن ان کے اتحاد کی وجہ جس کی متعلق عموماً خاموشی اختیار کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی طرح طاقت کے ایک مرکز کی حامل دنیا کا خاتمہ کیا جائے"۔("سٹریٹیجک تھکاوٹ"، نیشنل انٹرسٹ،2006)
اس کے ساتھ ہی پچھلے ایک سال یا اس سے زائد عرصے کے دوران بین الاقوامی وجوہات نے بھی دو معاملات میں امریکی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں:
ا۔امریکہ 2001 سے افغانستان کی جنگ میں 550بلین ڈالر خرچ کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل دفاعی بجٹ میں کی جانے والی کمی نےامریکہ کے لیے مختلف محاذوں پر ایک ساتھ جنگ لڑنے کی صلاحیت میں شدید کمی پیدا کردی ہے۔ جنوری 2012 میں نیو یارک ٹائمز نے ایک مضمون اس وقت کے امریکی وزیر دفاع پنیٹا کے لیے لکھا جس میں فوجی بجٹ میں کمی کے طریقہ کار پر مشورے دیے گئے تھے۔ اس مضمون میں لکھا تھا کہ :
"مالیاتی مشکلات کی وجہ سے اہداف میں آنے والی تبدیلی اور پچھلی گرمیوں میں امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ہونے والے معاہدے کی وجہ سے ،اس بات کی توقع کی جاری ہے کہ جناب پنیٹا یہ بات واضع کردیں گے کہ پینٹاگون اب ایک ساتھ دو جنگیں نہیں لڑسکتا۔ بلکہ اس کی جگہ وہ یہ کہیں گے کہ فوج اس قدر ہی بڑی ہے کہ ایک وقت میں ایک اہم اور بڑی جنگ لڑ سکتی اور جیت سکتی ہےجبکہ اسی دوران دنیا کے کسی دوسرے حصے میں ایک اور دشمن کے عزائم کو کئی چھوٹے چھوٹے آپریشنز کر کے ناکام کرسکتی ہے جیسا کہ نو فلائی زون کو قائم کرنا یا تباہ حال لوگوں کو مدد پہچاناوغیرہ"۔
لہذا امریکہ نے، جو کبھی ایک ساتھ دو جنگیں لڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا، بل آخر اِس بات کا اعتراف کرلیا کہ وہ اب ایک وقت میں صرف ایک ہی جنگ لڑسکتا ہے۔
ب۔ تو اب امریکہ اس بات پر مجبور ہو چکا ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ دو میں سے کون سی ایک جنگ اسے لڑنی ہے۔ امریکہ کو اس وقت کئی چیلینجز کا سامنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے عراق اور افغانستان کی جنگوں کے معاملات بھی دیکھنے ہیں اور ایشیا پیسیفک میں چین کے خلاف جنگ لڑنے کےساتھ ساتھ مشرق وسطی میں بھی لڑنے کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔ بار حال یہ چین کی ڈرامائی طاقت کا کمال ہے جو امریکہ کے پالیسی سازوں کے لیے اس وقت سب سے زیادہ پریشانی کا باعث ہے۔ مارچ 2012میں کانگریس کے تحقیقاتی ادارے نے ایک رپورٹ امریکی کانگریس کے لیے تیار کی جس کا عنوان تھا "پیسیفک کی جانب توجہ؟ اوبامہ انتظامیہ کی ایشیا میں ترتیب کو درست کرنا"۔ اس رپورٹ میں واضع طور پر کہا گیا ہے کہ:
"اس 'توجہ' کے پیچھے یہ یقین ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ، قومی سلامتی اور معاشی مفادات کا ہدف تبدیل اور ایشیا کی جانب منتقل ہورہا ہے لہذا امریکہ کی ترجیحات اور مفادات کا اسر نو تعین کیا جاناضروری ہو گیا ہے۔ کئی ماہرین کے مطابق یہ لازمی ہے کہ امریکہ ایشیا پیسیفک کو زیادہ اہمیت دے۔ یقیناً کئی سالوں سے خطے میں موجود کئی ممالک نے امریکہ کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے"۔
افغانستان اور عراق میں امریکی افواج میں کمی اور اس کی بحری اور زمینی افواج کی ایشیاپیسیفک میں پیشقدمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور اگر ضروری ہوا تو واشنگٹن فوجی محاذ آرائی کے لیے بھی تیار ہے۔ اسی کو اوبامہ کی ایشیا کی جانب توجہ کہا جاتا ہے جس کے تحت یورپ اور مشرق وسطی سے امریکی اثاثوں کو مشرقی ایشیا میں منتقل کیا جارہا ہے۔
علاقائی وجوہات
افغانستان میں دیر پا استحکام کے قیام میں تین علاقائی چیزوں نے امریکہ کے لیے اس معاملے کو پیچیدہ بنادیاہے۔
٭افغانستان میں امریکی قبضے کوبرقرار رکھنے کے لیے نیٹو نے ایک حد سے آگے جانے سے انکار کیا ہے جس کی قیادت یورپ کررہا ہے۔ 2003 میں جب افغانستان میں نیٹو نے بین الاقوامی سیکیوریٹی فورس کے پردے میں اپنا آپریشن شروع کیا تو اس وقت سے ہی کچھ یورپی ممالک نے اپنے افواج کو افغانستان بھیجنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دیکھائی ہے۔ بیلجیم، اٹلی،فرانس اور جرمنی نے ہمیشہ ایسے بہانوں کو اختیار کیا ہے جن کی بنا پر ان کی افواج افغانستان کے نسبتاً پر امن علاقوں میں تعینات رہی ہیں۔ اسی طرح کئی نیٹو کیاجلاس اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور امریکہ کے لیے اب یہ مشکل ہو چکا ہے کہ وہ اپنی تبدیل شدہ ترجیحات کے ساتھ افغانستان کے بوجھ کو بھی تنے تنہا ہی اٹھائے۔ 2012 میں شکاگو میں ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس میں نیٹو ممالک نے بل آخر یہ تسلیم کرلیا کہ وہ افغانستان میں اپنے مشن کو ختم کردیں۔ کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ :
"دس سال کی جنگ کے بعد اور عالمی معیشت کے کمزور ہونے کی وجہ سے ، مغربی ممالک اب اس جنگ پر مزید خرچ نہیں کرنا چاہتے چاہے اس کا تعلق پیسے سے ہو یا جانوں سے۔ ان کی کوششوں کی قیمت ایک ایسے ملک میں لاحاصل ہے جس نے صدیوں تک بیرونی طاقتوں کے خلاف شدید مزاحمت کی ہے"۔
٭امریکہ مزید پاکستانی افواج کو قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کرنے کے لیے حرکت میں لانے سے قاصر رہا ہے خصوصاً شمالی وزیرستان میں۔ اور یہ اس صورتحال میں ہوا ہے جبکہ اس کے ایجنٹ زرداری اور کیانی اور وہ لوگ جو سیاسی میدان میں موجود ہیں، نے اپنے آقاؤں کے احکامات کو پورا کرنے کی سر توڑ کوشش کی۔
٭افغانستان میں امریکہ کی کامیابی کو مشکل بنانے میں بھارت نے بھی ایک کردار ادا کیا جو برطانیہ کے زیر اثر ہے۔ بھارت نے یہ ہدف اس طرح حاصل کیا کہ امریکہ کی مسلسل گزارشات کے باوجود،اس نے پاکستان اور بھارت کے سرحد پر کشیدگی میں خاطر خوا کمی نہیں ہونے دی۔ لہذا پاکستان پھر اس قابل ہی نہیں ہو سکا کہ وہ مزید افواج کو افغانستان کی سرحد پر منتقل کرے اور مزاحمت کے خاتمے میں امریکہ کو مزید مدد فراہم کرسکے۔
اندرونی وجوہات
امریکی صدر اوبامہ اور امریکی فوجی قیادت کے درمیان افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد اور ان کے انخلاء کے حوالے سے منصوبہ بندی میں اختلافات جنرل میک کرسٹل کی برطرفی اور امریکی و نیٹو افواج کے حوصلوں میں پستی کا باعث بنی۔ اس کے علاوہ پشتون مزاحمت نے امریکہ کے مسائل میں مزید اضافہ کردیا۔ امریکی جنرل جیمز کونوے ،جو کہ امریکی میرینز کے سربراہ بھی ہیں، نے انخلاء کی تاریخ کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس نے کہا کہ :
"ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں (یعنی انخلاء کی تاریخ کا اعلان)دشمن کو فائدہ پہنچے گا۔ ہم نے ایک پیغام پکڑا تھا جس میں کہا گیا تھا 'ہمیں صرف کچھ عرصے کے لیے انتظار کرنا ہے'،۔۔۔۔میں ایمانداری سے یہ سمجھتا ہوں کہ ابھی ہمیں مزید کچھ عرصہ وہاں رہنے کی ضرورت ہے کہ جس کے بعد صورتحال اس قدر بہتر ہوجائے گی کہ ہم وہاں سے انخلاء کرسکیں"۔(امریکی جنرل:افغانستان میں انخلاء کی تاریخ دینا' دشمن کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے'،بی۔بی۔سی نیوز لائن، 24اگست2010)
امریکی فوجیوں کے طرز عمل نے بہت جلد انھیں افغان معاشرے میں نا صرف انتہائی غیر مقبول بنادیابلکہ قابض فوجوں کے خلاف مزاحمت میں بھی زبردست شدت پیدا ہوگی۔ ان فوجیوں کے ذلیل طرز عمل میں قرآن کی بے حرمتی، مردہ مجاہدین کی لاشوں پر پیشاب کرنا، عورتوں اور بچوں کا قتل عام ، پشتون علاقوں میں آپریشنز کے لیے تاجک لوگوں کو استعمال کرنا اور بدعنوان اہلکاروں کی پشت پناہی کرنا شامل ہیں۔
لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں بین الاقوامی، علاقائی اور اندرونی وجوہات نے امریکہ کو اپنی آپریشنل ترجیحات کو چھوڑنے اور طالبان سے براہ راست مزاکرات کرنے پر مجبور کردیا تا کہ ایک باعزت انخلاء کو ممکن بنایا جاسکے۔ لیکن اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکہ یوریشیا سے متعلق اپنے تضویراتی(سٹریٹیجک) اہداف سے دست بردار بھی ہوگیا ہے۔ وہ مستقبل میں بھی افغانستان کو اڈہ بنا کر خطے میں کاروائیاں جارے رکھے گا۔
لیکن انشاء اللہ خلافت کا قیام جلد ہی امریکہ کی خواہشات پر پانی پھیر دے گا اور افغانستان اور مسلم علاقے امریکہ کے لیے ایک بھولی بسری کہانی ہی رہ جائے گی۔

 

Read more...

لبرل ازم ( آزاد خیالی)ایک جھوٹ اور دھوکہ ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان کا غلام بنادیتا ہے

تحریر: ابن نصرۃ
لبرل ازم کے بنیادی تصورات سترویں صدی سے لے کر انیسویں صدی کے درمیان برطانیہ میں نمودار ہوئے اور نشونما پائے۔ ان صدیوں میں لبرل ازم کے تصورات اپنے مخالفوں کے خلاف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ لوکی نے لبرل تصورات کو بادشاہت کے خلاف برطانوی تاجروں کی اشرافیہ کی حمائت میں استعمال کیا؛ اور افادیت(Utilitarian) کے نظریات کے حامل فلاسفروں نے لبرل ازم کو برطانوی سرمایہ داروں کی حمائت میں جاگیر داروں کے خلاف استعمال کیا۔اسی دوران انتہاء پسند فرانسیسی انقلابیوں نے خفیہ برطانوی حمائت سے لبرل ازم کو اپنی ریاست اور یورپ کی دوسری ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ امریکی سرمایہ داروں کے ایک گروہ نے اس تصور کو برطانیہ میں ایک گروہ کے خلاف استعمال کیا ۔ لبرل ازم کو بین الاقوامی سطح پر عثمانی خلافت کے خلاف استعمال کیا گیا اور اس کے خاتمے کے بعد اس تصور کو نئی دشمن آئیڈیالوجیز (نظریہ حیات) فاشزم اور کمیونزم کے خلاف استعمال کیا گیا۔ بل آخر اکیسویں صدی میں ایک بار پھر لبرل ازم کو اسلامی آئیڈیا لوجی کو اُبھرنے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ لہذا مخلص مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ لبرل ازم کے فلسفے کو جانیں اور مغرب کے ایک نظریاتی ہتھیار کے طور پر اس کا فہم حاصل کریں ۔
لبرل ازم آزادی کے تصور کی ترجمانی کرتا ہے(یہ لاطینی لفظ لیبر جس کا مطلب آزاد ہے سے نکلا ہے)، جو کہ ایک بہت ہی پُرکشش نعرہ ہے خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کا استحصال کیا جارہا ہو لیکن اس کا اصل مطلب عام زبان میں استعمال ہونے والے معنی سے مختلف ہے۔ لبرل کے عام معنی آزادی کے ہی ہیں یعنی کسی مخصوص روکاوٹ سے نجات حاصل کرنا جیسا کہ غلامی سے آزادی یا فوجی قبضے سے آزادی وغیرہ۔ لیکن سیاسی لحاظ سے آزادی کے معنی جیسا کہ لبرل ازم نے واضع کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو اس بات کی آزادی حاصل ہو کہ وہ جو چاہے عمل اختیار کرسکے۔ لہذا سیاسی معنوں میں آزادی کا مطلب یہ تصور بن گیا کہ انسان خودمختار(اقتدار اعلیٰ) ہے۔
یہ ضروری ہے کہ آزادی کے عام معنوں سے ہٹ کر انسان کے خودمختار بننے کے تصور اور اس کے نتائج کو سمجھا جائے۔ انسان کی خودمختاری کا مطلب یہ ہے کہ انسان دنیا کی زندگی میں اپنے لیے راہ کا تعین خود کرے، اسے اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کسی اور طاقت اور اقتدار اعلیٰ کے سامنے جھک جائے چاہے وہ ایسا اپنی مرضی سے ہی کیوں نہ کرے۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص آزادنہ طور پر بادشاہت کے زیر سایہ رہنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس نے اپنے اقتدار اعلیٰ(خود مختاری) سے دست برداری اختیار کرلی اور اس طرح اُس نے لبرل ازم کے تحت آزادی کے معنی کے الٹ راہ اختیار کی۔ انسان کا خودمختار (مقتدر) ہونا ہی وہ آزادی کا مقبول عام تصور ہے جو کہ مغربی تہذیب اور زندگی کے پیشتر نظاموں کی بنیاد ہے خصوصاً اس کے لبرل جمہوری حکومتی نظام اور اس سے نکلنے والے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی۔
آزادی کا مطلب طاقتور کے ہاتھوں انسان کی غلامی ہے
لبرل ازم آزادی کا مسحورکُن لیکن دھوکے پر مبنی تصور ہے ،جو طاقتوروں کے ہاتھ میں ایک انتہائی مہلک ہتھیار ہے۔ حقیقت میں ایک واحد انسان یا فرد روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا؛ لہذا بل آخر یہی ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے تجویز کردہ حل کو ہی اختیار کرتا ہے۔ لبرل معاشروں میں طاقتور لوگ مسائل کے اُن جوابات کی ترویج کرتے ہیں جو ان کے مفادات کو پورا کرنے کا باعث بنتے ہوں چاہے اس سے ایک عام شہری کا حق ہی کیوں نہ مارا جارہا ہو۔ سرمایہ دارانہ معیشت کاروباری اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے اور "نمائندہ " جمہوریت سیاسی اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ لبرل ازم کے تحت حاصل آزادی دراصل ایک عام آدمی کی طاقتوروں کے ہاتھوں غلامی ہے۔
حقیقت میں انسان اس بات کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا کہ وہ اپنی ذات میں خود اپنے آپ پر مقتدرہو۔ اقتدار اعلیٰ صرف اُسی کے لیے ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور صرف وہی ہے جو یہ جانتا کہ اُس نے انسان کو کیوں پیدا کیا اور صرف اُسی کے پاس انسان کی فطرت کے متعلق مکمل علم ہے۔ اپنے لیے غلط طریقے سے اقتدار اعلیٰ کا منصب حاصل کر کےاپنیخدائیکااعلانکردیاہے اور اس حق کو چھین لیا جو صرف اور صرف اُس ذات کے لیے مخصوص ہے جس نے اُسے پیدا کیا ہے ۔
انسان نے خود کو پیدا نہیں کیا بلکہ اسے پیدا کیا گیا ، انسان خود سے اپنی زندگی کا مقصد نہیں جانتا اورنہ ہی انسان کے پاس اپنی فطرت سے متعلق مکمل اور صحیح علم موجود ہے۔ انسان اس قابل ہی نہیں کے خود اپنے آپ پر مقتدر ہو بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بھی دوسری پیدا کی گئی یا بنائی گئی چیز خود پر مقتدر نہیں ہوتی یعنی وہ یہ نہیں جان سکتیں کہ انھیں کیوں بنایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ خدا کا انکار کرنے والے بھی یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ انھوں نے خود اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے، لہذا انسان کے لیے مقتدر ہونے کا دعویٰ کرنا ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ جس طرح انسان نے یہ دیکھا کہ اسے پیدا کیا گیا ویسے ہی اُسے اِس بات کی جستجو کرنی چاہیے کہ کس نے اُسے پیدا کیا ہے تا کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی عظمت کا معترف ہوسکے کیونکہ وہی اصل مقتدر ہے۔
لبرل ازم مذہب کا دشمن ہے
عیسائیت کے زیر سایہ ہزار برس سے بھی زائد عرصے تک رہنے کے بعد مغرب نے مذہب کو زندگی سے جدا کردیا اور لبرل ازم کو نئی تہذیب کی بنیاد کے طور پر اختیار کرلیا۔ لبرل ازم نے عیسائی دنیا کو یہ سوچ دے کر دھوکہ دیا کہ مذہبی آزادی کے تصور کے تحت وہ اپنے مذہب پر جس طرح چاہیں عمل کرسکتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں لبرل ازم مذہب کا مخالف تصور ہے جو تمام مذاہب کا دشمن ہے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ مذہب اپنی فطرت میں انسان کو اپنے سامنے جھکنے کا حکم دیتا ہے۔ کوئی بھی مذہب انسان کو مقتدر قرار نہیں دیتا اور اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق عمل اختیار کرے۔ مذہب انسان کو ایک مخصوص نظم و ضبط کا پابند کرتا ہے چاہے وہ نظم و ضبط اس کی پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہو یا صرف اخلاقی اور روحانی مسائل تک محدود ہو۔
لبرل ازم براہ راست مذہب سے ٹکراتا ہے کیونکہ لبرل ازم انسان سے اس بات کا تقاضع کرتا ہے کو وہ خود کو صرف اور صرف لبرل تصور کا پابند بنائے ۔ لبرل ازم اللہ سبحانہ و تعالی کی جگہ انسان کو رب بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس کا نقاب کو مسترد کرنا لبرل ازم کے عین مطابق ہے۔ نقاب اس بات کا مظہر ہوتا ہے کہ انسان نے خود کو اپنے رب کی خواہش کا پابند کردیا ہے اور یہ چیز پورے لبرل مغربی دنیا میں نفرت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے چاہے ان تمام ممالک نے اس کو غیر قانونی قرار نہیں دیا ہے۔ ایک حقیقی لبرل انسان مذہب کا پابند نہیں ہوسکتا ۔ ایک لبرل انسان مذہب کی کچھ باتوں پر عمل یا اجتناب اختیارکرسکتا ہے لیکن ایسا وہ اپنی مرضی اور خواہش کے تحت ہی کرتا ہے۔
لبرل انسان اپنے رب کی نہیں بلکہ خود اپنی پرستش کرتا ہے۔ یہ اس مقتدر کی پرستش ہے جسے اُس نے خود اپنے لیے چُنا ہے کہ اُس نے کس طرح سے سوچنا ہے اور اپنی خوشی کے مطابق عمل کرنا ہے۔ اگر وہ اپنے رب کی عبادت بھی کرتا ہے تو اس لیے نہیں کہ وہ خود کو اس بات کا پابند سمجھتا ہے بلکہ وہ ایسا اس لیے کرتا ہے کہ وہ اس کی خواہش رکھتا ہے۔ لبرل انسان اس بات میں خوشی محسوس کرتا ہے جب وہ کسیمسلمان کو نماز پڑھنے کے ساتھ ساتھ شراب پیتا ہوا بھی دیکھتا ہے۔ لبرل اس طرح کے مسلمان کو "اعتدال پسند" سمجھتا ہے، جس سے اُس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ مذہب میں اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔ ایک حقیقی لبرل انسان اس شخص سے شدید نفرت کرتا ہے جو خود کو اپنے رب کے سامنے مکمل طور جھکا دیتا ہے۔
آزادی نہیں ذمہ داری
آزادی کے اس تصور نے جس چیزکو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے وہ انسان کا ذاتی احساس ذمہ داری کا تصور ہے۔ انسان کو تخلیق کرنے والے رب نے اُس کو اپنی تمام تر تخلیقات سے برتر قرار دیا ہے کیونکہ رب نے اُسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا ہے جس کے ذریعے وہ صراط مستقیم اور بدی کی راہ کے درمیان تفریق اور کسی ایک کا چُناؤ کرسکتا ہے۔ اسلام میں ہر بالغ، عاقل فرد ہر اس معاملے میں ذمہ دار اور قابل احتساب تصور کیا جاتا ہےجس کو اس کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہو(فقہ کی اصطلاح میں انسان "مکلف"ہے)۔ لہذا اس پر لازم ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو اٹھائے جو اس پر ڈالی گئی ہے نہ کہ وہ یہ کہے کہ میں آزاد ہوں چاہوں تو اپنی ذمہ داری ادا کروں چاہوں تو نہ کروں۔ انسان پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان دو راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے اور وہ اپنے اس فیصلے پر قیامت کے دن جوابدہ ہوگا۔
ذمہ داری اور احتساب ، آزادی سے ایک بالکل مختلف شے ہے۔ آزادی تباہ کُن، باغیانہ اور مفاد پرستی کا تصور ہے جو انسان کو اپنی خواہشات اور مفاد کے تحت چلنے کی تعلیم دیتا ہے چاہے یہ اس کے لیے یا کسی دوسرے کے لیے کتنا ہی نقصان کا باعث ہی کیوں نہ ہو۔ ذمہ داری اس بات کا تقاضع کرتی ہے کہ انسان اس بات سے باخبر ہو کہ اس کے اٹھائے جانے والے قدم کا اس کے لیے اور دوسروں کے لیے کیا نتیجہ نکلے گا۔ ہر عاقل و بالغ شخص اس قابل ہوتا ہے کہ وہ روز مرہ کی زندگی میں اپنے اعمال پر ذمہ دار ہو سکے کیونکہ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ یہ جان سکے کہ اس کے اٹھائے ہوئے قدم کا اس کے لیے اور دوسروں کے لیے کیا نتیجہ برآمد ہوگا۔ یقیناً تمام مذاہب انسان کو اس دنیا کی زندگی میں اپنے اعمال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ کوئی بھی مذہب انسان کو آزادی فراہم نہیں کرتا ۔
لبرل ازام ایک جھوٹا فلسفہ ہے جس نے کئی نسلوں کو دھوکہ دیا اورعملاً طاقتور کو اقتدار اعلیٰ دے کر دنیا میں جبر اور استحصال کا ماحول پیدا اور عام کیا۔ یہ تصور پہلے ہی عیسائی اور اسلامی تہذیبوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاچکا ہے جنھوں نے دنیا پر ہزار سال سے بھی زائد عرصے تک اپنی بالادستی برقرار رکھی تھی۔ اب اس تصور کو اسلام کو دوبارہ ایک بالادست قوت بننے سے روکنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ لبرل ازم اپنی بنیاد سے ہی غلط ہے۔ لبرل ازم کے فلسفے میں کی جانے والی تبدیلیاں اس کی غلطی اور جھوٹ کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔ لبرل ازم کو مکمل طور پر مسترد کرنا ضروری ہے جس میں مسائل پر سوچنے اور ان کے حل تک پہنچنے کا طریقہ کار بھی شامل ہے جو کہ اس غلط تصور پر قائم ہے۔ مغربی تہذیب کو لازماً ختم کردینا چاہیے اور اس کی جگہ مذہب کی بنیاد پر ایک نئی تہذیب کو کھڑا کرنا چاہیے تا کہ انسان دوسرے انسانوں کی غلامی اور پرستش سے آزادی حاصل کرکے صرف اور صرف اپنے رب کی ہی عبادت کرسکے۔

Read more...

کل جماعتی کانفرنس افغانستان میں امریکی قبضے کو جاری رکھنے اور امریکی جنگ کو ہماری جنگ قرار دینے کے لیے منعقد کی گئی

تحریر: شہزاد شیخ
(پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان)
تاریخ:20ستمبر2013

خبر:

9 ستمبر 2013 کو حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس میں صرف سیاسی جماعتوں ہی نے شرکت نہیں کی بلکہ افواج پاکستان کی سینئر ترین قیادت، آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی اور ڈائریکٹر جنرل آئی۔ایس۔آئی ظہیر الاسلام نے بھی شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے باہر نکالنے کے لیے کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہونا تھا ۔ کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں امن کی خاطر حکومت قبائلی عوام کے ساتھ فوجی آپریشنز کی جگہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے۔

تبصرہ:

جیسے جیسے 2014 قریب تر آتا جارہا ہے ویسے ویسے امریکہ افغانستان سے انخلاء کے نام پر اپنے قبضے کو مستقل رکھنے کے لیے طالبان کے ساتھ کسی دیر پا معاہدے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تیزی لاتا جارہا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ نے طالبان کو قطر میں اپنا دفتر قائم کرنے کی اجازت دی اور پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کو حکم دیا کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا کریں۔ 9 ستمبر کو ہونے والی کل جماعتی کانفرنس بھی اسی امریکی ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے منعقد کی گئی۔اس کانفرنس میں حکومت کو یہ کہا گیا کہ وہ قبائلی لوگوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس کانفرنس نے اس امریکی جنگ کو یہ کہہ کر اپنا قرار دے دیا کہ "دہشگردی کےخلاف جنگ کےطریقہ کاراوروسائل کافیصلہ خودکرینگے"۔ تو اب اگر طالبان امریکی شرائط کے مطابق افغانستان سے محدود انخلاء کے منصوبے کو قبول نہیں کریں گے تو پاکستان فوری طور پر طالبان کے خلاف "ڈنڈا " اٹھا سکتے ہیں۔
یہ بات انتہائی قابل افسوس ہے کہ وہ جماعتیں جو دن رات اس امریکی جنگ سے پاکستان کو نکالنے کا مطالبہ کرتی رہتی ہیں انھوں نے بھی اس کانفرنس کے اعلامیہ پر دستخط کردیے۔ انھوں نے سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کی جانب سے اختیار کیے جانے والے اس موقف کی بھی تائید کردی ہے کہ یہ انخلاء پاکستان کی کامیابی ہے۔ حقیقت یہ ہے امریکی صدر اوبامہ سمیت کئی امریکی عہدیدار اس بات کا اظہار ایک سے زائد بار کرچکے ہیں کہ 2014 کے بعد بھی افغانستان میں امریکی افواج درجنوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں موجود رہیں گی ۔ ان ہزاروں امریکی افواج کے مستقل قیام کے لیے امریکہ افغانستان میں 9 فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ یہ بات بھی کئی موقعوں پر واضع کرچکا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ امریکہ کی نگرانی میں بنائے گئے افغانستان کے آئین کو لازماً قبول کیا جائے۔ ان تمام باتوں سے بڑھ کر اوبامہ اورکرزئی 2مئی2012 کو ایک سٹریٹیجک معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں جس کے تحت 2014 کے بعد بھی امریکہ کو افغانستان میں سیکیورٹی کے امور کے علاوہ بھی کام کرنے کی اجازت ہو گی۔
یہ صورتحال کس طرح پاکستان کی کامیابی ہوسکتی ہے؟ وہ ملک جو اپنے "کالے بجٹ" کا بڑا حصہ اپنے اعلانیہ دشمنوں ایران اور شمالی کوریا کے خلاف خرچ نہیں کررہا بلکہ پاکستان اور اس کے ایٹمی اثاثوں کی جاسوسی پر خرچ کررہا ہے ،اسے پاکستان کی دہلیز،افغانستان میں مستقل قیام کی اجازت دے دی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت افغانستان میں امریکی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے خلاف سازشوں کے سلسلے کوجاری رکھ سکے گا۔ یقیناً ہندو ریاست نے پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے افغان سرحد کے ساتھ قونصلیٹس کے پردے میں سینکڑوں اڈے قائم کررکھے ہیں ۔ تو پھر کس طرح پاکستان کی دہلیز پر ہزاروں امریکی افواج کی موجودگی پاکستان کی کامیابی ہوسکتی ہے؟
یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آمریت اور جمہوریت دونوں ہی امریکی مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور جو بھی جماعتیں ان دونوں میں سے کسی میں بھی شرکت کرتی ہیں کبھی بھی امریکی مطالبات اور احکامات سے روگردانی کرنے کی جراءت نہیں کرسکتیں۔ پاکستان میں صرف خلافت کا قیام ہی خطے سے امریکی راج کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ خلافت امریکی سفارت خانہ، قونصلیٹس، اڈوں اور نیٹو سپلائی لائن کو بند اور اس کے سفارتی و فوجی اہلکاروں کو ملک بدر کردے گی۔ اور اگر اس کے بعد بھی امریکہ نے اس خطے میں رہنے کی کوشش کی تو خلافت افواج اور مخلص مجاہدین کی مشترکہ طاقت کے ساتھ اس کے خلاف جہاد کا اعلان کردے گی۔

Read more...

مصر میں امریکہ ہی درحقیقت شکست کھا گیا

''واشگنٹن نے اپنے مفادات کے لیے مصر کو امداد دے کر یہ سوچ لیا تھا کہ وہ معملات کو قابو کرنے میں کامیاب ہو جائے گا جیسا کہ جیسا کہ ایک لمبے عرصے اس نے ایسا کیا ،مگر عنقریب مصر کے حوالے سے امریکی موقف تبدیل ہو جائے گا اور اس کا کردار محدود ہو گا،،-Steven A Cook. صدرمرسی کو ہٹانے کے بعد تین اہم مسائل پر بڑے پیمانے پر بحث کی گئی جو کہ یہ ہیں:
۔ انقلاب امریکی اشیر باد اور جنرل السیسی کے تقرر سے رونما ہو۔
۔ مرسی حکومت کے دوران سیاسی اسلام فیل ہو گیا،جس کا مطلب ہے کہ پورے خطے میں ایسا ہوا۔
۔ مرسی کے بعد تمرد(نافرمانی)کی تحریک اورعام اپوزیشن کوئی واضح تصور دینے میں ناکام ہوگئی،یہ غلط فہمی بھی کہ مبارک حکومت کے باقیات الاخوان اور حزب اختلاف سے بہتر ثابت ہوسکتے ہیں،تاہم ایک اور موجوع جس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا وہ ہے مصر میں امریکی بالادستی کا زوال ہے۔
1956 م میں جمال عبد الناصر کے مصر کی سیاسی زندگی میں ظہور کے ساتھ ہی مشرق وسطی میں امریکی پالیسی عروج حاصل ہو ا اور یہ بڑھتا گیا ،امریکہ پہلی بار مصر کے اثر ورسوخ کو عرب دنیا میں ان ممالک میں گھسنے اوراپنی سیاسی بالادستی قائم کرنے کے لیے دروازے کے طور پر استعمال کیا جو اس کے اثر ورسوخ سے باہر اور بر طانیہ کے زیر اثر تھے،یوں خطے کا سیاسی منظر نامہ بدل گیا اور مصر کے اندر اور اس سے باہر امریکہ کے اثر ونفوذ میں روز افزوں اضافہ ہوگیا،مصر پر امریکہ کا پنجہ عبد الناصر کی ہلاکت کے بعد بھی ڈھیلا نہیں ہوا بلکہ صدر السادات کے دور میں بھی بدستور اس کی بالادستی قائم رہی اور اس کے بعد حقیقی عبد الناصر امریکی مفادات کے مخلص محافظ (حسنی مبارک)زمانے میں بھی یہی حال رہا،صورت حال 2011 م جوں کا توں رہی یہاں تک کہ مبارک کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجات شروع ہوگئے جن سے مصر میں امریکی بالادستی لڑکھڑانے لگی،امریکہ کے پاس عام لوگوں کی سیاسی بیداری اور اسلام کی حکمرانی کے لیے ان کے جوش اور ولولہ کے مقابلے کے لیے سوائے اس کے کوئی آپشن باقی نہ رہا کہ مصر میں سیاسی منظر نامے میں ترجیح تکمیل پر نظر ثانی کی جائے اور بلا آخر اخوان المسلمین کے ساتھ اپنے مفادات کی حفاظت اور امریکی بالادستی کو استحکام دینے کے بدلے سودابازی پر مجبور ہوا،یوں مرسی اور الاخوان کو مبارک کی پرانی حکومت کے باقیات کے ساتھ یکجا کر کے ایک نیا سیاسی میڈیم وجود میں لایا گیا جس پر فوج کی نظر رہے گی۔جوں ہی امریکہ نے اپنے سامنے سے روکاوٹیں ہٹادی اس کو اظمئنان ہو گیا،مطمئن کیسے نہ ہو سوئیس کنال حسب دستور کام کررہا ہو،اسرائیل کی حفاظت برقرار ہو،مصر کو غزہ سے ملانے والے سرنگوں کو معلوم ہو تے ہی منہد م کیا جارہا ہو،حماس مکمل طور پر قابو میں ہو،مرسی نئی لبرل اقتصادی پالیسی کو نافذ کرنے میں مصروف ہو!
لیکن ہوائیں امریکہ کے خوہشات کے مخالف سمت چلنے لگیں،امریکہ اور اس کا مدد گار مرسی خطے میں سیاسی استحکام کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئے،امریکہ کی جانب سے مرسی کی حد سے زیاد حمایت نے مصر کے رائے عامہ کو ان کے خلاف کر دیا،مرسی مخالف جذبات سے سب سے پہلے اپوزیشن نے فائدہ اٹھا یا اور مصر کے سیکیولر باشندوں اور مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کے قلوب واذہان پر ایک مختصر مدت کے لیے چھا گیا،یہی وہ طبقہ ہے جس نے صرف ایک سال قبل حزب الحریہ والعدالہ( Party Freedom and Justice)اور مرسی کو مصر کے سیاسی منظر نامے میں نمایاں کیا تھا اب اس کے خلاف ہو گیا اور اس کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔
امریکہ نے عوام کے اندر مرسی کی مقبولیت میں کمی کو محسوس کیا اور چند مہینے پہلے فوج کے ذریعے اس کے تختے کو الٹنے کا منصوبہ بنا یا،اپوزشن کو مکمل سول نافرمانی کے لیے تیار کیا گیا آخرکار فوج انقلاب کے ذریعے مرسی کو برطرف کیا گیا،امریکہ نے یہ اعتراف کرنے سے انکار کردیا کہ یہ فوجی انقلاب تھا،یوں امریکہ پھر مربع کے نمبر ایک پہ پہنچ گیا اور مبارک کی ظالم حکومت کے باقیات سے بغلگیر ہو گیا،اب امریکہ یہ باور کرانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے کہ جو کچھ ہو یہ انقلاب نہیں!
آج امریکہ کو مصری عوام کے غصے کا سامنا ہے،عالمی رائے عامہ کو جاننے کے لیے پیو سنٹر کے سروے کے مطابق مئی 2013 میں مصریوں کی صرف 16٪ نے امریکہ کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا(آج اس بات کا اندازہ لگانا کسی کے لیے مشکل نہیں کہ مثبت رائے رکھنے والوں کی تعداد کتنی ہو سکتی ہے)،ناصری سیاست دانوں نے اپنا اعتبار کھودیا،الاخوان کے حمایتی غصے میں ہیں،وہ وقت بھی دور نہیں کہ فوج بھی عوام کی نظروں سے گر جائے گی۔
اگر امریکہ کسی بھی طریقے سے مبارک کے باقیات اور نئے ناتجربہ کارٹکنوکریٹ جیسے البرادعی کی مدد سے حکومت تشکیل دینے میں کامیاب بھی ہو گیا تو ہم یہ سوال کر سکتے ہیں کہ :''مصر کا مستقبل کیا ہو گا؟!،،کسی دور جانے کی ضرورت نہیں ان حکومتو کو دیکھنے کی ضرورت ہے جو امریکہ نے افغانستان،عراق،لبنان اور پاکستان میں تشکیل دی،سیدھی بات یہ ہے کہ امریکہ ان ممالک میں فیل ہو چکا ہے،امریکہ بڑے پیمانے پر اس کے خلاف پیدا ہونے والے جذبات کے سامنے بہت کمزور ہوچکا ہے،دوسرے ملکوں جیسے لیبیا،شام اور صومال میں بھی اس کی پوزیشن اچھی نہیں۔
زیادہ امکان اسی کا ہے کہ مصر کا تجربہ بھی امریکی پالیسی کی ناکامیوں میں ایک اضافہ ہو گا، مصر کی صورت حال ناگفتہ بہ ہے،زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ ملک میں افراتفری بڑھے گی،مختصرا اب امریکہ پہلے کی طرح عظیم طاقت نہیں رہا،اب وہ بڑی تیزی سے عالم اسلام میں اپنی بالادستی اور اعتبار کھو رہا ہے،ممکن ہے کہ مصر ہی امریکہ کی کمر توڑنے کا سبب بن جائے،بہت سے تجزیہ نگار امریکہ کے ساک میں برق رفتار گراوٹ کا عندیہ دے رہے ہیں، انگریزی رسالہSpectator Magazine کہا ہے کہ:"امریکی بالادستی اب اس حد تک زوال کا شکار ہے کہ اوباما نے زیادہ تر عالمی چودھراہٹ سے دستبردار ہو گیا ہے،،وقت ہی اس بات کی سچائی کو ثابت کرے گا۔

عابد مصطفی

Read more...

لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے خلاف سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں کا ردعمل انتہائی شرمناک ہے تحریر: شہزاد شیخ (پاکستان میں حزب التحریر کے ڈپٹی ترجمان) تاریخ:16 اگست 2013

خبر: پاکستان اور بھارت میں اچانک کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب بھارتی حکومت نے یہ دعویٰ کیا کہ 6 اگست کو پاکستان کے فوجیوں نے جموں میں لائن آف کنٹرول پر واقع پونچھ سیکٹر میں سارلہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے پانچ بھارتی فوجیوں کو قتل کردیا ہے۔ حکومت پاکستان نے اس قسم کی مداخلت کے واقع سے مکمل انکار کیا ہے۔ اس واقع کے بعد نہ صرف لائن آف کنٹرول پر،جو کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مقبوضہ کشمیر میں سیئز فائر لائن ہے، بلکہ بین الالقوامی سرحد پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ بھارتی حکومت نے پہلے سے طے شدہ سیکریٹریز کی سطح کے مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کردیا بلکہ اب یہ افواہیں بھی سرگرم ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان نیویارک میں اقوامی متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات بھی منسوخ ہوجائے گی۔
تبصرہ: 2003 میں مشرف کے دور حکومت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ ہوا تھا۔ لیکن 2013 کی شروعات سے اب تک بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی سو سے زائد خلاف ورزیاں کی جاچکی ہیں۔ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور بین الالقوامی سرحدوں پر کشیدگی میں اضافے، پاکستانی شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتوں کے باوجود ،پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غداروں نے ،جن کی قیادت نواز شریف اور جنرل کیانی کررہے ہیں، انتہائی نرم اور کمزورردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جنرل کیانی نے 13اگست2013 کو کاکول ملٹری اکیڈمی میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب میں بھارتی جارحیت پر کسی سخت ردعمل کا اظہار نہیں کیا بلکہ واشنگٹن میں موجود اپنے آقاوں کی مرضی کے مطابق کیانی نے قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی بھارتی جارحیت کے مقابلے میں اندرونی سیکیوریٹی کے مسائل اس وقت قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اسی طرح نواز شریف نے بھی کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کی اور ماضی کو بھول جانے کا درس دیا۔
سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار مشرف کے وقت سے ہی قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے چاہیے چاہے اس کے لیے مقبوضہ کشمیر سے بھارتی قبضے کے خاتمے اور بھارت بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے انتہائی برے سلوک کے خاتمے کے مطالبے سے ہی کیوں نہ دست بردار ہونا پڑے۔لہذا یہ غدار حکمران بھارت سے تعلقات کو مضبوط بنا رہے ہیں ،اسے "پسندیدہ ترین ملک" قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت سے ایک ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی خریدنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔
در اصل ان غداروں کا یہ رویہ اور طرز عمل عین امریکی پالیسی کے مطابق ہے۔ امریکہ پاکستان کو ایک چارے کے طور پر استعمال کر کے بھارت کو اپنے حلقہ اثر میں لانا چاہتا ہے تا کہ وہ چین کو اس کی سرحدوں تک محدود رکھنے کے لیے بھارت کو اس کے خلاف استعمال کرسکے ۔ بھارت اس وقت اس امریکی منصوبے کے مطابق کردار ادا نہیں کرسکتا جب تک اس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق نہ ہوجائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ پاکستان کو بھارت پر انحصار کرنے والا ملک بنا دینا چاہتا ہے تا کہ جب خلافت قائم ہو تو وہ کمزور ہو۔
ایک طاقتور مسلمان ملک کے حکمرانوں کا یہ ردعمل انتہائی شرمناک ہے کہ جس کی آبادی اٹھارہ کروڑ ہو اور جس کے پاس دنیا کے ساتویں بڑی فوج بھی موجود ہو۔ اگر بولیویا، ایکواڈور اور وینیزویلا جیسے ممالک، جونہ صرف انتہائی کمزور ہیں بلکہ امریکہ کے پڑوسی بھی ہیں، امریکی احکامات کو نظرانداز کردیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں امریکی سفارت کاروں ملک بدر بھی کردیتے ہیں تو پھر دنیا کے واحد مسلم ایٹمی طاقت پاکستان امریکی احکامات کو مسترد اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب کیوں نہیں دے سکتا؟ ایک عزت دار اور باوقار ردعمل پیش کرنے کے بجائے سیاسی و فوجی قیادت میں موجود غدار امریکی پالیسیوں کے نفاذ اور ملکی خودمختاری کی تذلیل کے لیے کسی بھی حد تک گرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
صرف خلافت ہی پاکستان کو اس کمزور اور رسوا کن صورتحال سے نکالے گی اور اس کو وہ مقام دلائے گی جس کا یہ اپنی صلاحیت اور طاقت کی بنا پر حقدار ہے۔

Read more...
Subscribe to this RSS feed

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک